Today news

Wednesday, August 31, 2022

امریکہ خطے میں سعودی عرب کو نیا کردار سونپنے کیلئے کوشاں

 علی احمدی

Wednesday 31-8-2022

افغانستان میں خواتین اور انسانی حقوق کیلئے امریکہ کی خصوصی ایلچی رینا امیری نے حال ہی میں سعودی اخبار "عکاظ" سے ایک انٹرویو کے دوران افغانستان میں خواتین کی صورتحال اور خطے میں سعودی عرب کے کردار سے متعلق امریکی موقف کی وضاحت کی ہے۔ انہوں نے کہا: "مسلم اکثریت والے ممالک کو چاہئے کہ وہ افغانستان میں رونما ہونے والے بڑے المیے کے بارے میں آواز اٹھائیں۔" رینا امیری نے افغانستان میں خواتین کی حالت انتہائی افسوسناک قرار دی اور کہا کہ سعودی عرب، جسے اسلامی دنیا میں خاص مقام حاصل ہے، طالبان کے مقابلے میں ترقی یافتہ اور روشن خیال نظریات پیش کر سکتا ہے۔ انہوں نے اسلامی ممالک خاص طور پر سعودی عرب سے مطالبہ کیا کہ وہ مسلمان ممالک کے درمیان موجود سیاسی اور اقتصادی تعلقات کو بروئے کار لاتے ہوئے افغانستان میں خواتین کی بھرپور حمایت کریں۔
 
افغانستان میں خواتین اور انسانی حقوق کیلئے امریکہ کی خصوصی ایلچی کا مزید کہنا تھا: "خلیج تعاون کونسل اور اسلامی تعاون تنظیم جیسے ادارے افغان شہریوں میں یہ احساس پیدا کر سکتے ہیں کہ وہ تنہا نہیں ہیں اور اسلامی دنیا میں ان کے بھائی اور بہنیں ان کے ساتھ کھڑے ہیں اور اسلام کے دائرے میں رہتے ہوئے ان کے حقوق کا دفاع کریں گے۔" رینا امیری کے اس انٹرویو کا اہم ترین نکتہ سعودی عرب کیلئے اس نئے کردار کی وضاحت ہے جو انہوں نے ایک امریکی حکومتی عہدیدار ہونے کے ناطے بیان کی ہے۔ انہوں نے سعودی عرب کو ایسے ملک کے طور پر پیش کیا ہے جسے عالم اسلام میں ایک خاص مقام حاصل ہے۔ درحقیقت امریکی ایلچی نے اپنے اس بیان کے ذریعے اس ملک کو خطے میں نیا کردار پیش کرنے کی کوشش کی ہے جسے سابق امریکی صدر نے "دودھ دینے والی گائے" قرار دیا تھا۔
 
رینا امیری نے کہا ہے کہ سعودی عرب کو اسلامی دنیا میں ایک خاص مقام حاصل ہے لیکن جب ہم موجودہ زمینی حقائق کا جائزہ لیتے ہیں تو دیکھتے ہیں کہ ان کی اس بات میں کوئی حقیقت نہیں پائی جاتی۔ حقیقت یہ ہے کہ امریکہ اور سعودی عرب دونوں حتی اس قابل بھی نہیں کہ وہ انسانی حقوق یا اسلامی تعلیمات کے بارے میں اظہار خیال کریں۔ امریکی اور سعودی حکمرانوں کا نامہ اعمال اس قدر انسانیت کے خلاف جرائم سے بھرا پڑا ہے کہ ان کے منہ سے ایسی باتیں سن کر ہنسی آتی ہے۔ خاص طور پر افغانستان میں اور اس ملک کے شہریوں کے خلاف انجام پانے والے امریکی جرائم کسی کی نگاہ سے ڈھکے چھپے نہیں ہیں۔ مزے کی بات یہ ہے کہ خود رینا امیری کے دوست بارہا اقوام متحدہ کی انسانی حقوق کی کاونسل میں سعودی حکمرانوں پر انسانی حقوق کی خلاف ورزی کے الزامات عائد کر چکے ہیں۔
 
2006
ء میں اقوام متحدہ کے ذیلی ادارے کے طور پر انسانی حقوق کی کاونسل تشکیل پانے کے بعد ہر چار سال میں ایک بار اقوام متحدہ کے رکن ممالک میں انسانی حقوق کی صورتحال کا تفصیلی جائزہ لینے کا منصوبہ بنایا گیا۔ اس منصوبے کے تحت سعودی عرب میں انسانی حقوق کی صورتحال کا 2009ء اور 2013ء میں دو بار جائزہ لیا جا چکا ہے۔ اس جائزے میں مختلف قسم کے موضوعات کے بارے میں تحقیق انجام پاتی ہے اور انسانی حقوق کے تقریباً تمام شعبوں کا جائزہ لیا جاتا ہے۔ ان میں سے ایک اہم شعبہ خواتین کے حقوق کا ہے۔ انسانی حقوق کی کاونسل کے جائزوں میں سعودی عرب میں خواتین کے حقوق کے بارے میں گہری تشویش کا اظہار کیا گیا ہے۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ آج رینا امیری سعودی عرب کو افغانستان میں خواتین کے حقوق کا علمبردار بننے کی دعوت دینے میں مصروف ہے۔
 
رینا امیری اچھی طرح جانتی ہے اور یقیناً توجہ نہیں کرنا چاہتی کہ سعودی عرب وہ ملک تھا جس نے اسلامی دنیا کے مختلف حصوں میں "وہابیت" اور "تکفیریت" جیسے نجس افکار پھیلائے جن کی روشنی میں نہ صرف اہل تشیع بلکہ اپنے علاوہ تمام اسلامی فرقوں کے پیروکاروں کو کافر قرار دیا جاتا رہا ہے۔ اس کی ایک واضح مثال سعودی عرب کے معروف مذہبی رہنما محمد العریفی، جو وزارت مذہبی امور کی جانب سے ریاض مسجد کے امام جماعت بھی تھے، کا وہ فتوی ہے جو انہوں نے یکم جنوری 2010ء کے دن نماز جمعہ کا خطبہ دیتے ہوئے دیا۔ انہوں نے سعودی عرب سمیت پوری اسلامی دنیا سے اہل تشیع کو ختم کر دینے کا فتوی دیا۔ انہوں نے اعلانیہ طور پر کہا کہ اہل تشیع حقیقی مومن نہیں ہیں اور ان کے نظریات کفر پر مبنی ہیں۔ سعودی حکمرانوں کی جانب سے اس فرقہ وارانہ بیان پر کوئی ردعمل سامنے نہ آیا۔
 
دوسری طرف سعودی ولیعہد شہزادہ محمد بن سلمان کا گستاخانہ بیان تھا جس میں اس نے واضح طور پر کہا کہ وہ جنگ اور بدامنی ایران کے اندر تک لے جانا چاہتا ہے۔ سعودی حکمرانوں کی جانب سے اسرائیل کی غاصب صہیونی رژیم سے دوستانہ تعلقات استوار کرنے کی کوشش اور یمن کے خلاف ظالمانہ جنگ کا آغاز اس بات کا واضح ثبوت ہے کہ سعودی عرب خطے میں وہ کردار ادا نہیں کر سکتا جس کی امریکہ کوشش کر رہا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ واشنگٹن اپنے سیاسی اہداف کے حصول کی خاطر اسلامی دنیا میں "دودھ دینے والی گائے" کو ایک نیا کردار سونپنا چاہتا ہے۔ لیکن وہ اس حقیقت سے غافل ہے کہ گذشتہ ایک عشرے کے دوران اسلامی معاشروں میں رونما ہونے والے واقعات کی بدولت آل سعود رژیم کا حقیقی چہرہ کھل کر سامنے آ گیا ہے۔

حرم سے حرم تک، نجف تا کربلا (2)

 توقیر کھرل

Wednesday 31-8-2022

اہلِ عراق کی بے مثال خدمت
 
ایک موکب پر عراقی نوجوان بلند آواز سے مسافروں کا استقبال کر رہے تھے:
اے زائرو خوش آمدید!
اے خوش نصبیوں خوش آمدید!
میری نظر ایک بینر پر پڑی، جس پر صاحبِ موکب کے بزرگوں کی تصویریں آویزاں تھیں۔ اس پر درج تھا "خادمین ِزوارِ حسینؑ۔" اہلِ عراق زائرین کے خدام ہونے پر فخر کرتے ہیں، اپنے نام کے ساتھ خادم ِزوار لکھتے ہیں، جیسے ہم حج و زیارت کی ادائیگی کی بعد لکھتے ہیں زوار، حاجی۔۔۔۔ عراقی بہت کریم ہیں، کیوں نہ ہوں، وہ کریم ِکربلا کے زائرین کے خدام ہیں۔ تاریخ میں کسی تحریک میں اس قدر شفقت اور کریمانہ خدمت کی مثال تلاش کرنے سے بھی نہیں ملتی۔ نجف سے کربلا پیدل زیارت کرنے والوں کیلئے عراقیوں کی خدمت دیکھنے سے تعلق رکھتی ہے، ایسی محبت کہ جس کا نظارہ کہیں اور نظر نہیں آتا، ایسی چاہت کہ دل جس کا معترف ہو جائے، ایسی اپنائیت کہ اجنبیت کا احساس مٹ جائے، ایسا ماحول کہ جس میں آپ ایک بار جا کر ہمیشہ کیلئے کھو جائیں، ایسا منظر کہ جس کا نظارہ آپ کی آنکھوں میں گھر کر لے، ایسا سفر کہ آپ کو جنت کا احساس ہو۔

عراقیوں کی خدمت کی اور کیا مثال دوں، ایک عراقی نے بتایا کہ "سال بھر ماہِ صفر کا انتظار کرتے ہیں، کب ماہِ اربعین کا آغاز ہو، کب دنیا بھر سے امام ؑ کے عُشاق آئیں، تاکہ ہم ان کی خدمت کرسکیں۔ ہم ان کی خدمت کیلئے ہر وہ چیز لے آتے ہیں، جو ہمارے پاس ہوتی ہے۔" سارا سال انتظار کرتے ہیں، تاکہ بے مثال خدمت کریں، لیکن کریمِ کربلا کی کرامت سے ہمارا رزق کم نہیں ہوتا، مزید بڑھ جاتا ہے۔ ہم تو دعا کرتے ہیں، ہمارا نقصان ہی ہو جائے، ہم زائرین کی خدمت کرتے ہوئے امام سے کچھ مانگتے تو نہیں، مگر ہمارے رزق میں برکت اور فراوانی ہو جاتی ہے، جو ہمارے کسی اور عمل سے نہیں ہوتی۔" اہلِ عراق کی بیشتر تعداد مالدار نہیں ہے، لیکن زائرین کی بے مثال خدمت کرتے ہیں۔ کسی کے پاس اگر شامی انڈہ بنانے کی سکت ہے یا شوارما بنانے کی، چائے کا سٹال لگانے کی استطاعت ہے تو خلوصِ دِل سے اہتمام کرتا ہے۔

مہمان نوازی کے مناظر نجف سے کربلا دیکھنے کو تو ملتے ہیں، کربلا کی طرف تمام راستوں پر اس سے مختلف مناظر نہیں ہوتے۔ پیدل سفر کے دوران ہر عراقی کو ہاتھ جوڑ کر ایک ہی بات کہتے سنا کہ امام ؑکے نام پر رک جاﺅ، دستر خوان سے کچھ کھا لو۔ خدمات کی عجیب مثال قائم کرتے ہیں، جس سے جیسے بھی ممکن ہو، زائرین سے محبت کا اظہار کرتا ہے۔ جہاں سے بھی گزر ہو، آپ کو خوش آمدید کی آوازیں آتی ہیں۔ کربلا کے راستے میں زائرین کے لئے کیمپ میں ایک عراقی کو زائرین کو خدمت کرتے ہوئے دیکھا تو اس سے پوچھا، آپ زائرین کی دل و جان سے خدمت کرتے ہیں، جب یہ کروڑوں لوگ اپنے وطن واپس چلے جاتے ہیں تو آپ کو کیسا لگتا ہے۔؟ جانتے ہیں کہ دن رات زواروں کی خدمت کرنے والے شخص نے کیا کہا، اس شخص نے بہت ہی خوبصورت جواب دیا: "جب یہ زائرین یہاں سے روانہ ہو جاتے ہیں تو گویا ہماری روح ہی نکل جاتی ہے، طویل انتظار کا سلسلہ شروع ہو جاتا کہ کب اربعین کے دن آئیں گے اور ہم زائرین کی خدمت کریں گے۔"

اس روحانی سفر کے مسافر ایک دوسرے کو "زائر" سے مخاطب کرتے تھے۔ ایک دوسرے کی مدد کرتے تھے۔ اگر کسی بوڑھی خاتون نے زیادہ بوجھ اٹھایا ہوا ہے تو اس کی مدد کی جاتی۔ وہیل چئیر پر سفر کرنے والے معذور کو راستہ دیا جاتا، بچے، بوڑھے، خواتین اور جوانوں کی کثیر تعداد شامل تھی، ان میں زیادہ تعداد نوجوانوں کی تھی، جو سینوں پر ہاتھ مارتے ہوئے، مرثیہ پڑھتے ہوئے، قدم بہ قدم بڑھتے جاتے ہیں۔ بوڑھے کمر سے چادر باندھے چستی اور پھرتی سے، جوان پرعزم قدموں سے کربلا کی سمت بڑھتے چلے جا رہے تھے۔ راہ چلتے نماز ظہرین کا وقت ہوا تو قافلے رکے۔ سب نے وضو کیا، ہر موکب میں نماز قائم ہوئی۔

ظہر کی نماز ادا کی تو دیکھا دو اہلسنت بھائی بھی نماز ادا کر رہے تھے، جھٹ سے کیمرہ نکالا اور تصویر بنالی۔ نماز ادا ہو رہی تھی، کربلائے 61 ہجری باخدا بہت یاد آئی، نماز کے بعد مولانا صاحب نے خطاب کرتے ہوئے فرمایا: "امام حسین ؑ نے تیروں کے سائے میں نماز ادا کی، جنگ میں بھی نماز کو ترک نہ کیا، امام کا کربلا کے صحرا میں دشمنوں کے نرغے میں نماز ادا کرنا، اسلام اور حق کی فتح کا اعلان تھا، نماز تو یزیدی بھی پڑھ چکے تھے، ان کی پوری کوشش تھی کہ امام حسینؑ ؑنماز ادا نہ کرسکیں۔ امامؑ کے اصحاب ِباوفا نے تیروں کو اپنے سینوں پر لیا، شہادت کا جام نوش کیا، یوں دفاعِ امام اور شعارِ اسلامی کا بے مثال دفاع کیا۔" ہم نے نماز ادا کرنے کے بعد کھانا کھایا، کچھ دیر ایک موکب میں استراحت کی اور پھر باقی کا سفر مکمل کرنے کو چل پڑے۔

