Today news

Showing posts with label پاکستان. Show all posts
Showing posts with label پاکستان. Show all posts

Saturday, November 5, 2022

علامہ عارف واحدی کی ایرانی سفیر سے ملاقات، سانحہ شیراز پر تعزیت پیش کی

سیاسیات- شیعہ علماء کونسل پاکستان کے مرکزی نائب صدر علامہ عارف حسین واحدی نے ایرانی سفارتخانے میں سفیر محترم جناب سید محمد علی حسینی سے ملاقات کی اور شیراز میں حرم امام زادہ شاہ چراغ رہ میں ھونے والی دہشتگردی کے بارے میں تعزیتی بک پر اپنے تاثرات دیتے ہوئے لکھا کہ قائد ملت جعفریہ پاکستان علامہ سید ساجد علی نقوی اور شیعہ علماء کونسل کی طرف سے شہدائے گرامی قدر،ایرانی عوام اور خصوصا رہبر معظم انقلاب حضرت آیۃ اللہ خامنہ ای دام ظلہ العالی کی خدمت میں تسلیت پیش کرتے ہیں مقدس روحانی مرکز میں زیارت اور عبادت کے لئے آئے ہوئے زائرین کو دہشتگردی کا نشانہ بنانا دین دشمنی اور انقلاب اسلامی کے خلاف سازش ہے ایسے سانحات کے پیچھے شدت پسندی اور انتہا پسندی کی سوچ کارفرما ہے جن کی سرپرستی عالمی سامراجی اوراسلام دشمن قوتیں کر رہی ہیں۔جس کی ہم شدید مذمت کرتے ہیں- ملی یکجہتی کونسل کے مرکزی راہنما علامہ عارف واحدی نے ملی یکجہتی کونسل کی مرکزی قیادت کی طرف سے بھی تعزیت پیش کی اور کہا کہ ایسے سانحات پہ کونسل کا موقف ہے کہ یہ سامراجی طاقتوں کے امت مسلمہ کے خلاف ناپاک ہتھکنڈے ہیں تاکہ مسلمان کمزور ہو امت کو تنازعات میں الجھا کر مضبوط نہ ہونے دیا جائے ایسی سازشوں کا مقابلہ اتحاد بین المسلمین کو مضبوط بنا کر کیا جاسکتا ہے ملی یکجہتی کونسل ہر سطح پر مسلمان معاشرے کو آپس میں جوڑنے کے کوششوں میں ہمہ وقت مصروف ہے

Friday, October 21, 2022

حکومتی درخواست مسترد؛ سپریم کورٹ کا لانگ مارچ کے خلاف کسی بھی کارروائی سے انکار

 سیاسیات- سپریم کورٹ نے لانگ مارچ کے خلاف پہلے سے کوئی بھی حکم جاری کرنے سے انکار کردیا اور کہا ہے کہ حکومت قانون کے مطابق صورتحال سے نمٹ سکتی ہے، جب ہجوم آئے گا اور قانون کی خلاف ورزی ہوگی تب ہی ہم مداخلت کریں گے۔

 سپریم کورٹ میں عمران خان کے خلاف وفاقی حکومت کی جانب سے توہین عدالت کی درخواست کی سماعت ہوئی۔ سماعت چیف جسٹس پاکستان جسٹس عمر عطا بندیال کی سربراہی میں پانچ رکنی لارجر بینچ نے کی جن میں جسٹس اعجاز الاحسن، جسٹس منیب اختر، جسٹس یحییٰ خان آفریدی اور جسٹس محمد علی مظہر شامل تھے۔

سماعت شروع ہوئی تو اٹارنی جنرل اشتر اوصاف نے کہا کہ  وزارت داخلہ نے عمران خان کے خلاف توہینِ عدالت کی درخواست ہے،سپریم کورٹ میں عمران خان نے لانگ مارچ کے لیے اسلام آباد ہائی کورٹ میں درخواست دی تھی، اس درخواست کی سماعت کے دوران عدالت کو یقین دہانی کرائی گئی لیکن یقین دہانی کے باوجود عمران خان نے کارکنان کو ڈی چوک کی کال دی۔

اٹارنی جنرل نے کہا کہ عدالت کے حکم پر سری نگر ہائی وے گراؤنڈ کے راستے کھول دیئے گئے تھے اور کارکنان کو پکڑ دھکڑ سے روک دیا گیا تھا، عدالت نے پی ٹی آئی لیڈر شپ کو اپنے کارکنان کو پرسکون رہنے کی بھی ہدایت کی، سپریم کورٹ نے اپنے حکم میں لکھا ہے کہ فی الحال تحمل کا مظاہرہ کیا جائے، عدالت نے اپنے فیصلے میں آئی ایس آئی، آئی بی، آئی جی اسلام آباد وزارت داخلہ اور چیف کمشنر سے رپورٹ طلب کی۔

ایف اے ٹی ایف کا اجلاس آج ہوگا، پاکستان کا نام گرے لسٹ سے نکلنے کا امکان

 سیاسیات- فنانشل ایکشن ٹاسک فورس کا اہم اجلاس آج ہوگا، جس میں پاکستان کا نام فیٹف گرے لسٹ سے نکالے جانے کا باضابطہ اعلان متوقع ہے۔ 

سنگاپور میں ٹی راج کمار کی زیر صدارت ہونے والے اجلاس میں پاکستان کا نام گرے لسٹ سے نکالے جانے کا باضابطگی اعلان متوقع ہے جبکہ اس سے پہلے فیٹف پاکستان کی جانب سے فیٹف ایکشن پلان پر عمل درآمد کو تسلی بخش قرار دے چکا ہے اور پاکستان نام گرے لسٹ سے نکالنے کے حتمی اعلان سے پہلے فیٹف کی ٹیم فیزیکلی بھی پاکستان کا دورہ کرچکی ہے اور جس پر اُس نے اطمینان کا اظہار کیا تھا۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ فیٹف کا اجلاس سنگاپور میں ٹی راج کمار کی زیر صدارت ہوگا، جس میں پاکستان کا نام فیٹف گرے لسٹ سے نکالنے کا امکان ہے۔ ذرائع کے مطابق فنانشل ایکشن ٹاسک فورس کے اجلاس میں فیٹف کی منی لانڈرنگ و ٹیررازم فنانسنگ کی روک تھام کے حوالے سے بڑھتی ہوئی نگرانی کے تحت دائرہ اختیار میں فیٹف گرے لسٹ بارے اپ ڈیٹس کا اعلان بھی کیا جائے گا۔

اجلاس میں شیل کمپنیوں کو غیر قانونی فنڈز کو لانڈر کرنے کے لیے استعمال ہونے سے روکنے کے لیے فائدہ مند ملکیت کی شفافیت کو بہتر بنانے کے لیے رہنمائی اور عالمی اثاثوں کی وصولی کو بڑھانے کے لیے تجاویز بارے تفصیلی تبادلہ خیال کیا جائے گا جس کے بعدپاکستان کے 4 سال کے عرصے کے بعد فیٹف کی گرے لسٹ سے نکلنے کا امکان ہے کیونکہ اس نے 34 نکاتی ایکشن پلان کی کامیابی سے تعمیل کی ہے جس میں سے27 نکاتی ایکشن پلان دہشت گردی کی مالی معاونت سے متعلق تھا اور 7 نکاتی ایکشن پلان کا تعلق منی لانڈرنگ سے تھا۔

اس سے قبل جون میں جاری ہونے والے بیان میں ایف اے ٹی ایف نے نوٹ کیا تھا کہ جون 2022 کے ابتدائی اجلاس میں ایف اے ٹی ایف نے ابتدائی فیصلہ کیا تھاکہ پاکستان نے اپنے دو ایکشن پلانز کو کافی حد تک مکمل کر لیا ہے، جس میں 34 آئٹمز کا احاطہ کیا گیا ہے۔

اس بات کی تصدیق کے لیے سائٹ کے دورے کی ضمانت دی گئی ہے۔ پاکستان کی انسداد منی لانڈرنگ اور انسداد ٹیررازم فنانسنگ اصلاحات کا نفاذ شروع ہو چکا ہے اور اسے برقرار رکھا جا رہا ہے، اس کے علاوہ مستقبل میں نفاذ اور بہتری کو برقرار رکھنے کے لیے ضروری سیاسی عزم برقرار ہے۔

آئی جی خیبر پختو نخوا کا سوات کے تمام پہاڑوں کو دہشت گردوں سے خالی کرانے کا دعویٰ

سیاسیات - انسپکٹر جنرل آف پولیس(آئی جی) خیبرپختونخوا معظم جاہ انصاری نے سوات کے تمام پہاڑوں کو دہشت گردوں سے خالی کرانے کا دعویٰ کر دیا۔

ڈی آئی جی آفس سیدوشریف میں اہم پریس کانفرنس کے دوران آئی جی کے پی معظم جاہ انصاری نے کہا کہ سوات میں اسکول وین پر حملہ اور وین ڈرائیور کا قتل گھریلو تنازع تھا۔ جس میں سالے نے بہنوئی کو ساتھی کے ساتھ مل کر قتل کیا،واقعہ کو عوام نے دہشت گردی کا واقعہ تصور کیا۔