شکریہ یاحسینؑ ہمیں یکجا کر دیا
راہِ عشق کے مسافروں کی زبانیں مختلف تھیں۔ کوئی فارسی، عربی، ترکی، استبولی تو کوئی اردو میں بات کر رہا تھا، زیادہ تعداد اہلِ ایران کی تھی، فارسی زبان یہاں سب سے زیادہ بولی جا رہی تھی، اس کے باوجود یہاں اپنائیت تھی، کوئی کسی سے دریافت نہیں کر رہا تھا کہ تم کون ہو؟ کہاں سے ہو؟ کہاں سے آئے ہو؟ کیونکہ سب کی منزل ایک ہی تھی، یعنی کربلا۔ جغرافیائی سرحدوں کا فرق مٹ چکا تھا، زبانوں کا کوئی خیال نہیں رہا تھا، گورے کالے رنگ کا فرق بھی ختم ہوگیا تھا۔ سب کا ایک ہی رنگ تھا، یعنی حسینؑ کا رنگ، سب کی زبان پر ایک ہی جملہ تھا، لبیک یاحسینؑ۔۔ کربلا کے اس روحانی اور بابرکت سفر میں سب سرحدی، سیاسی اختلاف کو بھلا چکے تھے۔ عراقی ایرانیوں کی خدمت کر رہے تھے۔ دونوں ممالک آٹھ سال جنگ میں رہے، مگر آج عراقی اور ایرانی باہم متحد نظر آرہے تھے۔ پاکستانی، بھارتی اور بنگالی بھی سارے اختلافات کو یکسر بھلا کر پرچمِ حُسینؑ تلے یکجا نظر آئے۔ چند کلومیٹر کی دوری پر پاکستانیوں کا موکب نظر آیا۔ ندیم سرور کی آواز میں سپیکر پر نوحہ خوانی ہو رہی تھی، بھارتی مسافر بھی یاحسینؑ کی صدا میں پاکستانی بھائیوں کے ہمراہ کھڑے تھے۔

عراقی، ایرانی، پاکستانی، بھارتی، یمنی، سعودی، افریقی، لبنانی، بحرینی اور مصری دل و روح سے امام عالی مقام کے شکرگزار تھے کہ امام حسین ؑنے انہیں ایک راہ اور ایک منزل پر یکجا کیا ہے۔ سب کو ایک نئی شناخت مل گئی تھی۔ راہیانِ سفر عشق و شعور، حسینِؑ زمان کے منتظرین اور زائرین کربلا ذرا بھی اجنبیت محسوس نہیں کرتے ہیں۔ َسب امام حسینؑ کی محبت میں متحد تھے اور منزل کی طرف بڑھ رہے تھے۔ ایک ایسا سفر طے کر رہے تھے، جو دنیا بھر کی سیاحت سے بہترین سیاحت ہے، جس میں روحانیت ہے، حیرت بھی۔ شام کے سائے ڈھلنے لگے تھے، ہر فرد مطمئن قلب کے ساتھ خدا کی رضا میں حرمِ امام ؑکی طرف گامزن تھا۔ درمیانی سٹرک پر پیدل چلنے والوں کی کثیر تعداد تھی، سڑک کی دوسری جانب شاہراہ پر گاڑیاں رواں دواں تھیں، جن پر کچھ مسافر سوار ہوکر کربلا جا رہے تھے۔ روڈ کے دوسری طرف کئی موکب تھے، نجف سے کربلا مجموعی طور پر 7 ہزار سے زائد موکب ہوتے ہیں۔ موکب کے نام شہدائے کربلا کے ناموں سے منسوب تھے، قبائل کے نام پر بھی اور کچھ موکب حرم ِ امامؑ کے نام پر نظر آئے۔

راستے کے اطراف میں کئی امام بارگاہیں ہیں، عراقی رات کو زائرین کو اپنے گھروں میں مہمان بناتے ہیں۔ شام ہوتے ہی مواکب میں تِل دھرنے کی جگہ نہیں ہوتی۔ زائرین مغرب کی نماز ادا کرنے کے بعد تہجد کی نماز تک استراحت کرتے ہیں۔ اذانِ مغرب ہوئی تو نماز ادا کی۔ مواکب میں آرام کیلئے تلاش کی تو معلوم ہوا کہ مواکب زائرین سے بھرچکے ہیں۔ مجھے پریشانی لاحق ہوئی، ایک موکب کے پاس ایک عراقی کو صدا لگاتے سنا، وہ اپنی زبان میں اپنے گھر لے جانے کی دعوت دے رہا تھا۔ ساتھ میں کچھ اور بھی عراقی آواز لگا رہے تھے۔ ہر ایک کی خواہش تھی کہ زائرین کو مہمان بنالیں۔ وہ عربی میں بتاتے تھے کہ سونے کے لئے بستر اور کھانے میں مرغوط غذائیں ہیں، ہمارے ساتھ چلیں۔ ابھی یہ فیصلہ نہیں ہوا تھا کہ مجھے کس میزبان کے ساتھ جانا ہے، ایک عراقی نے میرا ہاتھ تھام لیا اور کہا میرے گھر میں کچھ ایرانی ہیں، آپ آجائیں، بالکل میں چل پڑا۔

اجنبی گھر میں اپنائیت
یہ علاقہ مین شاہراہ سے الگ تھا، راستے کی ویرانی اور اندھیرے سے انجانا خوف بھی آیا، اطمینان تھا کہ امام کی راہ میں نکلیں ہیں تو مولا وارث ہیں، گھر بوسیدہ تھا، مگر میزبان کا دِل پُرخلوص تھا۔ مہمانوں کے کمرے میں حضرت علی ؑ کی خیالی تصویر آویزاں تھی، ایسی تصویریں اہلِ عراق عمومی طور پہ لگاتے ہیں، مراجع کا بھی فتویٰ ہے کہ امام کی یا کسی مقدس شخصیت کی تصویر بشرطِ اس میں سے نقص نہ نکلے، خوبصورت ہو، بنانا اور لگانا جائز ہے۔ میں نے کمرے کی کچی دیوار پر مولا کی تصویر دیکھی تو مزید مطمئن ہوا۔ نرم بستر کمرے میں لگا دیئے گئے تھے۔ پُرتکلف ضیافت کے بعد قہوہ پیش کیا گیا، موبائل چارج کرنے کا انتظام بھی تھا۔ یہ عزت و اکرام صرف اس لئے تھا کہ ہم سب امام حسینؑ کے مہمان تھے۔

سونے کا ارادہ کرتے ہوئے تہجد کی نماز کیلئے الارم لگایا، گھر میں قیام کے دوران مجھے اجنبیت محسوس نہیں ہوئی۔ کچھ دیر استراحت کی۔ نمازِ شب ادا کی، شاندار پذیرائی پر میزبان کا شکریہ ادا کیا۔ تازہ دم ہوکر پھر سے کربلا کی راہ پر چل پڑے۔ کچھ فاصلہ طے کرنے کے بعد ایک موکب میں نماز فجر ادا کی۔ یہاں کی صبح بہت خوبصورت تھی، میرے لبوں پر دعائے صبح کے جملے سجے ہوئے تھے: "اے خدا میری صبح کو صالحین کی صبح قرار دے، اے خدا میری صبح کو خیر والی صبح قرار دے۔" دعا و مناجات کے بعد ناشتہ کیا۔ عراقیوں کے کھانے میں فلافل معروف ہے، ساتھ اگر قہوہ ہو جائے تو ناشتہ کافی ہوتا ہے، کھجور کے 2 دانے بھی طاقت بخشنے کو کافی ہوتے ہیں۔

پیادہ روی، ظہور کی طرف ایک قدم
کربلا کی طرف سفر جاری تھا، موکب سے موکب، قدم سے قدم، گویا چشمِ زدن ہر سانس مجھے امام ؑسے قریب تر کر رہی تھی۔ مجھے اپنی یادوں میں امام زمانہ (عج) کے ظہور کی نشانیوں سے منسوب احادیث یاد آرہی تھیں۔ "امام زماں جب آئیں گے تو ان کے سپاہی جو در جوق اپنے اپنے علاقوں سے امام کی طرف سفر کریں گے، وہ اس قدر تیز رفتاری سے امام کی طرف پہنچیں گے کہ جیسے پلکیں جھپکتے ہی کوئی کسی مقام پر موجود ہوگا، پھر ہر دم تیار اور ایستادہ لشکر ہوگا۔" یہ سب تو ضرور ہوگا۔ میں حیرت میں مبتلا تھا کہ اب بھی تو ویسا ہی منظر ہے، جو ہم نے کتابوں میں پڑھا تھا، اب بھی تو قافلے امام کی طرف ایسے ہی رواں دواں ہیں، جیسے امام مہدی کے ظہور کے وقت ہوں گے۔ یہ اربعین ملین مارچ، یہ نجف سے کربلا پیادہ روی دراصل امام مہدی کے ظہور کی طرف ایک قدم ہے۔ ایک تیاری ہے، ایک ارادہ ہے، عزم ہے، جھلک ہے اور ایک وعدہ ہے کہ جب امام ظہور فرمائیں گے تو ہم سب ایسے ہی امام کے لشکر کا حصہ بنیں گے، ان شاء اللہ۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔(جاری ہے)۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

سیلابوں کے بدلتے انداز اور ہم

 ڈاکٹر ندیم عباس

Wednesday 31-8-2022


روایتی طور پر ہمارا علاقہ دریائے راوی کے آس پاس کے تیس چالیس کلومیٹر پر مشتمل ہے۔ دریاوں کا رخ موڑنے اور ڈیموں کی قید میں ڈالنے سے پہلے جولائی اگست سیلاب کے مہینے شمارے ہوتے تھے۔ اس میں حکومت کی طرف سے اعلان وغیرہ کا نظام اور خبریں تو بہت بعد میں آئیں، پہلے ہمارے لوگ خود سے سیلابوں کے لیے تیار رہتے تھے۔ انہیں معلوم ہوتا تھا کہ سیلاب کا مقابلہ اپنی مدد آپ کے تحت کرنا ہے۔ سامان کا زیادہ چکر نہیں ہوتا تھا، بس کھانے پکانے کی اشیاء ہی ہوتی تھی اور وہ بھی ضرورت تک محدود ہوتی تھیں۔ سیلاب کے تین ماہ مال مویشیوں کو دریا سے دور رشتہ داروں کے ہاں بھجوا دیا جاتا تھا۔ خاندان کے حساب سے آٹا پسوا کر رکھ لیا جاتا۔ خواتین میٹھی روٹیاں بنا کر رکھ لیتی تھیں، جنہیں ایک ماہ تک استعمال کیا جا سکتا تھا اور ساتھ میں ستو، تل اور کئی روایتی چیزیں خشک حالت میں رکھ لی جاتی تھیں۔ اس کا یہ نتیجہ نکلتا کہ بھوک کا پکا انتظام ہو جاتا، مال مویشی اور بچے محفوظ ہوتے۔ لوگ کاموں میں لگے رہتے، جیسے ہی سیلابی پانی آتا یہ بڑے بڑے ٹیلوں پر اجتماعی صورت میں ڈیرے ڈال لیتے۔ اگر خدا نخواستہ پانی ٹیلوں تک پہنچتا تو اگلے مرحلے میں انہوں نے بڑے مضبوط درخت حفاظت سے لگائے ہوتے، فوراً ضروری چیزیں اور خود ان درختوں پر منتقل کر لیا جاتا۔ ہماری خاندانی یادشتوں میں درختوں پر سیلاب میں پناہ لیے ہوئے اور جانوروں بالخصوص سانپوں کے ساتھ ہونے والے ٹکراو کا بہت بار سنا۔

آبادی کے بڑھ جانے اور ضروریات زندگی کو بڑھا لینے کی وجہ سے اب سیلاب سے مقابلے کے وہ ذرائع بہت پرانے ہوچکے ہیں اور ایک بڑی مصیبت یہ ہے کہ پاکستان میں اس وقت جو سیلابی صورتحال بنی ہوئی ہے، اس کی وجہ دریا کا سیلابی پانی نہیں ہے۔ دریائی علاقے کے لوگ سیلاب سے نسلوں سے نمٹ رہے ہیں، اس لیے وہ ناصرف سیلاب کا احتمال رکھ کر سارے امور کو انجام دیتے ہیں، بلکہ سیلاب آنے کی صورت میں کیا کرنا ہے، اس سے بھی آگاہ ہوتے ہیں۔ انہیں دریا کی سطح سے پتہ چلتا ہے کہ اگر یہ پانی باہر نکالے گا تو کہاں تک مار کرے گا۔ آپ حیران ہوں گے کہ  دریائی علاقے کے لوگوں کی اس موسم کی فصلیں بھی ایسی ہیں، جو سیلابی ریلا اگر ایک حد تک رہ کر وہاں سے گزرے تو وہ فصل دو گنا اچھی ہو جاتی ہے اور سیلاب کی اٹ سے اگلے پانچ سال تک فصلوں کو قدرتی کھاد مل جاتی ہے۔

اس وقت بارش کے سیلاب نے تباہی مچائی ہوئی ہے، اس لیے یہ نئے راستے بنا رہا ہے اور خطرہ یہ ہے کہ بہت سے سے علاقوں میں پانی جمع ہو جائے گا اور اسے نکالنا وبال جان بن جائے گا، کیونکہ کھڑے پانی میں پیدا ہونے والی بیماریاں تباہی کا باعث بنیں گی۔ ایک تو فصلیں تباہ ہو جائیں گی، دوسرا جانوروں کی اموات ہوں گی اور مچھر کی بہتات سے ملیریا اور دیگر بیماریوں کا سلسلہ شروع ہو جائے گا۔ وطن عزیز آج جس صورتحال کا سامنا کر رہا ہے، اس پر فوری طور پر سیلاب کے ماہرین کی تحقیقی ٹیمیں لگ جانی چاہیں، اس سال تو جو کچھ ہوا سو ہوا، یہ اب ہر سال ایسا ہونے کے امکانات ظاہر کیے جا رہے ہیں، اگر ایسا ہی ہوتا ہے تو بہت تباہی ہماری منتظر ہے۔ اس سے صرف اور صرف موثر منصوبہ بندی ہی بچا سکتی ہے۔

دیہاتی علاقے تو دیہاتی علاقے، آج شہری علاقے بھی تباہی کا شکار ہیں۔ خیرپور، حیدر آباد اور دیگر کئی بڑے شہروں میں باقاعدہ کشتیوں میں سامان گھروں میں پہنچایا جا رہا ہے۔ تونسہ میں اچانک آنے والے ریلے نے بہت تباہی مچائی ہے اور لوگوں کو سنبھلنے کا موقع ہی نہیں دیا اور سب کچھ ساتھ بہا کر لے گیا۔ ہمارے دوست سید مولانا سید محمد علی ہمدانی اور مولانا سید سفیر سجاد شیرازی صاحب اس وقت تونسہ میں ہیں، بڑی ہی دردناک خبریں سنا رہے ہیں۔ ابھی ان کا میسج آیا: "سیلاب زدگان کی خدمت کے دوران ہمارا سامنا زمین پر بیٹھی ایک ایسی بوڑھی اماں سے ہوا، جن کی سات بیٹیاں ہی ہیں، جن میں سے ایک معذور بهى تهی۔ تنکا تنکا جوڑ کر بیٹیوں کا جہیز بنایا، پر سیلاب کی اک لہر گھر سمیت سب امیدیں بھی بہا لے گئی، باقی بچی تو بس بے بسی کی ایک دردناک داستان۔" اس جیسے کئی ہولناک مناظر، آہیں سسکیاں اور ٹوٹتے حوصلے درد آشنا مسیحاؤں کے منتظر ہیں اور اب فوری ضرورت ہے۔

ہم بھی عجیب قوم ہیں، ویسے تو جہاں بھی سیلاب اور دیگر آفات آتی ہیں، وہاں ایسے مناظر دیکھنے کو ملتے ہیں، مگر ہمارے ہاں ایسا نہیں ہونا چاہیئے تھا۔ سیلاب سے پہلے ایک سے چار ہزار میں دستیاب خیمہ ابھی بیس ہزار تک جا پہنچا ہے، دالوں سمیت خشک راشن کے ریٹ آسمان سے باتیں کر رہے ہیں۔ خدا کا خوف کرنا چاہیئے اور ان سیلاب زدگان کی بھرپور مدد کرنی چاہیئے، نہ کہ اس موقع کو خدمت کی بجائے کاروباری اتار چڑھاو کی نذر کرنا چاہیئے۔ ایک اور المیہ یہ ہے کہ بہت سے علاقوں سے پیشہ ور بد اخلاق اور جسیم لوگوں نے علاقے میں ڈیرے ڈال لیے ہیں، اصل مستحقین تو اپنے گھروں کے ملبے پر حیران و پریشان ہیں۔ یہ گھس پیٹھیے سڑکوں کے کنارے سے ہی سینہ زوری کرکے مال لوٹ رہے ہیں۔ ان سے انسانیت مر چکی ہے، اسی لیے ایسا کر رہے ہیں۔ ان ظالموں کو ریاستی ادارے بھی لگام دینے کی کوشش کر رہے ہیں۔ تقسیم کرنے والوں کی ذمہ داری ہے کہ وہ اصل مستحقین تک پہنچیں۔ بنیادی ریلیف کافی ہوچکا ہے اب ان کی مستقل بحال پر کام ہونا چاہیئے۔ ہم سب کی یہ انسانی ذمہ داری ہے کہ اپنے ان بہن بھائیوں کا درد محسوس کریں اور ان کی اپنی بساط کے مطابق مدد کریں۔

مفتی جعفر حسین مرحوم، خاک میں کیا صورتیں ہونگی کہ پنہاں ہوگئیں

 ارشاد حسین ناصر

Wednesday 31-8-2022

مفتی جعفر حسین قبلہ مرحوم ایک ایسا نام ہے، جسے پاکستان کی ملت تشیع کو کسی بھی طرح فراموش کرنا، ان کے ملت پر ان گنت احسانات کی ناشکری کرنے کے مترادف ہوگا۔ مفتی صاحب مرحوم کا تعلق پنجاب کے شہر گوجرانوالہ سے تھا، وہ حکیم چراغ دین کے منجھلے صاحبزادے تھے۔ قبلہ مفتی جعفر حسین نے گوجرانوالہ میں جامعہ جعفریہ کے نام سے ایک دینی درسگاہ بر لب جی ٹی روڈ قائم کی، وسیع و عریض رقبہ پر مشتمل اس درسگاہ کو ملت نے ان کی رحلت کے بعد اس طرح اہمیت نہیں دی، جس کا حق رکھتی تھی۔ اب یہ مدرسہ و عظیم یادگار علامہ سید جواد نقوی کی ٹیم کے ہاتھ میں آچکا ہے، جہاں احباب کے مطابق اب اسکول قائم ہے۔ عجب ہے کہ ہمارے دونوں قائدین مفتی جعفر حسین قبلہ اور علامہ سید عارف حسین الحسینی شہید کے خوابوں کے مراکز، جنہیں حوزوی تعلیم و تدریس کیلئے بڑی لگن اور محنت سے بنایا گیا تھا، اب اسکولز میں تبدیل ہوچکے ہیں۔ پشاور مدرسہ میں شہید کے بنائے مدرسہ میں دینی طلاب نہ ہونے کے برابر ہیں جبکہ یہ تین منزلہ خوبصورت بلڈنگ ہے، یہ کسی پر تنقید نہیں بلکہ ایک درد مندانہ بات ہے، قابل غور نکتہ ہے، دعوت فکر و عمل ہے۔

مفتی صاحب ایک انتہائی ادبی شخصیت کے مالک تھے، وہ اہل زبان تھے اور صاحب قلم تھے۔ ان کے پاس اردو کے الفاظ کا جو ذخیرہ تھا، شاید ہی کسی اور میں دیکھا گیاہو۔ انہوں نے ایک کتاب بعنوان سیرت امیرالمومنین ؑ تحریر فرمائی، جبکہ مولا علی ؑ کے خطبات و خطوط و کلمات قصار کے معروف مجموعہ نھج البلاغہ کا ترجمہ و تشریح کی، جسے خاص و عام میں بے حد پسند کیا جاتا ہے۔ آپ کے اردو ترجمہ کو ادبی ذوق رکھنے والے حضرات اور الفاظ کی قدر جاننے والوں کے ہاں بہت اہمیت دی جاتی ہے، جبکہ مفتی صاحب قبلہ نے صحیفہ کاملہ کا بھی ترجمہ و تشریح کی ہے۔ ان سے بڑے کا نام محمد حسن اور ان سے چھوٹے کا نام منظور حسین تھا۔ جعفر حسین 1914ء میں پیدا ہوئے، وہ اپنے بھائی سے دو سال چھوٹے تھے مگر تعلیمی لحاظ سے دونوں بھائیوں میں ایک جماعت کا فرق تھا، جو ایک موقعہ پر جا کار یہ فرق بھی ختم ہوگیا، بڑے بھائی بیماری کے سبب ایک سال تعلیمی سرگرمیاں جاری نہ رکھ سکے اور یوں دونوں بھائی ایک ہی کلاس کے طالبعلم ہوگئے۔

مفتی صاحب کا گھرانہ حکمت و طب میں بہت نامور تھا، ان کے چچا حکیم شہاب الدین جنہیں طب میں مہارت حاصل تھی، ادبی لحاظ سے بھی ایک مقام رکھتے تھے اور انہیں اردو، فارسی، پنجابی میں شاعری سے شغف تھا۔ چچا حکیم شہاب الدین نے ہی جعفر حسین کی پرورش اور تربیت اپنے ذمہ لی تھی۔ کہتے ہیں کہ چچا کی تربیت اور تعلیم جعفر حسین کے قلب و نظر کو پاکیزہ اور روشن کرنے کا سبب بنی۔ انہیں کم سنی میں ہی معصومین و اہلبیت عظام ؑ کے حالات زندگی اور کارہائے نمایاں سے مکمل آگاہی حاصل ہوئی، جس سے وہ بے حد متاثر ہوئے۔ آئمہ طاہرین ؑکی حیات مبارکہ اور سیرت رسول خدا ؐ کے نورانی پہلوئوں بالخصوص خدمت خلق، فقر و صبر و سادہ زیستی نے انہیں ان صفات کو اپنے اوپر لاگو کرنے اور عملی انسان بننے کا خوگر بنا دیا، جس کو تاآخر انہوں نے قائم رکھا۔ وہ بچپن سے ہی اپنے تایا چچا کی تربیت و رہنمائی میں نماز و روزہ کی پابندی اور کم کھانے کے عادی بن چکے تھے اور انہیں ایام جوانی سے پہلے ہی تقریریں کرنے بالخصوص مقدس ہستیوں کے حالات زندگی بیان کرنے کا شوق تھا۔

صرف پانچ برس کی عمر میں انہیں قرآن و عربی کی تعلیم دی جانے لگی، جبکہ دو سال بعد یعنی سات سال کی عمر میں حدیث و فقہ کی تعلیم اپنے مہربان و نگہبان چچا سے حاصل کرنا شروع کی۔ عربی حدیث و فقہ کی تعلیم چچا کے علاوہ مولانا چراغ علی خطیب مسجد اہلسنت اور حکیم قاضی عبد الرحیم جو مدرسہ ندویہ لکھنو کے فارغ التحصیل تھے، سے بھی حاصل کی۔ کہتے ہیں کہ صرف بارہ برس کی عمر میں جعفر حسین طب، حدیث، فقہ اور عربی زبان پر کافی عبور پا چکے تھے اور مختلف خصوصیات کی بدولت صاحبان علم کو متوجہ کئے ہوئے تھے۔ اسی دوران موچی دروازہ لاہور کے مرزا احمد علی مرحوم نے انہیں دیکھا تو ان میں موجود پوشیدہ خصوصیات کو بھانپ گئے اور اس جوہر کمال کو اپنے ساتھ لکھنو لے گئے۔ یہ 1926ء کی بات ہے، اس وقت لکھنوء علم و تہذیب کا گہوارہ، فصاحت و بلاغت میں ایک نام رکھتا تھا۔ یہاں ادب و ثقافت اپنے اوج پر تھے، لکھنئو میں آپ کو مدرسہ ناظمیہ میں جناب مولانا ابو الحسن عرف منن کے سپرد کر دیا گیا۔

لکھنئو میں آپ سید علی نقی صاحب، جناب مولانا ظہور الحسن صاحب اور مفتی احمد علی صاحب سے بھی کسب فیض حاصل کرتے رہے اور بحر علم سے مستفیض ہونے کے ساتھ ساتھ اپنی علمی منازل کو طے کرتے رہے۔ اس علمی و ادبی و ثقافتی بلندی کے ماحول میں رہ کر آپ کے خیالات و افکار میں بھی تنوع پیدا ہوا اور انہیں مختلف خیالات و افکار کو پختہ کرنے کا بھرپور موقعہ ملا۔ آپ نے یہاں رہ کر تہذیب نفس پر بھی توجہ رکھی اور اس سے کبھی بھی غافل نہ ہوئے۔ لکھنئو میں اپنے ادبی ذوق کو بھی خوب پروان چڑھایا، اس مقصد کے لئے ایک انجمن بنام انجمن مقاصدہ کے پلیٹ فارم سے ادبی سرگرمیوں میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیتے، آپ اس انجمن مقاصدہ کے ایک عرصہ تک ناظم بھی رہے۔ لکھنئو میں آپ کے تمام اساتذہ اس بات پر متفق تھے کہ جعفر حسین ایک بلند اور روشن ستارہ بن کر سامنے آئے گا اور یہ نام روشن کرے گا۔ نو سال تک مسلسل علم دین کی گہرائیوں کو سمجھنے کی جدوجہد میں آپ نے کئی اعزازات اور نمایاں کامیابیاں سمیٹیں۔

اس کے بعد 1935ء میں مزید تعلیم اور علوم اہلبیت ؑسے مستفید ہونے کیلئے اس وقت کے حوزہ علمیہ نجف اشرف عراق تشریف لے گئے، وہان پانچ برس تک مسلسل فقہ کی تعلیم حاصل کی۔ آپ کی خوش قسمتی کہ نجف میں آپ کو آقائے ابوالحسن اصفہانی جیسے صاحب شریعت اور عالم باعمل استاد میسر آئے، نجف میں بھی قیام کے دوران آپ کی خودداری اور زندگی کے ڈھنگ ویسے ہی رہے، آپ کسی پر بوجھ بننے کے بجائے بھوک و فاقہ کو اختیار کرتے تھے، نجف اشرف عراق میں قیام کے دوران آپ کی ملاقات اظہر حسن زیدی صاحب سے ہوئی، جن سے بعد ازاں گہری دوستی و رفاقت قائم ہوگئی۔ مولانا اظہر حسن زیدی بعد ازاں بلند پایہ خطیب اور ادبی نابغہ کے طور پر معروف ہوئے، ان کی تقاریر آج بھی خطباء کو مکمل رہنمائی فراہم کرتی ہیں۔ نجف میں پانچ برس قیام اور علوم آل محمد ؑ سے فیض یاب ہونے کے بعد آپ واپس لوٹے، اس وقت آپ کا تعارف مفتی جعفر حسین کے نام سے ہوا۔ آپ نے پہلے دو برس تو نوگانواں سادات ضلع مراد آباد میں بطور دینی مدرس گزارے، اس کے بعد آپ واپس اپنے آبائی علاقہ گوجرانوالہ تشریف لے آئے۔

 29
اگست کا دن ان کی رحلت جانگداز کا دن ہے، زندہ قومیں اپنے محسنوں اور رہبروں کی یادیں تزک و احتشام اور شایان شان طریقہ سے مناتی ہیں۔ وہ جنہوں نے قوم پر احسان کئے ہوتے ہیں، جنہوں نے قوم کیلئے قربانیاں دی ہوتی ہیں، جنہوں نے اپنی ذات پر قوم و ملت کو ہر معاملے میں ترجیح دی ہوتی ہے۔ ہم اہل تشیع اس حوالے سے بڑے ہی خوش قسمت ہیں کہ ہمارے پاس ایسی ہستیاں ہیں، جنہیں معصوم سمجھتے ہیں اور جو خدا کے خاص الخاص ہیں، جن کی زندگیاں روشن اور تابندہ و درخشندہ ہیں۔ ہم وہ ہستیاں اور رہبران رکھتے ہیں، جنہوں نے ایسا کردار ادا کیا کہ تاریخ ان کا تذکرہ نہ کرے تو مکمل نہیں ہوتی۔ ہمارے پاس وہ ہستیاں اور رہبر موجود ہیں، جن کا تذکرہ کرکے ان کی یاد منا کر ہم اپنے نئی نسل کے سامنے سرخرو ہوسکتے ہیں۔ ہمارے پاس آئمہ و معصومین ؑ اور ان کے نائبین برحق کی اتنی بڑی تاریخ ہے کہ ہر زمانہ اور دور ان کے کردار سے روشن ہے۔ ہر علاقہ و منطقہ ان سے مستفید ہوا ہے، ہر خطہ و ریاست ان سے رہنمائی لیتی رہی ہے۔