انہوں نے دعویٰ کیا کہ سوات کے تمام پہاڑوں کو دہشت گردوں سے خالی کرا دیا گیا ہے، 2 سے 3 مہینوں میں سوات میں رونقیں دوبارہ بحال ہوجائیں گی ۔ افغانستان میں اگست 2021 میں تبدیلی کے بعد حالات بدل گئےہیں ،افغانستان سے آنے والے لوگ جرائم کریں گے تو دہشت گرد قرار دیں گے۔

ان کا کہنا تھا کہ ایک سال کے دوران بھتے میں ملوث 63 افراد کو گرفتار کیا گیا، صوبائی وزیر عاطف خان کو بھتے کی کال کی تحقیقات کر رہے ہیں۔

توشہ خانہ کیس کا فیصلہ عمران خان کے خلاف آنے پر سخت احتجاج کیا جائے گا، پی ٹی آئی

 سیاسیات- تحریک انصاف کی قیادت نے توشہ خانہ کیس کا فیصلہ عمران خان کے خلاف آنے پر کارکنوں کو احتجاج کی ہدایت کردی ہے۔

خیبر پختونخوا کے صوبائی صدر پرویز خٹک نے کارکنوں کے نام آڈیو پیغام جاری کیا، جس میں انہوں ہدایت کی کہ الیکشن کمیشن کی جانب سے نے سابق وزیراعظم عمران خان کے خلاف توشہ خانہ کیس کا فیصلہ آج سنایا جاریا ہے۔

اپنے آڈیو پیغام مین انہوں نے کہا کہ توشہ خانہ کیس کا فیصلہ عمران خان کے حق میں آیا تو ٹھیک ہے اور خلاف آنے کی صورت ضلع کی سطح پر سخت احتجاج کیا جائے گا۔

واضح رہے کہ الیکشن کمیشن آف پاکستان نے توشہ خانہ کیس کا فیصلہ اکیس اکتوبر کو دوپہر دو بجے سنانے کا اعلان کیا ہے، اس ضمن میں متعلقہ فریقین کو نوٹسسز بھی جاری کردیے گئے ہیں۔

الیکشن کمیشن عمران خان کیخلاف توشہ خانہ کیس کا فیصلہ آج سنائے گا

سیاسیات- الیکشن کمیشن آف پاکستان پی ٹی آئی چیئرمین عمران خان کے خلاف دائر توشہ خانہ کیس کا فیصلہ آج سنائے گا۔

الیکشن کمیشن آف پاکستان کے ترجمان کی جانب سے جاری اعلامیے کے مطابق توشہ خانہ کیس کے فیصلے کے حوالے سے متعلقہ فریقین کو نوٹسسز جاری کردیے گئے ہیں۔ اعلامیے کے مطابق الیکشن کمیشن توشہ خانہ کیس کا فیصلہ دوپہر 2 بجے سنائے گا۔

ذرائع کے مطابق الیکشن کمیشن نے ضلعی انتظامیہ کو خط لکھ کر فول پروف سیکیورٹی طلب کرلی ہے۔ خط میں لکھا گیا ہے کہ پولیس کی بھاری نفری کو تعینات کیا جائے کیونکہ فیصلے کے وقت پی ٹی آئی کارکنان کے جمع ہونے کا خدشہ ہے۔

ضلعی انتظامیہ سے سفارش کی گئی ہے کہ توشہ خانہ فیصلے کی روشنی میں ریڈ زون اور الیکشن کمیشن کی عمارت کے ارد گرد سیکیورٹی تعینات کی جائے۔

الیکشن کمیشن کی سفارش پر ضلعی انتظامیہ نے ریڈ زون اور الیکشن کمیشن کے دفتر کے باہر اہلکاروں تعینات کردیا ہے۔

واضح رہے کہ الیکشن کمیشن نے 19 ستمبر کو دلائل مکمل ہونے کے بعد عمران خان کیخلاف توشہ خانہ کیس کا فیصلہ محفوظ کیا تھا۔

یہ بھی یاد رہے کہ پی ٹی آئی کے چیئرمین عمران خان متعدد بار جلسوں اور پارٹی تقاریب میں خطاب کرتے ہوئے یہ بات دہرا چکے ہیں کہ پی ڈی ایم اور موجودہ حکومت انہیں توشہ خانہ کیس میں الیکشن کمیشن کے ذریعے تاحیات نااہل کروانا چاہتی ہے۔ عمران خان متعدد بار یہ بھی مطالبہ کرچکے ہیں کہ آصف زرداری اور نوازشریف کے خلاف بھی توشہ خانہ کیس ساتھ سنا جائے اور اس کا فیصلہ بھی ساتھ ہی جاری کیا جائے۔

عمران خان پر الزام ہے کہ انہوں نے توشہ خانہ سے قیمتی تحائف سستے داموں حاصل کر کے انہیں الیکشن کمیشن سے چھپایا، جس کی بنیاد پر اسپیکر نے اُن سمیت پانچ اراکین کیخلاف الیکشن کمیشن میں ریفرنس دائر کیا تھا۔