ہمارا خطہ جسے ارض پاک و ہند کہا گیا ہے، بھی اس حوالے سے بہت ہی خوش قسمت ہے کہ یہاں ایسی ہستیوں نے جنم لیا، جن کی یاد منا کر ہم ان کے احسانات کا بدلہ چکا سکتے ہیں۔ کسی حد تک حق ادا کرسکتے ہیں۔ اس خطہ ارضی پر بھی ہمارے مکتب کے ایسے نابغہ روزگار پیدا ہوئے، جنہوں نے اس مکتب کی ایسی خدمت کی کہ رہتی دنیا تک ان کی خدمات یاد رکھی جائیں گی۔ موجودہ نسل کو ایسے بندگان خدا کی زندگیوں، ان کی ملی و مکتبی و دینی خدمات سے روشناس کروانا، تاکہ وہ اس امانت کو اگلی نسلوں میں منتقل کرسکیں، از حد ضروری ہے، ہم دیکھتے ہیں کہ دوسرے ممالک میں اس طرح کی شخصیات کے نام پر ادارے بنائے جاتے ہیں، ان کے نام کو زندہ رکھنے کیلئے ڈاک ٹکٹ جاری کئے جاتے ہیں، ان کے نام پر تعلیمی وظائف لگائے جاتے ہیں اور ایسی نابغہ روزگار شخصیات کے نام پر ہسپتال، لائبریریز، اسکولز، یونیورسٹیز، مدارس قائم کئے جاتے ہیں۔ اس طرح یہ شخصیات اگلی نسلوں تک زندہ رہتی ہیں، ان کا کام بھی انہیں زندہ رکھتا ہے۔

ہمارا ملک جو قبل ازیں برطانیہ کے قبضہ میں تھا اور ایک مشترک معاشرہ تھا، جس میں مسلمان، ہندو، سکھ اور عیسائی سب ایک ساتھ رہتے تھے۔ اس کی آزادی سے قبل کتنے ہی ادارے ہمیں نظر آتے ہیں، جو کسی انگریز، کسی سکھ، کسی ہندو کے نام پر قائم ہیں۔ کئی زمینیں اور جائیدادیں اب بھی ایسے ٹرسٹوں کے نام پر ہیں، جو کسی ہندو کی تھی، کسی سکھ یا انگریز کی تھی۔ کتنی شاہراہیں اور سڑکیں ہیں، جو ایسے ہی ناموں سے شناخت اور پکاری جاتی ہیں، جنہوں نے اس خطے میں کسی حوالے سے سماج کی خدمت کی، ان کا نام آج بھی زندہ ہے۔ یہ زندہ قوموں کی نشانی ہے کہ وہ اپنے ہیروز اور محسنوں کو نہیں بھولتیں، لاہور جو ایک تاریخی شہر ہے، کے اسپتالوں کو ہی دیکھ لیں، کالجز کے نام ہی دیکھ لیں، بڑی بلڈنگوں کے نام ہی دیکھ لیں تو اندازہ لگ جاتا ہے۔

مفتی جعفر حسین قبلہ انتہائی بے باک اور نڈر انسان تھے، حق گوئی و بے باکی ان کا وطیرہ اور شان تھی۔ آپ بے حد نڈر اور بے باک تھے۔ آپ صاف گو تھے اور کسی کو اندھیرے میں نہیں رکھتے تھے۔ اپنا ہر کام انتہائی جانفشانی اور لگن و محنت سے کرتے تھے۔ آپ دیانت و صداقت کی چلتی پھرتی تصویر تھے۔ آپ کی تمام زندگی انتہائی سادگی اور تصنع و بناوٹ سے بہت دور رہ کر گزری۔ ان کی سادگی کی ان گنت مثالیں آج بھی بچے بچے کو یاد ہیں۔ کئی جگہوں پر وہ جب مجلس پڑھنے یا دورہ پر گئے اور کپڑوں کو دھونے کی ضرورت محسوس کی تو انہوں نے کسی میزبان کو زحمت دینے کی بجائے خود ہی لباس دھو لیا جبکہ وہ قائد ملت جعفریہ تھے اور علمی لحاظ سے اتنا بلند مقام رکھتے تھے کہ ان کی خدمت کرنا ہر ایک اپنے لئے سعادت و خوشبختی سمجھتا۔ اسی طرح کئی ایک جگہوں پر اس وقت کی عمومی سواری تانگہ میں سوار ہو کر چلے جاتے، لوگ ان کی سادگی کو دیکھ ششدر و حیران رہ جاتے تھے کہ ایک قوم کا قائد جو علم و فضل میں کسی سے بھی کم نہیں تھے، اتنے سادہ اور بناوٹ و رکھ رکھائو کے دنیاوی تقاضوں سے دور ہیں۔

مفتی جعفر حسین قبلہ مرحوم ایک مرتبہ اسلامی نظریاتی کونسل کے رکن اور دو بار اسلامی مشاورتی کونسل کے رکن منتخب کیئے گئے۔ ان کے ساتھ دینی خدمات سرانجام دینے کیلئے علامہ حافظ کفایت حسین اور علامہ رضی مجتھد ہوتے تھے۔ آپ نے 1951ء میں علماء کے بائیس نکات پر متفق ہونے کی تحریک میں بھرپور کردار ادا کیا، اس تحریک میں آپ کے ساتھ علامہ حافظ کفایت حسین مرحوم بھی فعال کردار ادا کر رہے تھے۔ جب جنرل ضیاء الحق شب خون مار کر اقتدار پہ قابض ہوا تو اس نے اسلامائزیشن کا نعرہ لگا کر اہل پاکستان کو بےوقوف بنانے کی کوشش کی، اس نے مخصوص فقہ کے نفاذ کا اعلان کیا، اسی دوران 30 جون کے دن حکومت نے زکوٰۃ آرڈیننس جاری کیا، جس میں مکتب تشیع کے نقطہ نظر کو یکسر نظر انداز کیا گیا۔ اس ماحول میں مشاورت اور باہمی تجاویز کے بعد شہید باقر الصدر کی المناک شہادت کے حوالے سے ہونے والے کنونشن کو نفاذ فقہ جعفریہ کے عنوان سے منانے کا اعلان ہوا، جس کی توثیق قائد ملت جعفریہ نے بھی کر دی۔

اگرچہ آپ ایسے کسی بھی اجتماع اور احتجاج جس سے کسی بھی بندہ مومن کی جان جانے کا خطرہ ہوتا، اس کی اجازت نہیں دیتے تھے، مگر اس کنونشن پر آپ راضی ہوئے اور اسلام آباد پوری قوم کو بلایا۔ اس کیلئے ملک بھر کے تنظیمی دورے نہیں کئے، بس پریس کانفرنس کی تو قوم بھی آپ کی آواز پر چلی آئی۔ آج بھی اس تاریخ کو یاد کیا جاتا ہے۔ اس کنونشن میں جہاں دیگر تنظیموں اور شخصیات نے اہم کردار ادا کیا، وہاں ڈاکٹر محمد علی نقوی شہید اور نوجوانان امامیہ(آئی ایس او پاکستان) نے بھرپور کردار ادا کیا۔ ہاکی گرائونڈ اسلام آباد میں ہونے والے اس کنونشن میں ملک بھر سے ملت جعفریہ کے سپوتوں، علماء ذاکرین، زعمائے ملت، شعرائے قوم، طالبعلموں نے بھرپور شرکت کی اور اپنے جذبات و احساسات کو ملکی سطح پر حکمرانوں تک پہنچائے۔ قائد ملت جعفریہ علامہ مفتی جعفر حسین نے اس جلسہ اور احتجاج کی صدارت کی۔ وزارت مذہبی امور اور صدر مملکت سے مذاکرات کے کئی دور چلے اور بالآخر حکومت کو ملت جعفریہ کے سامنے گھٹنے ٹیکنے پڑے اور ایک معاہدہ روبہ عمل لایا گیا، جس کی رو سے یہ طے ہو کہ جو بھی اسلامی قانون بنے گا، اس میں فقہ جعفری کا خیال رکھا جائے گا اور زکوٰۃ آرڈیننس میں بھی ترمیم کرنے کا معاہدہ کیا گیا۔

ایسا نہیں تھا کہ اہل تشیع زکوٰۃ دینے سے انکاری تھے بلکہ حکومت کے طریقہ کار اور کرنسی نوٹوں پر زکوٰۃ دینے کے شرعی مسئلہ پر اپنا جدا موقف رکھتے تھے، جس پر احتجاج کیا گیا۔ ملت جعفریہ کی اس جدوجہد کا فائدہ آج بلا تفریق تمام مسالک کے لوگ اٹھا رہے ہیں۔ مفتی جعفر حسین قبلہ کی جدوجہد کا یہ باب کسی بھی طور بھلایا نہیں جاسکتا۔ آج جب پاکستان کے لاکھوں لوگ اسلام آباد میں اپنے مطالبات کے حق میں پارلیمنٹ ہائوس کے سامنے سراپا احتجاج ہیں تو ملت جعفریہ کی تاریخی جدوجہد کے مناظر بھی آنکھوں کے سامنے گھوم جاتے ہیں۔ اس کنونشن میں شورکوٹ کا ایک جوان شاد حسین شہید ہوا۔ شہید قائد نے اسی معاہدہ کی یاد دہانی اور عمل درآمد کروانے کے مطالبے کے ساتھ 6 جولائی 1985ء کو یوم احتجاج کا اعلان کیا تھا، جس میں کوئٹہ میں حکومت نے بدترین ظلم کیا اور سولہ لوگ شہادت سے ہمکنار ہوئے۔ قوم کا یہ عظیم محسن، سادگی کی منفرد مثال پیپھڑوں کے سرطان میں مبتلا ہوگئے تھے تو میو ہسپتال لاہور، پھر لندن اور لندن سے پھر واپس لاہور لائے گئے۔ ان کا انتقال 29 اگست 1983ء کو میو ہسپتال لاہور میں ہوا اور کربلا گامے شاہ لاہور میں دفن کئے گئے۔ جنازہ میں ملک بھر سے علماء، عوام کے جم غفیر اور تمام طبقہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والی شخصیات کے علاوہ اعلیٰ حکومتی عہدیداران نے بھی شرکت کی۔

 

 

 

علامہ مفتی جعفر حسینؒ کی زندگی پر ایک نظر

 سید عدیل زیدی

Wednesday 31-8-2022


مرحوم قاٸد ملت جعفریہ پاکستان علامہ مفتی جعفر حسینؒ کی شخصیت پاکستان کے مذہبی منظر نامہ میں ایک جانی پہچانی اور اپنا منفرد مقام رکھتی ہے، گذشتہ روز آپ کی 39ویں برسی ایام عزاء کیوجہ سے عقیدت و احترام کیساتھ منائی گئی۔ آپ کا شمار پاکستان کے معروف علماء میں ہوتا ہے، آپ عظیم داعی اتحاد بین المسلمین، عالم باعمل، بے مثال مصنف و مترجم اور شجاع و بااصول سیاسی و مذہبی شخصیت کے مالک تھے۔ مفتی جعفر حسینؒ نے حکیم چراغ دین کے گھر میں 1914ء کو گوجرانوالہ میں آنکھیں کھولیں۔ آپ نے ابتدائی تعلیم پانچ برس کی عمر میں اپنے چچا حکیم شہاب الدین سے حاصل کرنا شروع کی، قرآن مجید اور عربی سیکھنے کے بعد سات سال کی عمر میں احکام اور حدیث بھی انہی سے پڑھنا شروع کیا۔ احکام و حدیث کی تعلیم چچا کے علاوہ خطیب مسجد اہلسنت چراغ علی اور حکیم قاضی عبدالرحیم سے بھی حاصل کی۔ 12 سال کی عمر میں حدیث، فقہ، طب اور عربی زبان شروع کی۔
1926ء کو آپ لکھنٶ میں مدرسہ ناظمیہ چلے گئے، جہاں سید علی نقی، ظہیر الحسن اور مفتی احمد علی سے کسب فیض کیا۔ 1935ء کو مزید علم کے حصول کے لئے نجف اشرف تشریف لے گئے اور پانچ برس کے قیام کے دوران علامہ سید ابوالحسن اصفہانی جیسے اساتذہ سے کسب فیض کیا اور پانچ برس کے بعد وطن واپس لوٹے تو آپ مفتی جعفر حسین کے نام سے مشہور ہوگئے۔ 1948ء کو لاہور میں بعض علماء کرام کیساتھ ملکر آپ نے ادارہ تحفظ حقوق شیعہ پاکستان کی بنیاد رکھی اور اس کے پہلے صدر منتخب ہوئے۔ 1949ء میں آپ تعلیمات اسلامی بورڈ کے رکن منتخب ہوئے۔ 1979ء میں جب سابق فوجی آمر جنرل ضیاء الحق نے نفاذ اسلام کے چند جزوی اقدامات کا اعلان کیا، جن میں ایک زکواۃ کی وصولی کا بھی تھا، مگر اس اعلان میں فقہ جعفریہ کو بالکل نظرانداز کر دیا گیا تھا۔ مفتی جعفر حسین نے اس وقت ایک پریس کانفرنس بلاکر حکومت کو الٹی میٹم دیا کہ اگر فقہ جعفریہ کے پیروکاروں کے لئے باقاعدہ طور پر فقہ جعفریہ کے نفاذ کا اعلان نہ کیا گیا تو وہ اسلامی نظریاتی کونسل کی رکنیت سے احتجاجاً مستعفی ہو جائیں گے۔
جب فوجی ڈکٹیٹر نے اپنا رویہ نہ بدلا تو مفتی جعفر حسین نے اپنے اعلان کے مطابق استعفیٰ دے دیا، شیعہ قیادت نے آل پاکستان شیعہ کنونشن منعقد کرنے کا فیصلہ کیا، جس میں ایک متحدہ قومی پلیٹ فارم کی تشکیل کرکے اپنے ملی حقوق کے حصول کے لئے منظم تحریک چلانے کا منصوبہ بنایا گیا۔ چنانچہ 12 اور 13 اپریل 1979ء کو بھکر میں ایک بھرپور قومی کنونشن منعقد ہوا، جو تاریخ پاکستان میں آج بھی شیعیان حیدر کرار کے بڑے اجتماعات میں شمار ہوتا ہے۔ اس کنونشن میں پہلی بار متفقہ طور پر باقاعدہ شیعہ قیادت کا انتخاب عمل میں لایا گیا۔ اس کنونشن مین علامہ مفتی جعفر حسین کو شیعیان پاکستان کا متفقہ طور پر قائد تسلیم کیا گیا اور فضاء ’’ایک ہی قائد، ایک ہی رہبر، مفتی جعفر مفتی جعفر، مفتی جعفر مفتی جعفر‘‘ کے نعروں سے گونج اٹھی تھی۔ اس وقت برطانوی نشریاتی ادارے بی بی سی نے دعویٰ کیا کہ آیۃ اللہ خمینی کے بعد مفتی جعفر حسین ایشیاء کے دوسرے بڑے روحانی پیشوا تھے کہ جنہیں عوام کی اتنی بڑی تعداد نے تسلیم کیا۔
مفتی جعفر حسین نے بطور قائد ملت جعفریہ پاکستان اپنے خطاب میں ڈکٹیٹر کی حکومت سے مطالبہ کیا کہ 30 اپریل سے پہلے حکومت شیعیان پاکستان کے مذہبی مطالبات تسلیم کرنے کا اعلان کرے، عدم قبولیت کی صورت میں 30 اپریل کے بعد شیعہ اپنے مطالبات کے حق میں ملک گیر تحریک شروع کر دیں گے، مزید یہ کہ یہ تحریک نفاذ فقہ جعفریہ کہلائے گی۔ تنظیم کا صدر دفتر اسلام آباد میں ہوگا، صوبہ، ڈویژن، ضلع، تحصیل اور موضع کی سطح پر بھی تحریک کے دفاتر قائم کئے جائیں گے۔ جنرل ضیاء الحق نے ان کے جواب میں کراچی میں یہ بیان جاری کیا کہ ’’ایک ملک میں دو قانون نافذ نہیں کئے جاسکتے، پاکستانی عوام کی اکثریت حنفی المذہب ہے، اس لئے یہاں فقہ حنفی ہی نافذ ہوگی۔‘‘ آمر کی حکومت نے کنونشن کو ممنوع قرار دیدیا، اسلام آباد کی چاروں طرف سے ناکہ بندی کردی گئی، پھر بھی اسلام آباد کے لال کواٹرز کے قریب ہاکی گراؤنڈ اور اس کے آس پاس کے علاقوں میں اتنے جانثار جمع ہوگئے تھے کہ فوجی آمر حیران رہ گیا۔
مذاکرات سے مسائل کے حل پر یقین رکھنے والے شیعہ قائد علامہ مفتی جعفر حسین نے 2 جولائی کو جنرل ضیاء الحق کی دعوت پر اس سے رات کے وقت دو گھنٹے ملاقات بھی کی، تاہم اس ملاقات کا کوئی نتیجہ نہیں نکلا۔ جس کے بعد 4 اور  5 جولائی کو فوحی آمر کی حکومت نے بہت سے پینترے بدلے لیکن شیعوں کا جوش و جذبہ کم نہ ہوا اور 5 جولائی کی شام کو عوام نے صدارتی سکریٹریٹ کا گھیراؤ کرلیا اور دھرنا دے کر وہیں بیٹھ گئے۔ 6 جولائی کو قائد ملت جعفریہ علامہ مفتی جعفر حسین جنرل ضیاء الحق کی دعوت پر ایک مرتب پھر پانچ رکنی وفد کے ساتھ سکرٹریٹ تشریف لے گئے اور کم و بیش بارہ گھنٹے تک مذاکرات ہوتے رہے۔ مذاکرات کا یہ دور نتیجہ خیز ثابت ہوا اور ضیاء الحق نے بالآخر شیعہ مطالبات کے سامنے گھٹنے ٹیک دیئے۔ اس موقع پر ایک معاہدہ طے پایا، جس میں جنرل ضیاء الحق نے شیعہ قیادت کو یہ یقین دلایا کہ کسی ایک فرقہ کی فقہ دوسرے فرقہ پر مسلط نہیں کی جائے گی۔
اسی روز شام کو قائد ملت جعفریہ علامہ مفتی جعفر حسین نے سیکرٹریٹ سے باہر آکر مجمع کے سامنے تاریخی فتح کی خبر سنائی اور بتایا کہ ضیاء الحق نے ہمارا مطالبہ منظور کرلیا ہے اور یہ یقین دلایا ہے کہ نہ صرف عشر و زکوۃ بلکہ ہر نئے قانون میں فقہ جعفریہ کو ملحوظ رکھا جائے گا۔ اس طرح قائد ملت کی ہدایت کے مطابق ملک کے طول و عرض سے آئے ہوئے عوام اپنے کامیابی دامن میں سمیٹے گھروں کو واپس جانے لگے۔ بھکر کنوشن کے بعد شب و روز کے طوفانی دوروں نے آپ کی صحت کو بہت متاثر کیا۔ 29 دسمبر 1982ء کو لاہور کے ڈاکٹروں نے تشخیص کیا کہ آپ کینسر میں مبتلا ہیں۔ 25 جولائی 1983ء کو آپ کو لندن لے جایا گیا، جہاں یہ رپورٹ ملی کہ کینسر کا اثر پھیپڑوں سے بڑھ کر دماغ تک پہنچ چکا ہے اور جو علاج پاکستان میں ہو رہا ہے، وہی مناسب ہے۔ 3 اگست کو لندن سے واپسی ہوئی اور 29 اگست کو طلوع آفتاب کے وقت آپ نے اس دارفانی سے رحلت فرمائی۔ آپ کی وصیت کے مطابق کربلا گامے شاہ لاہور میں ہی آپ کو سپرد خاک کر دیا گیا۔

 

 

شام میں امریکہ کی نئی شرارت

 ڈاکٹر حامد رحیم پور

Wednesday 31-8-2022


ان دنوں شام ایک بار پھر اسلامی مزاحمتی فورسز اور امریکی فوجیوں کے درمیان جنگ کا میدان بن گیا ہے۔ خطے میں امریکہ کی مرکزی کمان سینٹکام نے دعوی کیا ہے کہ انہوں نے صدر جو بائیڈن کے حکم پر شام کے شہر دیرالزور میں سپاہ پاسداران انقلاب اسلامی ایران کی حمایت یافتہ فورسز کے ایک مرکز کو نشانہ بنایا ہے۔ دوسری طرف جوابی کاروائی کے طور پر اسلامی مزاحمتی فورسز نے دریائے فرات کے مشرقی حصے میں موجود امریکی فوجیوں کے ٹھکانوں پر فجر 1 راکٹ برسائے ہیں۔ یہ راکٹ دراصل ایرانی ساختہ 107 ملی میٹر منی کیٹیوشا ہیں جو عراق اور شام میں بڑی تعداد میں موجود ہیں اور امریکی ٹھکانوں پر حملہ کرنے میں بہت زیادہ بروئے کار لائے جاتے ہیں۔
 
خبروں میں فجر 1 راکٹ کا نام ذکر کرنے کا مقصد قابض امریکی فوجیوں کو واضح پیغام بھیجنا تھا کیونکہ سینٹکام کی رپورٹ میں بھی واضح طور پر اس بات کا دعوی کیا گیا ہے کہ انہوں نے ایران کے حمایت یافتہ گروپس کے ٹھکانے کو نشانہ بنایا ہے۔ اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ ایران سے جوہری مذاکرات کے آخری مرحلے میں شام میں تناو پیدا کرنے اور اسلامی مزاحمت کے مراکز کو نشانہ بنانے کا اصل مقصد کیا ہے؟ کچھ ہی دن پہلے کویت میں امریکی فوجی اڈہ علی السالم پر ڈرون حملہ انجام پایا ہے۔ ان دونوں خبروں کو سامنے رکھنے سے معلوم ہوتا ہے کہ ایران اور امریکہ کے درمیان نچلی اور پوشیدہ سطح پر جنگ جاری ہے۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ امریکی حکمران ایران کے ساتھ جوہری معاہدے کے مخالفین کو بھی راضی رکھنے کی کوشش میں مصروف ہیں۔
 
ایران کے ساتھ جوہری معاہدے کے مخالفین امریکہ کے اندر بھی پائے جاتے ہیں اور خطے میں بھی موجود ہیں۔ لہذا امریکی حکمران اعلانیہ طور پر ایران سے وابستہ فورسز کے ٹھکانوں کو نشانہ بنا کر یہ تاثر دینے کی کوشش کر رہے ہیں کہ وہ خطے میں ایران کے اثرورسوخ کا مقابلہ کرنے میں سنجیدہ ہیں۔ دوسری طرف جو بائیڈن بھی اپنی خارجہ پالیسی کے بارے میں اس تاثر کو مستقل حیثیت دینے کے خواہاں ہیں لیکن وہ بخوبی اس حقیقت سے آگاہ ہیں کہ اسلامی مزاحمت کی طاقت انہیں اس مقصد تک پہنچنے کی اجازت نہیں دے گی۔ امریکہ کو یہ اہم اور بنیادی بات سمجھ لینی چاہئے کہ وہ ہر گز ایسی پوزیشن میں نہیں کہ سرکاری سطح پر عراق یا شام میں ایران سے وابستہ فوجی ٹھکانوں پر حملے کا اعلان کرے اور اس کے بعد اسے کسی قسم کے نتائج بھگتنا نہ پڑ جائیں۔
 
 
امریکی دہشت گردوں کے ہاتھوں جنرل قاسم سلیمانی کی شہادت کے بعد اسلامی جمہوریہ ایران نے خطے سے امریکیوں کو نکال باہر کرنے کو اپنا اہم ترین اسٹریٹجک مقصد قرار دے رکھا ہے۔ اسلامی مزاحمتی بلاک نے امریکی حکمرانوں کو واضح طور پر بتا رکھا ہے کہ ان کی جانب سے انجام پانے والے ہر جارحانہ اقدام کا براہ راست اور منہ توڑ جواب دیا جائے گا۔ شام میں امریکہ کی حالیہ شرارت ٹھیک اس وقت انجام پائی ہے جب واشنگٹن نے ایران سے جوہری مذاکرات کے بارے میں اپنا جوابی پیغام یورپی ممالک کو ارسال کیا ہے۔ یہ محض اتفاق نہیں ہو سکتا۔ دوسری طرف عراق میں کچھ ایسے حالات رونما ہوئے ہیں جن کی وجہ سے امریکی حکمران اسلامی مزاحمتی بلاک کے بارے میں غلط فہمی کا شکار ہو چکے ہیں۔
 
عراق میں مقتدا صدر اور حشد الشعبی کے درمیان پیدا ہونے والے سیاسی اختلافات کے تناظر میں شاید امریکہ یہ سوچ بیٹھا ہے کہ اسلامی مزاحمت کمزوری کا شکار ہو چکی ہے اور اس کے جارحانہ اقدام کا مناسب جواب نہیں دیا جائے گا۔ امریکہ نے شام میں یہ سوچ کر اسلامی مزاحمت کے ٹھکانوں کو نشانہ بنایا تھا کہ ایران کی اتحادی قوتیں جوابی کاروائی کرنے کی پوزیشن میں نہیں ہیں لہذا اسے بالادستی حاصل ہے۔ لیکن بہت ہی جلد اس کی یہ غلط فہمی دور ہو گئی اور اسے دسیوں راکٹ کا سامنا کرنا پڑ گیا۔ اب وہ اس حقیقت کو بخوبی درک کر چکا ہے کہ خطے سے امریکہ کو نکال باہر کرنے کا فیصلہ ایک اسٹریٹجک اور اٹل فیصلہ ہے۔ شام میں امریکہ کی حالیہ شرارت کا ایک مقصد اپنے اسٹریٹجک اتحادی اسرائیل کو راضی کرنا بھی ہو سکتا ہے جو بورجام کا شدید مخالف ہے۔
 
گذشتہ برس موسم گرما میں عراق میں اسلامی مزاحمت نے امریکی فوجیوں کے ناک میں دم کر رکھا تھا اور ہر روز انہیں راکٹ حملوں، ڈرون حملوں اور سڑک کے کنارے بم حملوں کا سامنا کرنا پڑ رہا تھا۔ اس صورتحال سے تنگ آ کر امریکہ نے عراق سے مکمل فوجی انخلاء کا فیصلہ کیا۔ لہذا امید ہے اب شام میں بھی امریکی فوجیوں کے خلاف مزاحمتی کاروائیوں کی شدت میں اضافہ ہو گا۔ امریکی فوجی زیادہ تر شام کے مشرقی حصے میں براجمان ہیں جہاں تیل اور گیس کے ذخائر موجود ہیں۔ اب تک کئی ایسی رپورٹس سامنے آ چکی ہیں جن سے ظاہر ہوتا ہے کہ امریکہ شام سے خام تیل چوری کرنے میں مصروف ہے۔ دوسری طرف شام حکومت بھی اعلان کر چکی ہے کہ ملک میں موجود امریکی فوجی اس کی اجازت کے بغیر موجود ہیں لہذا بین الاقوامی قوانین کی روشنی میں بھی یہ موجودگی غیر قانونی ہے۔


 

 

 

جانور بھی اتنے ہی مظلوم سیلاب زدگان ہیں

  وسعت اللہ خان 

Wednesday 31-8-2022

 

سیلاب میں گھرے انسانوں کے مددگاروں کو سب سے بڑی شکائیت یہ ہوتی ہے کہ جب تک پانی آنکھوں کو نہ چھونے لگے تب تک مصیبت زدگان گھر بار چھوڑ کے نقل مکانی پر آمادہ نہیں ہوتے۔ بعض اوقات تو ڈنڈا لہرا کر دھمکانا پڑتا ہے کہ یہاں سے نہ نکلے تو تمہارا ککھ نہیں بچے گا۔

مدد گاروں کا پس منظر اکثر شہری ہوتا ہے لہٰذا وہ یہ شکوہ تو کرتے ہیں کہ مصیبت میں گھرے دیہاتی پانی سر سے اونچا ہونے کے باوجود محفوظ مقامات پر نقل مکانی پر آمادہ نہیں۔ لیکن کیوں آمادہ نہیں ؟ اس سوال کا جواب تلاش کرنے اور ان کا انکاری رویہ اور نفسیات سمجھنے کا امدادی کارکنوں اور سرکاری بابوؤں کے پاس نہ وقت ہوتا ہے اور نہ ہی کوئی خاص دلچسپی۔

فطری بات ہے کہ کوئی بھی مصیبت میں گھرا انسان کسی نہ کسی کی مدد تو چاہے گا۔اگر مدد ملنے کے باوجود بھی وہ فائدہ اٹھانے اور کنبے کی جان بچانے کو تیار نہیں تو یا تو اس کا دماغ چل گیا ہے یا پھر مددگار کا دماغ مصیبت زدہ کی بنیادی مشکل سمجھنے سے قاصر ہے۔ میں اس بابت دیہی حساسیت سمجھانے کے لیے چند مثالیں پیش کرتا ہوں۔