Wednesday, October 19, 2022

صوبائی وزیر کے پی کو کالعدم ٹی ٹی پی کی جانب سے بھتے کا خط موصول

 سیاسیات- خیبر پختونخوا کے وزیر برائے کھیل عاطف خان کو کالعدم تحریک طالبان پاکستان کی جانب سے 80 لاکھ روپے بھتے کا خط موصول ہوا ہے۔

وزیر برائے کھیل عاطف خان نے تصدیق کرتے ہوئے بتایا کہ مجھے طالبان کی طرف سے بھتے کا خط موصول ہوا ہے جس کو متعلقہ سیکیورٹی اداروں کے ساتھ شئیر کیا ہے، دیکھتے ہیں متعلقہ سیکیورٹی ادارے اس حوالے سے کیا حکمت عملی کرتی ہیں۔


صوبائی وزیر کا کہنا تھا کہ دیگر رہنماؤں کو خط موصول ہونے سے متعلق میرے علم میں نہیں لیکن میں نے واضح طور پر آگاہ کیا ہے۔

خط میں صوبائی وزیر کو تنبیہ کی گئی ہے کہ ہمارے پاس آپ کے حوالے سے مکمل معلومات اور ریکارڈ موجود ہے، 3 روز کے اندر جواب دیں۔ یہ بھی کہا گیا ہے کہ آپ ٹی ٹی پی مردان کے مطلوبہ افراد کی فہرست میں شامل ہیں۔

خط کے مطابق اگر ٹی ٹی پی کے مطلوبہ افراد کی فہرست سے نکلنا ہے تو اس کے لیے 80 لاکھ روپے دینے ہوں گے۔

افواج پاکستان کو نیب قانون سے باہر کیوں رکھا گیا؟ سپریم کورٹ

 سیاسیات- سپریم کورٹ کے فاضل جج نے ریمارکس دیے ہیں کہ افواج پاکستان کو نیب قانون سے باہر کیوں رکھا گیا؟

چیف جسٹس عمر عطا بندیال کی سربراہی میں سپریم کورٹ کے تین رکنی خصوصی بنچ نے نیب ترامیم کیخلاف عمران خان کی درخواست پر سماعت کی۔

جسٹس اعجاز الاحسن نے کہا کہ کیا کوئی رہ گیا ہے جسے نیب قانون سے استثنی نہ ملا ہو، تحصیل کونسل کے چیئرمین اور وائس چیئرمین کے فیصلے بھی مستثنی ہوگئے ہیں۔

جسٹس منصور علی شاہ نے ریمارکس دیے کہ بظاہر افسران کو عوامی عہدیداران کو فیصلہ سازی کی آزادی دی گئی ہے۔

وکیل عمران خان خواجہ حارث نے کہا کہ ایسے فیصلہ سازوں سے ہی ماضی میں آٹھ ارب سے زائد ریکوری ہوئی۔ جسٹس منصور علی شاہ نے پوچھا کہ کیا ریکوری عوامی عہدیداران سے ہوئی تھی؟۔

خواجہ حارث نے جواب دیا کہ عوامی عہدیداروں کیلئے پیسے پکڑنے والوں سے ریکوری ہوئی تھی۔

جسٹس منصور علی شاہ نے کہا کہ ہر سرکاری فیصلے کا کسی نہ کسی طبقے کو فائدہ ہوتا ہی ہے۔

خواجہ حارث نے کہا کہ جب تک پہنچایا گیا فائدہ غیر قانونی نہ ہو تو کوئی قباحت نہیں، مخصوص افسر کو غیر قانونی فائدہ پہنچانے پر اس کیخلاف کارروائی نہ ہونا غلط ہے، اب تو کسی ریگولیٹری اتھارٹی اور سرکاری کمپنی پر نیب ہاتھ نہیں ڈال سکتا۔

جسٹس منصور علی شاہ نے ریمارکس دیے کہ افواج پاکستان کو نیب قانون کی دسترس سے باہر کیوں رکھا گیا ہے، ملک میں سارے بڑے کاروبار تو انہی کے ہیں، حیرت ہے تحریک انصاف نے فوج کو نیب قانون کی دسترس سے باہر رکھنے پر اعتراض کیوں نہیں اٹھایا، قانون کے مطابق ججز کو بھی استثنیٰ نہیں، ججز کے حوالے سے کوئی پردہ داری ہو تو علیحدہ بات ہے، احتساب کیلئے دیگر ادارے بھی موجود ہیں۔

خواجہ حارث نے کہا کہ نیب ترامیم کے ذریعے آمدن سے زائد اثاثہ جات اور اختیارات کے ناجائز استعمال کے جرائم کو ختم کردیا گیا۔