دو ہزار دس کے سیلاب میں اسکردو تا کراچی چاروں صوبوں کے چھتیس متاثرہ اضلاع میں سفر کرنے اور ہزاروں مصیبت زدگان کے درمیان رہنے کا اتفاق ہوا۔

مظفر گڑھ سے نقل مکانی کر کے تھل کے ریگستان میں ایک اونچے ٹیلے پر پناہ لینے والے ایک خاندان سے بھی ملاقات ہوئی۔اس خاندان کے ادھیڑ عمر سربراہ نے بتایا کہ اس ویرانے میں کھانے یا پانی کا اتنا مسئلہ نہیں۔کوئی نہ کوئی روز کچھ دے جاتا ہے۔اصل مسئلہ سانپوں کا ہے۔میرے پاس چار بھینسیں اور نو بکریاں ہیں۔ویسے تو گیارہ تھیں مگر دو سانپ نے مار دیں۔

اب ہم رات کو جاگتے اور دن کو باری باری سوتے ہیں تاکہ سانپ کسی اور مویشی کو نہ کاٹ لے۔میں نے پوچھا تمہارے کتنے بچے ہیں۔اس نے بتایا کہ چھ۔ سب سے چھوٹا ایک سال کا ہے۔میں نے پوچھا تمہیں یہ سوچ کے ڈر نہیں لگتا کہ سانپ نے خدانخواستہ کسی مویشی کے بجائے تمہارے بچے کو کاٹ لیا ؟

کہنے لگا۔ڈر تو لگتا ہے پر زیادہ خوف یہ ہے کہ سانپ کسی بھینس کو نہ کاٹ لے۔ نئی بھینس خریدنے کی میری حیثیت نہیں۔بھینسیں مریں تو ہم مر جائیں گے۔بچہ تو ایک اور بھی اگلے برس پیدا ہو جائے گا۔

لیہ میں سیلاب سے گھرے ایک گاؤں سے سب نقل مکانی کر گئے مگر ایک کنبہ ڈٹا رہا۔پانی سینے تک آ گیا تو وہ چھت پر چلے گئے۔ان کے جانور گھر کے سامنے ایک اونچی جگہ پر طویلے میں بند تھے۔میں جس کشتی میں وہاں پہنچا اس کے ملاح نے بتایا کہ انھیں آرمی نے کئی بار کہا کہ ہمارے ساتھ چلو مگر ان کی شرط یہ تھی کہ ہم مال مویشی کے بغیر یہاں سے نہیں نکلیں گے اور آرمی والوں کو صرف انسانوں کو نکالنے کا حکم تھا۔

دیہاتیوں کو یہ فکر بھی ہوتی ہے کہ اگر گھر چھوڑ دیا اور جانور بھی ساتھ لے گئے تو پیچھے سے چور کھڑکیاں دروازے اور چوکھٹیں تک اکھاڑ کے نہ لے جائے اور نقلِ مکانی کے باوجود جہاں انسانوں کی خوراک کے لالے پڑے ہوں وہاں جانوروں کو چارہ کون دے گا۔وہاں بھی اگر انھیں بھوک سے مرنا ہے تو یہیں مرنا زیادہ اچھا ہے۔

جو دیہاتی اپنا مال مویشی کشتی والے کو منہ مانگا کرایہ دے کر محفوظ مقام تک کسی طرح پہنچانے میں کامیاب ہو بھی جاتے ہیں تو ان کے پاس روزمرہ خرچے کے لیے کافی رقم نہیں ہوتی۔کنارے اور کیمپوں کے آس پاس مویشیوں کے آڑھتی یا ایجنٹ منڈلاتے رہتے ہیں۔ وہ ضرورت مند مصیبت زدہ کی مجبوری کو آخری حد تک نچوڑنے کے ماہر ہوتے ہیں۔میں نے اپنی آنکھوں کے سامنے پیسے سے مجبور دیہاتیوں کو پچھتر ہزار کی بھینس بیس ہزار میں ، پچیس ہزار کا بکرا پانچ ہزار میں اور ڈیڑھ سو روپے کی مرغی پندرہ روپے میں فروخت کرتے دیکھا ہے۔

میں نے ایک خریدار سے پوچھا تمہیں خدا کا خوف نہیں۔اس کی جگہ اگر تم ہوتے اور تمہاری جگہ یہ ہوتا پھر تم پر کیا بیتتی ؟ ڈھٹائی سے آنکھوں میں آنکھیں ڈال کے کہنے لگا ’’ یہ تو کاروبار ہے۔میں تو اس کے مویشی خرید کے اس کی مدد کر رہا ہوں۔اس کی مرضی بیچے نہ بیچے۔میں نے سر پے پستول تھوڑی رکھا ہے ‘‘۔

کتنے شہری جانتے ہیں کہ جب آپ ایک غریب دیہاتی یا چرواہے سے پوچھتے ہیں کہ تمہارے کتنے بال بچے ہیں تو وہ دل ہی دل میں اپنی بکریوں ، بھینسوں اور گایوں کو بھی جوڑ رہا ہوتا ہے۔ان جانوروں کا ایک عدد محافظ کتا اس دیہاتی یا چرواہے کا نائب ہوتا ہے۔اس وسیع کنبے میں جو ہم آہنگی اور الفت ہوتی ہے اس کی باریکیاں ایک شہری باشندہ کبھی سمجھ ہی نہیں سکتا۔

یہ مویشی نہیں دیہات کی معاشی شہہ رگ ہیں۔ یہ مویشی ہل جوتتے ہیں ، رہٹ چلا کے پانی نکالتے ہیں ، کولہو سے تیل نکالتے ہیں ، سواری کا کام دیتے ہیں ، ہر طرح کا وزن ڈھوتے ہیں۔پینے اور بیچنے کے لیے دودھ اور ایندھن کے لیے گوبر دیتے ہیں۔گوشت کا بنیادی ذریعہ ہیں۔ان کی کھال الگ سے بکتی ہے۔ کسی ناگہانی ضرورت کے وقت یہی جانور اے ٹی ایم مشین بن جاتے ہیں اور انھیں بیچ کر فوری مالی مسئلہ حل کیا جاتا ہے یا قرض کا بوجھ ہلکا کیا جاتا ہے۔

لہٰذا یہ بات ہم میں سے ہر ایک کے سمجھنے کی ہے کہ سیلاب و دیگر قدرتی آفات میں آپ کی جتنی مدد ایک انسان اور اس کے بال بچوں کو درکار ہے اتنی ہی مدد اس کے مال مویشیوں کو بھی درکار ہے۔مصیبت زدہ خاندان کو جو اپنے لیے چاہیے وہی اپنے جانوروں کے لیے بھی چاہیے۔ورنہ بحالی کا عمل نامکمل ہے۔

اگر انسان بچ گیا اور اس کا مویشی مر گیا تب بھی کنبے کا معاشی قتل ہو گیا۔اب یا تو وہ شہر کی جانب روٹی کی تلاش میں نقل مکانی کرے یا اپنے ہی علاقے میں کسی بھٹے پر اینٹیں ڈھوئے یا کوئی اور معمولی مزدوری کرے اور مزید قرض میں بندھتا چلا جائے۔

تمام انفرادی مددگاروں اور این جی اوز سے میری درخواست ہے کہ انسانوں کے لیے کھانا، کپڑے، برتن، خیمے ، ادویات ضرور دیں۔مگر ان کے جانوروں کے لیے چھت ، چارہ ، طبی دیکھ بھال وغیرہ ہرگز ہرگز نہ بھولیں۔ورنہ آپ اپنی دریا دلی کے باوجود سماج میں ایک اور امکانی بھکاری کا انجانے میں اضافہ کر رہے ہوں گے

بائیس کروڑ نالائقوں کا بوجھ

جاوید چوہدری  

Wednesday 31-8-2022

چین کے تین علاقے اس وقت پاکستان سے زیادہ بارشوں اور سیلاب کی زد میں ہیں‘ یہ علاقے جنوب مغرب میں واقع ہیں‘ ان کے نام چینگ ڈو‘ گوانگ یو آن‘ گارزے اور تبت ہیں‘ چینگ ڈو کی وادی شی لنگ میں چوبیس گھنٹوں میں 165 اشاریہ ایک ملی میٹر بارش ہوئی‘ یہ علاقہ سیاحتی ہے اور یہاں ہر سال 70لاکھ سے زائد سیاح آتے ہیں‘ یہ بھی بری طرح سیلاب سے متاثر ہوا لیکن آپ چین کا کمال دیکھیے۔

حکومت نے ایک رات میں 47 ہزار لوگوں کو متاثرہ علاقوں سے نکالا‘ محفوظ ٹھکانوں پر پہنچایا اور انھیں کھانا‘ ادویات اور کپڑے بھی فراہم کر دیے اور مقامی اور بین الاقوامی کسی تنظیم سے امداد کی اپیل بھی نہیں کی اور اس سارے آپریشن‘ بارش اور سیلاب کے دوران کسی قسم کا کوئی جانی نقصان نہیں ہوا جب کہ اس کے مقابلے میں ہمارے ملک کا تیس فیصد حصہ پانی میں ڈوبا ہوا ہے۔

کوئٹہ شہر کی تمام سڑکیں‘ پل اور موبائل فون ٹاورز ٹوٹ گئے ہیں‘ بجلی‘گیس اور پانی بھی بند ہے اور اے ٹی ایم اور بینکس بھی جواب دے گئے ہیں‘ صوبائی دارالحکومت کا باقی ملک سے عملاً رابطہ ٹوٹ چکا ہے‘ دوسرے علاقوں کی صورت حال بھی اس سے ملتی جلتی ہے۔

متاثرین کی تعداد تین کروڑ 30 لاکھ ہو چکی ہے ‘ یہ گلگت  بلتستان سے لے کر گوادر تک آسمان کی طرف دیکھ رہے ہیں اور آہ وزاری کر رہے ہیں‘ سوال یہ ہے چین ہو‘ ایران ہو‘ ترکی ہو‘ ملائیشیا ہو یا پھر باقی دنیا ہو سیلاب‘ زلزلے اور خشک سالی وہاں بھی آتی ہے لیکن یہ اپنے لوگوں کو ان آفتوں سے بچا بھی لیتے ہیں اور دوسروں کی مدد کے بغیر انھیں بحال بھی کر دیتے ہیں‘ کیسے؟ جب کہ ہم ہر آفت‘ ہر مصیبت میں اپنے لوگوں کو موت کے حوالے کر کے‘ امداد‘ امداد کی صدائیں لگانے کے لیے نکل کھڑے ہوتے ہیں‘ہم اسے بھی بھیک کا بہانہ بنا لیتے ہیں‘ کیوں؟ کیا دوسری اقوام ’’سپر ہیومین ‘‘ ہیں یا پھر ہم انسانوں کی کوئی پست ترین شکل ہیں‘ ہمارا آخر ایشو کیا ہے؟

ہم شاید آج تک اپنی قوم کو آفتوں کا سامنا کرنے کے لیے تیار نہیں کر سکے‘ آگ لگ جائے‘ پانی آ جائے یا کوئی کسی حادثے کا شکار ہو جائے‘ ہم میں سے کسی شخص کو اس سے نبٹنا نہیں آتا‘ دوسرا حکومت نے بھی آج تک حادثوں اور آفتوں سے نبٹنے کے لیے کاغذی منصوبوں کے علاوہ کچھ نہیں کیا‘ ہم نے قومی سطح پر این ڈی ایم اے اور صوبائی لیول پر پی ڈی ایم اے بنا دیے لیکن یہ بھی نام کے ادارے ہیں اور یہ ہلاکتوں کا ڈیٹا جاری کرنے کے علاوہ کچھ نہیں کرتے‘حالت یہ ہے ہم آج تک ملک میں مخیرحضرات کی فہرست تک نہیں بنا سکے۔

حکومت کو چاہیے تھا یہ آفتوں کے دوران کم از کم پانچ ہزار سے ایک کروڑ روپے تک امداد دینے والے مخیر حضرات اور فیملیز کا ڈیٹا اور ٹیلی فون ہی جمع کر لیتی تا کہ مصیبت کی اس گھڑی میں ہمیں چندے کے لیے اپیلیں نہ کرنا پڑتیں‘ حکومت ملک بھر کے تمام کال سینٹرز کو ڈیٹا اور بینک اکاؤنٹ دیتی اور دو دنوں میں امدادی رقم جمع ہو جاتی‘ ہم کیوں ہر بار ہر آفت میں امدادی کیمپ لگا کر بیٹھ جاتے ہیں؟ کیا ہم 75برسوں میں یہ بھی نہیں کر سکتے تھے‘ دوسرا ملک میں دعوت اسلامی‘ سیلانی ٹرسٹ‘ اخوت‘ کاروان علم فاؤنڈیشن‘ ایدھی‘ چھیپا‘ تبلیغی جماعت‘ جماعت اسلامی اور انجمن طلباء اسلام جیسی سیکڑوں تنظیمیں اور غیرسرکاری ادارے موجود ہیں۔

ملک میں اڑھائی لاکھ سے زائد اسکول(پرائمری‘ مڈل اور سیکنڈری ملاکر) اورساڑھے تین کروڑ سے زائد طالب علم بھی ہیں‘ ہم اگر ان تنظیموں اور اداروں کے کارکنوں کے لیے ریسکیو ورک کی ٹریننگ لازمی قرار دے دیں‘ ہم اگر انھیں آگ بجھانے‘ زخمیوں کو اٹھانے‘ سیلاب میں گھرے لوگوں کو نکالنے اور ضرورت مندوں تک خوراک پہنچانے اور بیماروں اور زخمیوں کی مدد کی ٹریننگ دے دیں اور ان سب کی فہرستیں اپنے پاس رکھ لیں اور ضرورت کے وقت انھیں طلب کر کے کام پر لگا دیں تو ہمارے پاس دو چار کروڑ لوگوں کی فورس تیار ہو جائے گی۔

ہم اگر ملک بھر کے اساتذہ ہی کو ڈیزاسٹر مینجمنٹ سکھا دیں تو بھی ہمیں یواین کا انتظار نہیں کرنا پڑے گا اور تیسری چیزدنیا کے بے شمار ملکوں میں ہر گھر میں ڈیزاسٹر اور ری پیئرنگ کے آلات ضرور ہوتے ہیں‘ کیا ہم قوم کو گھروں میں رسے‘ سیڑھیاں‘ فالتو بالٹیاں‘ ہتھوڑیاں اور گینتیاں رکھنے کے لیے بھی تیار نہیں کر سکتے؟ ہم یہ اصول ہی بنا لیں ملک کا ہر مڈل کلاس شخص اپنے گھر میں ایک ٹینٹ ضرور رکھے گا اور وہ یہ مشکل کے وقت متاثرہ علاقوں میں بھجوا دے گا‘ ہم ٹینٹ مالکان کی فہرستیں مختلف این جی اوز کو دے دیں اور این جی اوز کے کارکن ضرورت کے وقت ٹینٹ جمع کر کے متاثرین تک پہنچا دیں۔

کیا ہم یہ بھی نہیں کر سکتے؟ پاکستان میں جنرل ضیاء الحق کے دور تک رضا کار اور این سی سی جیسے پروجیکٹ ہوتے تھے‘ ضلعی انتظامیہ ہر شہر سے رضا کار بھرتی کرتی تھی‘ یہ لوگ مشکل وقت میں پولیس اور سول انتظامیہ کی مدد کرتے تھے‘ یہ پروجیکٹ آج بھی چل رہا ہے لیکن صرف کاغذوں میں‘ کالجوں میں این سی سی کے ذریعے طالب علموں کو ملٹری ٹریننگ دی جاتی تھی‘ ٹریننگ مکمل کرنے والے طالب علموں کو 20 نمبر اضافی ملتے تھے‘ یہ دونوں پروجیکٹ شان دار تھے۔

دنیا میں امریکا‘ سوئٹزر لینڈ اور اسرائیل سمیت 103 ملکوں میں ملٹری ٹریننگ اور ملٹری سروسز لازم ہوتی ہیں‘ رضا کار بھی کروڑوں کی تعداد میں ہوتے ہیں‘ ہم یہ دونوں ادارے بحال کیوں نہیں کرتے اور ہم اس کے ساتھ ساتھ ایکسیڈنٹس اور ڈیزاسٹر مینجمنٹ کی ٹریننگ کیوں شامل نہیں کرتے؟ میں مدت سے عرض کر رہا ہوں حکومت گاڑیوں میں آگ بجھانے کے سلینڈرز‘ کمبل‘ ٹارچ‘ رات کے وقت چمکنے والی جیکٹس اور اضافی خوراک لازم قرار دے لیکن ہم نے آج تک یہ بھی نہیں کیا‘ فلڈ مینجمنٹ کی باری تو ہزار سال بعد میں آئے گی‘ کیا ہم واقعی قوم کہلانے کے حق دار ہیں؟

میں اس سیلاب کے دوران تین خوف ناک حماقتیں دیکھ رہا ہوں‘ پہلی حماقت نقد امداد ہے‘ ہم متاثرین کو براہ راست نقد امداد بھجوا رہے ہیں جب کہ متاثرہ علاقوں کے تمام بینکس‘ اے ٹی ایم اور ایزی کیش کے سینٹرز پانی میں ڈوب چکے ہیں لہٰذا متاثرین کو رقم کیسے ملے گی؟ اور اگر یہ مل بھی جائے تو کیا سامان خریدنے کے لیے دکانیں اور منڈیاں کھلی ہیں اور کیا سڑکیں‘ پل‘ ٹرانسپورٹ اور گاڑیاں موجود ہیں؟ دوسرا ہم متاثرین کے سروں پر آٹا‘ دالیں‘ چاول‘ چینی اور گھی کی بوریاں پھینک رہے ہیں‘ حکومت ہیلی کاپٹروں کے ذریعے بوریاں داغ رہی ہے جب کہ این جی اوز کشتیوں کے ذریعے خشک راشن پہنچا رہی ہیں لیکن سوال یہ ہے یہ لوگ خشک راشن کو پکائیں گے کیسے؟ متاثرین پانچ پانچ فٹ پانی میں ڈوبے ہوئے ہیں۔

کیا یہ اس پانی میں چولہے جلا سکیں گے؟ کھانا پکانے کے لیے لکڑیاں‘ گیس یا بجلی کہاں سے آئے گی اور کیا پھر یہ لوگ خشک راشن کھائیں گے اور تیسرا ایشو پورے ملک میں اس وقت امدادی کیمپ لگے ہوئے ہیں‘ یہ کون لوگ ہیں اور یہ رقم جمع کر کے کہاں بھجوا رہے ہیں؟ کوئی نہیں جانتا‘ حکومت بھی اس سے لاتعلق ہے‘ کیا ہم ان حماقتوں سے متاثرین کی مدد کر سکیں گے؟

میری درخواست ہے حکومت فوری طور پر ان اداروں کی فہرست اور اکاؤنٹس جاری کر دے جنھیں یہ امدادی کاموں کا اہل یا جینوئن سمجھتی ہے‘ یہ بے شک فوج کو ذمے داری دے دے لیکن کسی ایک کو اس صورت حال کو لیڈ کرنے دیں‘ پینک نہ کریں‘ دوسرا سیلاب میں پھنسے لوگوں کو خشک راشن نہ دیں‘ آپ بھنے ہوئے چنے‘ بھنے ہوئے چاولوں‘ گڑ اور میوہ جات کا مرونڈا بنائیں‘ آدھ آدھ کلو کے واٹر پروف پیکٹ بنائیں اور متاثرین میں یہ پیکٹ تقسیم کر دیں۔

متاثرین فوری طور پر ان سے اپنی بھوک مٹا لیں گے‘ یہ مرونڈا پنجاب‘ سندھ اور کے پی میں عام بنتا ہے‘ آپ بس اس میں تھوڑا سا کوکنگ آئل یا گھی بھی ڈال دیں تاکہ خوراک کے تمام اجزاء پورے ہو جائیں‘ مرونڈا مکمل خوراک ہو گا‘ اسے ہر عمر کے لوگ کھا سکیں گے اور اسے پکانا بھی نہیں پڑے گا‘ سیلاب زدہ علاقوں میں جب پانی اتر جائے تو آپ بے شک لوگوں کو خشک راشن پہنچانا شروع کر دیں اوراب میری عوام سے بھی درخواست ہے خدا کے لیے اگر حکومت میں خدا ترسی اور عقل نہیں ہے تو آپ ہی کچھ عقل کر لیں۔

آپ ہی دس پندرہ فیملیوں کے گروپ بنا کر لوگوں کو ٹریننگ دینا شروع کر دیں‘ دس دس‘ بیس بیس خاندانوں کی این جی اوز بنا کرلوگوں کی حالت بدلنا شروع کر دیں اور مہربانی فرما کر اپنے گھر اونچی جگہوں اور کچن دوسری اور تیسری منزل پر بنا لیا کریں اور چھت پر ممٹی بنا کربرسات کے موسم میں اس میں پانی‘ خوراک‘ ٹینٹ اور ایندھن محفوظ کر لیا کریں تاکہ ناگہانی صورت حال میں آپ اور آپ کا خاندان کم از کم دو چار دن تو نکال سکے اور آپ یہ بندوبست کرنے کے بعد دوسرے لوگوں کو بتا اور سمجھا دیا کریں تاکہ یہ بھی آفتوں سے بچ سکیں۔

یہ ملک آخر کب تک 22 کروڑ نالائقوں کا بوجھ اٹھائے گا‘ ہم سب کو مل کر کام کرنا پڑے گا لیکن آغاز کون کرے گا؟ شاید ہم باقی زندگی بھی یہ کام اللہ تعالیٰ پر چھوڑ کر بیٹھے رہیں گے۔


سیلاب، امریکا 6 ارب 66 کروڑ، چین 3 ارب 21 کروڑ، کینیڈا 1 ارب 11 کروڑ، آسٹریلیا 44 کروڑ روپے دیگا

Wednesday 31-8-2022

چین نے پاکستان میں سیلاب متاثرین کی امداد کیلئے 10کروڑ یوآن (3ارب 21کروڑ روپے)، کینیڈا نے 5ملین ڈالر(ایک ارب 11 کروڑ روپے)، آسٹریلیا 2ملین ڈالر (44کروڑ روپے) دینے کا اعلان کیا ہے.

 امریکا مزید تین کروڑ ڈالرز (6؍ ارب 66؍ کروڑ روپے) امداد دیگا، جبکہ پاکستان کو سیلاب زدگان کی مدد کیلئے 100 ٹن امدادی سامان مہیا کریگا، جبکہ جرمنی اور بنگلہ دیش نے بھی خوراک اور دیگر امدادی سامان بھیجنے کا اعلان کیا ہے۔

تفصیلات کے مطابق منگل کو پاکستان میں تعینات چین کے سفیر نونگ رونگ نے وزیراعظم شہباز شریف سے ملاقات کی۔

اہم ملاقات میں چینی سفیر نے وزیراعظم کو چین کی جانب سے متاثرین کو دی جانے والی امداد سے متعلق آگاہ کیا۔ انہوں نے بتایا کہ مشکل کی اس گھڑی میں چین کی حکومت سیلاب متاثرین کیلئے 10 کروڑ یوآن امداد دے گی، جبکہ پچیس ہزار خیموں اور دیگر امدادی اشیا بھی عطیہ کی جائیں گی۔

انہوں نے کہا کہ چین کی فضائیہ تین سو خیموں کی پہلی کھیپ 30 اور 31 اگست کو کراچی پہنچائے گی۔ امداد کے اعلان کے ساتھ ہی انہوں نے چین کے صدر شی جن پنگ اور وزیراعظم لی کی چیانگ کی جانب سے صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی اور وزیر اعظم شہباز شریف کو خصوصی پیغام بھی پہنچایا۔

چین کی قیادت کی جانب سے دیئے گئے پیغام میں پاکستان میں سیلاب سے جانی اور مالی نقصان پر پاکستان کی قیادت اور عوام سے افسوس اور بھرپور یکجہتی کا اظہار کیا گیا ہے۔ چینی سفیر کے ساتھ ملاقات میں وزیراعظم نے کہا کہ ہمیشہ کی طرح چین کی قیادت اور عوام نے پاکستان دوستی اور فراخ دلی کا مظاہرہ کیا ہے۔

انہوں نے چینی صدر اور وزیر اعظم کا تہِ دل سے شکریہ بھی ادا کیا۔ دوسری جانب پاکستانی ہائی کمیشن کینیڈا میں پاکستان کے سفیر ظہیر جنجوعہ نے سیلاب زدگان کی مدد اور بحالی کیلئے کمیونٹی سے ملاقاتیں کی ہیں، جبکہ کینیڈا کی حکومت نے پانچ ملین ڈالر امداد کا اعلان کیا ہے ۔علاوہ ازیں پاکستان میں آنے والے بدترین سیلاب کے باعث تباہی کے بعد امریکا نے مزید تین کروڑ ڈالرز امداد کا اعلان کر دیا۔

علاوہ ازیںبین الاقوامی میڈیا کے نمائندوں سے گفتگوکرتے ہوئے وزیراعظم شہباز شریف نے سیلاب کی تباہ کاریوں سے پیدا ہونے والی صورتحال سے نمٹنے، ریلیف اور ریسکیو کیلئے عالمی برادری سے مدد کی اپیل کرتے ہوئے کہا ہے کہ سیلاب سے متاثرہ افراد کو خوراک، ادویات، پانی اور دیگر اشیاء کی فوری ضرورت ہے

 حالیہ سیلاب ملکی تاریخ کا سب سے بڑا سیلاب ہے، ایک ہزار سے زائد افراد جاں بحق ہو چکے ہیں، سیلاب اور معیشت کی صورتحال سے نمٹنے کے لئے عمران خان کو پیشکش کرتے ہوئے کہا کہ آیئے مشکل صورتحال سے نکالنے کے لئے مل بیٹھیں۔

انہوں نے کہا کہ لوگوں کے گھر اور کھڑی فصلیں بہہ گئی ہیں، 3500 کلومیٹر سڑکیں اور بنیادی ڈھانچہ تباہ ہو گیا ہے، حکومت ریلیف اور ریسکیو کیلئے محدود وسائل کے باوجود بھرپور اقدامات کر رہی ہے.

 متاثرین کی مدد کیلئے جمع شدہ رقم کی پائی پائی شفافیت سے خرچ ہو گی، آخری متاثرہ شخص کی بحالی تک اقدامات جاری رکھیں گے۔

مظاہروں میں اسلحہ اُٹھانے والے استغفار کریں، مقتدیٰ الصدر

Wednesday 31-8-2022

عراق میں الصدر تحریک کے سربراہ نے منگل کی شام، ملک میں بدامنی پھیلانے والے عناصر پر تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس دوران جس نے بھی اسلحے کا استعمال کیا ہے، وہ خدا سے اپنے لئے مغفرت طلب کرے۔ الصدر تحریک کے رہنماء سید مقتدیٰ الصدر نے آج شام اس بات پر زور دیا کہ خدا پرامن انقلاب کے شہداء پر رحم فرمائے۔ انہوں نے اپنے آفیشل ٹویٹر پیج پر متاثرین کے اہل خانہ کے لئے صبر اور زخمیوں کی جلد صحتیابی کے لئے اپنی نیک تمناوں کا اظہار کیا۔ سید مقتدیٰ الصدر نے سرکاری حکام سے متاثرین کی مالی کمک کا مطالبہ بھی کیا۔ انہوں نے مزید کہا کہ خدا سے دعا کرتا ہوں کہ اس شورش میں اسلحہ استعمال کرنے والوں کو معاف فرمائے اور ہتھیار اُٹھانے والوں کو بھی استغفار کرنے کی تلقین کرتا ہوں اور انہیں آئندہ ایسا نہ کرنے کی نصیحت کرتا ہوں۔ غیر ملکی نیوز ذرائع نے بتایا کہ بغداد میں بدامنی کے واقعات میں ہلاکتوں کی تعداد بڑھ کر آٹھ ہوگئی ہے، جبکہ عراق کی وزارت صحت نے آج کے تصادم میں کم از کم 85 افراد کے زخمی ہونے کی خبر دی ہے۔