چیف جسٹس نے کہا کہ اثاثوں کا آمدن سے محض زائد ہونا کافی نہیں، اثاثہ جات میں کرپشن یا بے ایمانی کا ہونا بھی ضروری ہے۔

جسٹس منصور علی شاہ نے کہا کہ کل کو کوئی عدالت آکر کہے کہ آمدن سے زائد اثاثہ جات پر پھانسی ہونی چاہیے۔

چیف جسٹس نے خواجہ حارث سے کہا کہ بنیادی انسانی حقوق کے بارے میں بھی توازن ہوتا ہے، عام شہری کے حقوق ہیں تو دوسری طرف قومی مفاد اور معاشرے کے بھی بنیادی حقوق ہیں، دونوں کے مابین توازن ہونا چاہیے، آپ انفرادی انفرادی کو فائدہ ملنے کو معاشرے کے حقوق کیساتھ لنک کر رہے ہیں، اگر دیگر فورمز پر کیسز جائیں تو کیا ہوگا ہمیں اس پر معاونت درکار ہے، نیب قانون عوام مفاد کیلئے نقصان دہ کیسے ہے، یہ سوال اہم ہے۔

وکیل نے جواب دیا کہ کرپشن پر نیب کی کارروائی کی حد پچاس کروڑ روپے سے کم کرکے دس کروڑ بھی ہوسکتی ہے، ہمارا اعتراض نیب قانون کا اطلاق ماضی سے کرنے پر اعتراض ہے۔

سپریم کورٹ نے نیب قانون میں حالیہ ترامیم کیخلاف تحریک انصاف کی درخواست پر سماعت پیر تک ملتوی کردی۔

سوات میں لگی آگ مجھ سمیت سب تک پہنچ سکتی ہے،وزیر دفاع

 سیاسیات- خواجہ آصف نے کہا ہے کہ سوات میں لگی آگ مجھ سمیت سب کے دامن تک پہنچ سکتی ہے۔

وزیردفاع خواجہ آصف نے قومی اسمبلی میں اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ کچھ ایشوز ایسے ہیں جن کا حل بہت ضروری ہے ، معاملات کوسیاسی طریقے سے حل نہ کیاجائے تو مشکلات پیداہوجاتی ہیں، رستے ہوئے زخموں کو نظر انداز کرنا نقصان دہ ہے۔

وزیردفاع خواجہ آصف نے کہا کہ سوات میں 13سال بعد وہی سلسلہ شروع ہوگیاہے ، وہاں لگی آگ مجھ سمیت سب کے دامن تک پہنچ سکتی ہے، خوشی کی بات ہے سوات کے لوگ اکٹھے ہوئے ہیں ، ایشوز کے حل کے لیے ہمیں سر جوڑ کر بیٹھنا چاہیے۔
انہوں نے کہا کہ بلوچستان کے مسائل کے حل کے لئے سپریم کورٹ کے جج یا بلوچستان سے تعلق رکھنے والے کسی حاضر یا سابق جج کی سربراہی میں کمیشن بنا دیا جائے۔

ملتان ہسپتال کی چھتوں پر ملنی والی لاشوں کا ڈی این اے ہونا چاہئے، اگلے کابینہ اجلاس میں بلوچستان پر ٹروتھ کمیشن بنانے کا مطالبہ کروں گا، ملتان سے ملنے والی لاشوں کا ڈی این اے کرکے افواہوں کوروکنا چاہئے۔