یاد رہے کہ مقتدیٰ الصدر نے آج سہ پہر عراقی سیاسی رہنماؤں سے رابطے کے بارے میں کہا کہ ان کا سیاسی گروہوں سے کوئی رابطہ نہیں ہے، میں نے سیاست کو ہمیشہ کے لیے چھوڑ دیا ہے اور میں دوبارہ اس میں واپس نہیں آؤں گا۔ انہوں نے اس بات پر بھی زور دیا کہ میں اپنے مرجع آقائے حائری کے حکم کا پابند ہوں۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ عراق کے بزرگ مرجع تقلید آیت‌ الله سید کاظم حسینی حائری نے گذشتہ روز اعلان کیا کہ وہ جسمانی صحت اور بیماری کے باعث مرتبہ مرجعیت سے منصرف ہوتے ہیں اور اپنے مقلدین کو آیت‌ الله العظمیٰ سید علی خامنه‌ ای کی پیروی کرنے کی دعوت دیتے ہیں، کیوںکہ وہ امت اسلامی کی سربراہی کے لئے موزوں ترین فرد ہیں۔ انہوں نے عراق میں انتخابات کے بعد اپنے غیر قانونی مطالبات، وزیراعظم کے انتخاب کے لئے اجلاس کو روکنے اور پارلیمنٹ کی تحلیل کا مطالبہ کرنے والے الصدر تحریک کے سربراہ سید مقتدیٰ الصدر کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ جو بھی یہ چاہتا ہے کہ دو صدر شہداء (شہید باقر الصدر، شہید محمد صادق الصدر) کا نام لے کر امت میں تفرقہ ڈالے اور اجتہاد و دیگر شرعی شرائط کے بغیر قیادت کرنا چاہے، وہ الصدر خاندان میں سے نہیں۔
آقائے حائری کے اس بیان کے بعد سید مقتدیٰ الصدر نے سیاست سے علیحدگی کا اعلان کر دیا۔ ان کے اس اقدام کے بعد اس تحریک کی تمام ویب سائٹس اور چینلز بند ہوگئے، ان کے رابطہ دفتر نے اپنے حامیوں سے مطالبہ کیا کہ وہ کسی بھی سیاسی امور میں مداخلت نہ کریں اور صدر تحریک کے نام پر کوئی نعرہ یا الفاظ اپنی زبان پر نہ لائیں۔ البتہ اس تحریک کے بعض عہدیداروں نے دعویٰ کیا ہے کہ صدر تحریک سے وابستہ بعض جعلی سائٹیں اور چینل اس تحریک کے کارکنوں کو بغداد اور دیگر عراقی صوبوں میں فسادات پر اُکسا کر ملک کی صورتحال کو نازک بنانے کی کوشش کر رہے ہیں۔ مقتدیٰ الصدر کے اس بیان کی اشاعت کے فوراً بعد صدر کے حامیوں نے بغداد میں مظاہرے اور اجتماعات شروع کر دیئے تھے۔ یہ اجتماعات عراق کے کئی دوسرے صوبوں میں بھی منعقد ہوئے۔ ان سب واقعات کے بعد تحریک الصدر کے سربراہ نے نجف اشرف میں ایک پریس کانفرنس کرتے ہوئے عراق میں گذشتہ دو دنوں کے واقعات پر ملک کے عوام سے معذرت کی اور اپنے کارکنوں کو "ضرب الاجل" کے نام سے دھرنا ختم کرنے کی ڈیڈ لائن دی، جس کے بعد ان کے حامیوں نے ملک بھر میں جاری مظاہروں کا سلسلہ ختم کر دیا۔

عراق: سیکیورٹی فورسز نے ملک بھر سے کرفیو ختم کردیا

Wednesday 31-8-2022


عراق کی سیکیورٹی فورسز نے ملک بھر میں نافذ کرفیو ختم کردیا، عراق کے رہنما مقتدیٰ الصدر نے اپنے حامیوں کو احتجاج ختم کرکے سڑکوں سے واپس جانے کا کہہ دیا۔

مقتدیٰ الصدر نے دو دن تک جاری رہنے والی پرتشدد جھڑپوں پر عوام سے معذرت کی۔

انہوں نے کہا کہ یہ عمل اب انقلابی نہیں رہا کیونکہ اس سے امن ختم ہوچکا ہے، عراقی خون بہانا حرام ہے۔

ٹی وی پر جاری ہونے والے مقتدیٰ الصدر کے پیغام کے بعد سیکیورٹی فورسز نے ملک بھر میں کرفیو ختم کردیا۔ 

کاربن اخراج والے ممالک پاکستان میں سیلاب کے ذمہ دار ہیں

 Wednesday 31-8-2022

فیجی کے وزیراعظم فرینک بینیماراما کا کہنا ہے کہ ایک بات واضح ہونی چاہیے یہ تباہی پاکستانی لوگوں نے پاکستان کے ساتھ نہیں کی، اس کی ذمہ دار وہ اقوام ہیں جہاں سے زیادہ مقدار میں کاربن کا اخراج ہوتا ہے۔

سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر فیجی کے وزیراعظم زیادہ مقدار میں کاربن خارج کرنے والے ممالک پر برس پڑے۔

انہوں نے کہا کہ جب تک ہم ایندھن کا استعمال ترک نہیں کردیتے، دنیا کا ہر ملک ماحولیاتی تباہی کے دہانے پر رہے گا۔

وزیراعظم فیجی نے ٹوئٹ میں پاکستان میں آنے والے بدترین سیلاب کی چند ویڈیوز بھی شیئر کیں۔

عالمی ایجنسی کی تحقیقات ختم کئے بغیر جوہری معاہدہ بے فائدہ ہے، ایران

  Wednesday 31-8-2022

تہرانایران کے صدر ابراہیم رئیسی کا کہنا ہے کہ عالمی ایجنسی کی تحقیقات ختم کئے بغیر جوہری معاہدہ بے فائدہ ہے۔

ایران کے صدر ابراہیم رئیسی نے پریس کانفرنس میں کہا کہ عالمی طاقتوں سے2015 میں کیا گیا معاہدہ بحال کرنا اس وقت تک بے فائدہ ہوگا جب تک اقوام متحدہ کی عالمی جوہری توانائی ایجنسی(آئی اے ای اے) غیر اعلانیہ مقامات کی تحقیقات کو بند نہیں کردیتی۔

انہوں نے کہا کہ حفاظتی مسائل کو حل کیے بغیر معاہدے کے بارے میں بات کرنا بے معنی ہے۔  آئی اے ای اے نے جوہری مواد کے نمونے ملنے کو حفاظتی اقدامات کا مسئلہ قرار دیا۔ کسی بھی معاہدے کی بحالی سے قبل ان مسائل کا خاتمہ ضروری ہے۔

دوسری جانب امریکا نے ایران پر روز دیا ہے کہ وہ اپنے 3 غیراعلانیہ جوہری مقامات کی تحقیقات میں عالمی ایجنسی سے تعاون کرے۔

سیلاب کے بعد بحالی اورتعمیرنومیں پاکستان سے تعاون جاری رکھیں گے، چین

 Wednesday 31-8-2022

اسلام آبادچین نے کہا ہے کہ سیلاب کے بعد بحالی اور تعمیر نو کے کاموں میں پاکستان سے تعاون اورمدد جاری رکھیں گے۔

پاکستان میں چینی سفارتخانے کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ چین سیلاب کی تباہی کے بعد بحالی اور تعمیر نو کے کاموں میں پاکستان کی مدد اورتعاون جاری رکھے گا۔

بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ قدرتی آفات سے محفوظ رہنے اور ان کی شدت میں کمی لانے کے لئے دونوں ممالک کے درمیان تعاون کو فروغ دیا جائے گا۔

پختونخوا کے 3 اضلاع میں گاؤں کے گاؤں اُجڑ گئے، شدید انسانی بحران کا خدشہ

 Wednesday 31-8-2022

 پشاورخیبرپختونخوا کے 3 اضلاع کے مختلف علاقوں میں سیلاب کے باعث گاؤں کے گاؤں اُجڑ گئے، جس کے بعد شدید انسانی بحران کا خدشہ پیدا ہوگیا ہے۔

پاکستان ہلال احمر خیبرپختونخوا نے لوئر کوہستان، اپر کوہستان اور کولئی پالس میں نقصانات کی ابتدائی جائزہ رپورٹ جاری کردی ہے، جس کے مطابق تینوں اضلاع کے مختلف علاقوں میں گاؤں کے گاؤں اُجڑ گئے۔ رپورٹ کے مطابق 630 گھر مکمل تباہ ہو گئے جب کہ 250 گھروں کو جزوی طور پر نقصان پہنچاہے۔

رپورٹ میں اب تک 23 افراد کے جاں بحق اور 10 کے زخمی ہونے کی تصدیق کی گئی ہے۔  علاوہ ازیں بتایا گیا ہے کہ بڑے پیمانے پر زرعی زمین، مویشیوں کی ہلاکت ، کئی علاقوں کا زمینی راستہ منقطع اور پانی کی لائنیں مکمل تباہ ہو چکی ہیں۔ زمینی راستے منقطع ہونے کی وجہ سے متاثرین کو خوارک اور پانی کی شدید قلت کا سامناہے۔

ابتدائی معلومات اکٹھی کرنے والی ٹیموں نے کئی روز کی مشقت کے بعد متاثرہ علاقوں کی طرف پہنچانا شروع  کردیا ہے۔ پاکستان ہلال احمر خیبر پختونخوا نے ممکنہ انسانی بحران سے بچنے کے لیے دیگر فلاحی اداروں اور عالمی تنظیموں سے فوری مدد کی اپیل کی ہے۔

عالمی برادری سے ملنے والی امداد ضرورت کو پورا کرنے میں ناکام ہے، شہباز شریف

 Wednesday 31-8-2022

 اسلام آبادوزیراعظم شہباز شریف نے عالمی برادری سے زیادہ امداد کی ضرورت کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ پاکستان میں سیلاب سے پیدا ہونے والی صورتحال کے بعد جو امداد موصول ہورہی ہے وہ ضرورت کو پورا کرنے میں ناکام ہے۔

اسلام آباد میں بین الاقوامی میڈیا کے نمائندوں سے بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ عالمی برادری کو اس مشکل گھڑی میں ہمارے ساتھ کھڑا ہوناچا ہے کیونکہ ہمیں مزید امداد کی ضرورت ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ لاکھوں افراد اپنی چھت سے محروم ہوگئے جبکہ 300 بچوں سمیت ایک ہزار سے زائد افراد جاں بحق ہوچکے ہیں، 10 لاکھ جانور ہلاک ہوچکے ہیں اور فصلیں مکمل طور پر تباہ ہوچکی ہیں۔

وزیر اعظم نے کہا کہ ملک میں معاشی صورتحال سنگین ہے اور اب سیلاب کے باعث حالات مزید سنگین ہوگئے ہیں، ملک میں انفرااسٹرکچر اور 3 ہزار 500 کلو میٹر سڑکیں، سیکڑوں پل اور انڈر پاسز تباہ ہوچکے ہیں۔

وزیر خارجہ کی عالمی اداروں سے اپیل پرسیلاب متاثرین کیلیے ایک کھرب 30 ارب روپے جمع

 Wednesday 31-8-2022

 اسلام آبادوزیر خارجہ بلاول بھٹو زرداری نے ایک گھنٹے میں اقوام متحدہ کے رکن ممالک سے تقریبا ایک کھرب 30 ارب روپے جمع کرلئے۔

وزیر خارجہ بلاول بھٹو زرداری کی اپیل پر ورلڈ بینک، ایشین ڈولپمنٹ بینک، عالمی ادارہ صحت، یونیسف، ہلال احمر، ریڈ کراس سمیت اقوام متحدہ کے رکن ممالک نے مثبت ردعمل دیا۔

فنڈ ریزنگ کے دوران امریکا نے وزیر خارجہ بلاول بھٹو زرداری کی اپیل کے بعد پاکستان کو ساڑھے چھ ارب روپے کی امداد دی، اس سے قبل چین،امریکا، ترکیہ، برطانیہ، آذر بائیجان، سعودی عرب، قطر، کویت، متحدہ عرب امارات ودیگر ممالک نے فوری امداد کا اعلان کیا۔

وزیر خارجہ بلاول بھٹو زرداری کی اپیل پر اقوام متحدہ کے رکن ممالک کی طرف سے نقد امداد کے علاوہ ٹینٹ، ادویات، کھانے پینے کی اشیاء سمیت دیگر اہم امدادی سامان فراہم کرنے کا بھی اعلان کیا گیا۔اقوام متحدہ کے رکن ممالک سمیت مختلف عالمی اداروں کی جانب سے پاکستان کی امداد کا سلسلہ جاری ہے۔

بجلی کی قیمت میں 4.34 روپے یونٹ اضافے کی منظوری

 Wednesday 31-8-2022

 اسلام آباد:  نیشنل الیکٹرک پاور ریگولیٹری اتھارٹی (نیپرا) نے بجلی کی قیمتوں میں 4 روپے 34 پیسے اضافے کی منظوری دے دی۔

حکومت نے ایک مرتبہ پھر مہنگائی کے ستائے عوام پر بجلی بم گرا دیا، نیشنل الیکٹرک پاور ریگولیٹری اتھارٹی (نیپرا) بجلی کی فی یونٹ قیمت میں بڑے اضافے کی منظوری دے دی۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ سی پی پی اے نے بجلی کی قیمتوں میں 4 روپے 69 پیسے فی یونٹ اضافے کی درخواست دائر کی تھی، جس پر عمل درآمد کرتے ہوئے نیپرا نے بجلی کی قیمتوں میں 4 روپے 34 پیسے کا اضافہ کردیا۔

قیمتوں میں اضافے کی منظوری جولائی کے ماہانہ فیول ایڈجسٹمنٹ چارجز کی مد میں دی گئی ہے، سنٹرل پاور پرچیزنگ ایجنسی (سی پی پی اے) درخواست میں کہا تھا کہ جولائی میں بجلی کی پیداواری لاگت 10.98 روپے فی یونٹ رہی جب کہ یشگی فیول لاگت 6.28 روپے فی یونٹ تھی۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ بجلی کی قیمتوں میں اضافے سے صارفین پر 35 ارب روپے سے زائد کا بوجھ پڑے گا۔

سی پی پی اے کے مطابق گزشتہ ماہ پانی سے 35.17 فیصد، کوئلے سے 12.74 فیصد بجلی پیدا کی گئی جب کہ ڈیزل سے 1.46 اور فرنس آئل سے 6.42 فیصد بجلی پیدا کی گئی۔

سنٹرل پاور پرچیزنگ ایجنسی کا کہنا ہے کہ ڈیزل سے پیدا ہونے والی بجلی کی لاگت 27 روپے 88 پیسے فی یونٹ آئی۔

سی پی پی اے کا کہنا تھا کہ فرنس آئل سے 35 روپے 69 پیسے فی یونٹ کے حساب سے بجلی پیدا کی گئی جب کہ مقامی گیس سے 10.36 فیصد اور درآمدی ایل این جی سے 14.98 فیصد بجلی پیدا کی گئی۔ ایل این جی سے پیدا ہونے والی بجلی کی لاگت 28 روپے 28 پیسے فی یونٹ آئی۔