Tuesday, October 18, 2022

بیک ڈور بات چیت ہوئی لیکن معاملات کلیئر نہیں ہوئے، عمران خان

سیاسیات- تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان نےحکومت کو عام انتخابات کے اعلان کیلئے چند دن کا الٹی میٹم دیتے ہوئے کہاہے کہ میری تیاری مکمل ہے‘ الیکشن کا اعلان نہ کیا گیا تو اکتوبر میں کسی بھی وقت مارچ کا اعلان کرونگا ‘اب بھی وقت ہے فیصلہ ساز ملک کی خاطر انتخابات کا اعلان کر دیں‘اگر ایک بار قوم سڑکوں پر نکل آئی تو اس بات کی کوئی ضمانت نہیں کہ نتیجہ کیا نکلے گا‘کسی کے پاس اس کو روکنے کا کوئی طریقہ نہیں‘ بیک ڈورچینل سے مذاکرات ہوبھی رہے ہیں اور نہیں بھی ‘ابھی معاملات کلیئر نہیں ہیں ‘ آرمی چیف کی تعیناتی میں نوازشریف اور آصف زرداری شامل نہ ہوں ‘ ان دونوں کا وقت ختم ہوچکا ‘اب یہ ہاریں گے‘ان لوگوں سے ڈائیلاگ کرنا مشکل ہے، چوروں سے کیسے مذاکرات کریں ‘سینیٹراعظم سواتی پر ایجنسیوں نے تشددکیا‘ دنیا بھر میں یہ خبر گئی ‘پاکستانی فوج اور آرمی چیف کی بدنامی ہوئی ‘اس کا مطلب یہ ہے کہ فوج آؤٹ آف کنٹرول (بے قابو)ہے ‘ قانون کے اوپر ہے اور کچھ بھی کرسکتی ہے ‘کیا پاکستان بناناری پبلک ہے ‘ہم یہ معاملہ عالمی فورمز پر اٹھائیں گے‘چیف جسٹس بھی نوٹس لیں۔ اداروں کے ساتھ مقابلہ کرنا نہیں چاہتے اس سے ملک کا ہی نقصان ہوگا۔ سابق وزیراعظم عمران خان کی زیر صدارت سینئر قائدین کا اہم اجلاس ہوا جس میں ملک بھر میں ضمنی انتخابات میں تحریک انصاف کی تاریخی کامیابی پر اظہارِ تشکر کیا ۔اجلاس میں پاکستان کی آزادی و خودمختاری کے ضمن میں امریکی صدر کے بیان پر شدید تشویش کا اظہار کیا گیا۔سینیٹر اعظم سواتی پر تشدد کی تحقیقات اور ذمہ داروں کیخلاف سخت کارروائی کیلئے اقدامات کی منظوری دی گئی‘اجلاس میں حقیقی آزادی کی تحریک کے حتمی مرحلے کی منصوبہ بندی پر تفصیلی مشاورت کی گئی۔اجلاس کے بعد پریس کانفرنس کرتے ہوئے عمران خان نے کہا کہ یہ لوگ ملک کو تباہی کی طرف لے کر جائیں گے لیکن الیکشن کا اعلان نہیں کریں گے اس لیے میں ان کو ایک مرتبہ پھروقت دے رہا ہوں تاہم مارچ اکتوبر سے آگے نہیں جائے گا۔ مارچ میں پتا چل جائے گا کہ عوام کہاں کھڑی ہے ۔ میں ان سب کو جو پاکستان میں اس حوالے سے کچھ کر سکتا ہے اور ان سیاسی جماعتوں کو بھی کہنا چاہتا ہوں کہ آپ کے پاس زیادہ وقت نہیں ہے، ہم فیصلہ کرچکے ہیں اور چند دنوں میں کسی بھی وقت میں اس کا اعلان کردوں گا۔عمران خان نے کہا کہ سری لنکا ڈھائی کروڑ آبادی کا ملک ہے، سری لنکا میں لوگ سڑکوں پر آگئے، اگر یہاں سڑکوں پر لوگ آ گئے تو کسی کے پاس طریقہ نہیں ہے کہ اس افراتفری کو کیسے روکا جائے گا۔ سابق وزیراعظم کا کہنا تھاکہ جن حلقوں میں ہمیں سب سے کمزور سمجھا گیا وہاں انتخابات کروائے گئے، اس بار انہوں نے مشترکہ امیدوار کھڑا کیامگر پھر بھی ناکام ہوئے‘یہ الیکشن نہیں ریفرنڈم تھا اس سے ثابت ہوتا ہے کہ قوم نئے الیکشن چاہتی ہے، قوم اس اسمبلی کو نہیں مانتی۔جو بھی اس ملک میں قوتیں ہیں اور ملک کا سوچ رہی ہیں، یہ لوگ تو ملک کا نہیں سوچ رہے، اصل مسئلہ پاکستانیوں کا ہے اور ایشو ان اداروں کا ہے جن کا اسٹیک پاکستان میں ہے، کیا وہ دیکھ نہیں رہے کہ ملک کے ساتھ کیا ہو رہا ہے؟۔ جب ملک اٹھ رہا تھا تو پھر ان کو این آر او دلوایا‘سارے اداروں کو کہنا چاہوں گا کہ جتنی دیر آپ ان کو بیٹھنے دیں گے، جتنی دیر یہ ہم پر مسلط رہیں گے ہمارا ملک نیچے جاتا رہے گا۔سابق وزیراعظم نے کہا کہ یہ لوگ کہتے ہیں کہ عمران خان نے ملک کو آئسولیٹ کردیا، جب میں امریکا گیا تو ٹرمپ نے کس طرح ہمارا استقبال کیا اور عزت دی‘یہاں وزیراعظم بیرون ممالک سے پیسے مانگتا پھر رہا ہے، کیا عزت ہے؟ بائیڈن کا بیان سب کے سامنے ہے۔عمران خان نے کہا کہ اعظم سواتی نے جذبات میں آکر کوئی بات کہہ دی ہے تو اس کیلئے قانون بنے ہوئے ہیں،انہوں نے الزام عائد کیا کہ ایجنسیز نے اس پر تشدد کیا، ادھر جا کر اس کو ننگا کیا،دنیا میں لوگ اس پر حیرت کر رہے ہیں، اور اس سے سب سے بڑی بدنامی پاکستان اور اس کی جمہوریت کی ہے‘کیا انسانوں کے بنیادی حقوق کے تحفظ کی ذمہ داری سپریم کورٹ کی نہیں؟، ہم اس معاملے پر پنجاب اور خیبر پختونخوا اسمبلی کے خصوصی اجلاس بلائیں گے،ہمارے سینیٹرز سپریم کورٹ میں پٹیشن فائل کریں گے‘تیسرا ہم عالمی تنظیموں سے رابطہ کریں گے ۔ایک سوال کے جواب میں عمران خان نے کہا کہ ہمیں دیوار سے بھی لگایا گیا لیکن اس کے باوجود ہم نے کوشش کی ہے کہ کوئی ایسی چیز نہ کریں جس سے اداروں کو نقصان پہنچے۔

عمران اس اسٹیبلشمنٹ سے الیکشن مانگتے ہیں جس کا وہ مذاق اڑاتے ہیں

سیاسیات- حکمران اتحاد جلد الیکشن نہیں چاہتا لیکن عمران خان نے پیر کو اسٹیبلشمنٹ کو آخری موقع دیتے ہوئے الیکشن کا مطالبہ کیا جس کیلئے اسٹیبلشمنٹ تیار نہیں بصورت دیگر، عمران خان نے خبردار کیا کہ وہ لانگ مارچ کا اعلان کر دیں گے۔

خود کو سیاست سے دور کرنے کے بعد اسٹیبلشمنٹ کا کہنا ہے کہ وہ ماضی کی غلطیاں نہیں دہرانا چاہتی۔ حکومت سے باہر نکالے جانے کے بعد سے عمران خان مسلسل اسٹیبلشمنٹ سے مداخلت اور جلد الیکشن کا مطالبہ کر رہے ہیں۔

موجودہ حکومت کے ابتدائی دنوں سے اسٹیبلشمنٹ کوشش کر رہی ہے کہ دونوں سیاسی فریقین مل بیٹھ کر مسئلے کا حل مذاکرات کے ذریعے نکالیں لیکن اُس وقت پی ٹی آئی نے سخت مؤقف اختیار کیا اور عمران خان نے25؍ مئی کو لانگ مارچ کا اعلان کیا۔

عمران خان کے 25؍ مئی کے مارچ نے اسٹیبلشمنٹ کو مایوس کیا جو دونوں فریقین کے درمیان مذاکرات کیلئے مدد کر رہی تھی۔ پیر کو عمران خان نے اپنی پریس کانفرنس میں اعتراف کیا کہ پس پردہ مذاکراتی عمل جاری ہے لیکن یہ آگے نہیں بڑھ رہا کیونکہ نواز شریف اور حکمران اتحاد جلد الیکشن کیلئے تیار نہیں۔

25؍ مئی کے لانگ مارچ کے بعد حکمران اتحاد نے فیصلہ کرلیا کہ حکومت اپنی مدت مکمل کریگی اور عمران خان کیساتھ جلد الیکشن کے آپشن پر بات نہیں ہوگی۔ عمران خان کی پیشگی شرط جلد الیکشن کیلئے مذاکرات ہے۔ عمران خان، ان کی پارٹی کے کچھ رہنماء اور سوشل میڈیا ٹیم سخت انداز سے اسٹیبلشمنٹ کو گزشتہ چند ماہ سے ہدف بنائے ہوئے ہیں تاکہ انہیں دباؤ میں لاکر موجودہ حکومت کو نکال باہر کیا جائے اور جلد الیکشن کی راہ ہموار کی جا سکے۔

تاہم، اسٹیبلشمنٹ نے فیصلہ کرلیا ہے کہ وہ عمران خان کی خواہش کے مطابق سیاسی معاملات میں مداخلت نہیں کرے گی۔ عمران خان نے کھل کر اس توقع سے اسٹیبلشمنٹ کا مذاق اڑایا کہ اُن کی دباؤ ڈالنے کی چال کارگر ثابت ہوگی لیکن عمران خان کو مطلوبہ نتائج نہیں ملے۔

صدر عارف علوی نے کوشش کی، کچھ پی ٹی آئی رہنماؤں پرویز خٹک اور فیصل واوڈا نے بھی عمران خان اور اسٹیبلشمنٹ کے درمیان ماضی کے تعلق کو جوڑنے کی کوشش کی۔ تاہم، ایسا دو وجوہات کی بناء پر نہیں ہو پایا۔ اول، اسٹیبلشمنٹ سیاسی جوڑ توڑ کی اپنی ماضی کی غلطیاں نہیں دہرانا چاہتی۔ دوم، عمران خان اور انکی جماعت نے اسٹیبلشمنٹ کی توہین کے معاملے میں تمام حدیں پار کر لی ہیں۔

سینیٹر اعظم سواتی کی حالیہ ٹوئٹس اور اس کے بعد عمران خان کی جانب سے سواتی کے خیالات کی تائید بھی توہین آمیز رہی۔ اب عمران خان کو اسٹیبلشمنٹ سے امید ہے کہ وہ موجودہ حکومت کو ہٹا کر جلد الیکشن کرائے گی۔ ایسے رویے سے عمران خان نہ صرف موجودہ اسٹیبلشمنٹ کا اعتماد کھو چکے ہیں بلکہ وہ مستقبل کی اسٹیبلشمنٹ کیلئے ناقابل پیش گوئی شخص بن چکے ہیں۔

جو لوگ اب معنی رکھتے ہیں؛ وہ جانتے ہیں کہ کس طرح عمران خان نے اُن لوگوں کی توہین و تضحیک کی جنہوں نے عمران خان کو 2018ء میں اقتدار میں لانے کیلئے کیا کچھ نہیں کیا۔ 

ذرائع کا کہنا ہے کہ موجودہ اسٹیبلشمنٹ غیر سیاسی رہنا چاہتی ہے تاکہ مستقبل کی اسٹیبلشمنٹ کو غیر جانبداریت کا ماحول دے کر جاسکے، یہ ادارے اور ملک کے مفاد میں ہے۔

فیٹف کا اجلاس 21 اکتوبر کو طلب، پاکستان کا نام گرے لسٹ سے نکلنے کا قوی امکان

سیاسیات- ایف اے ٹی ایف نے پاکستان کا نام گرے لسٹ سے نکالنے کا حتمی جائزہ لینے کیلئے 21 اکتوبر کو اجلاس طلب کرلیا، قوی امکان ہے کہ پاکستان کا نام گرے لسٹ سے نکال دیا جائے گا۔

ذرائع کے مطابق فیٹف کا اجلاس 21 اکتوبر کو سنگاپور میں ٹی راج کمار کی زیر صدارت منعقد ہوگا۔ اس اجلاس میں پاکستان کا نام فیٹف گرے لسٹ سے نکالے جانے کا امکان ہے۔

ذرائع کے مطابق فنانشل ایکشن ٹاسک فورس (ایف اے ٹی ایف) کے اجلاس میں فیٹف کی منی لانڈرنگ و ٹیررازم فنانسنگ کی روک تھام کے حوالے سے بڑھتی ہوئی نگرانی کے تحت دائرہ اختیار میں فیٹف گرے لسٹ کے بارے میں اَپ ڈیٹس کا اعلان کیا جائے گا۔

اجلاس میں شیل کمپنیوں کو غیر قانونی فنڈز کو لانڈر کرنے کے لیے استعمال ہونے سے روکنے کے لیے فائدہ مند ملکیت کی شفافیت کو بہتر بنانے کے لیے رہنمائی اور عالمی اثاثوں کی وصولی کو بڑھانے کے لیے تجاویز بارے تفصیلی تبادلہ خیال کیا جائے گا۔

اجلاس میں پاکستان کے چار سال کے عرصے کے بعد فیٹف کی گرے لسٹ سے نکلنے کا امکان ہے کیونکہ اس نے 34 نکاتی ایکشن پلان کی کامیابی سے تعمیل کی ہے جس میں سے 27 نکاتی ایکشن پلان دہشت گردی کی مالی معاونت سے متعلق تھا اور 7 نکاتی ایکشن پلان کا تعلق منی لانڈرنگ سے تھا۔

جون 2022ء کے ابتدائی اجلاس میں ایف اے ٹی ایف نے ابتدائی فیصلہ کیا تھا کہ پاکستان نے اپنے دو ایکشن پلانز کو کافی حد تک مکمل کرلیا ہے، جس میں 34 آئٹمز کا احاطہ کیا گیا ہے اور اس بات کی تصدیق کے لیے سائٹ کے دورے کی ضمانت دی گئی۔

قبل ازیں فیٹف پاکستان کی جانب سے ایکشن پلان پر عمل درآمد کو تسلی بخش قرار دے چکا ہے اور پاکستان نام گرے لسٹ سے نکالنے کے حتمی اعلان سے پہلے فیٹف کی ٹیم پاکستان کا دورہ مکمل کرچکی ہے اور اس ٹیم نے بھی اطمینان کا اظہار کیا تھا۔

انتخابات کب ہونگے فیصلہ ہم کریں گے، اتحادی جماعتوں نے عمران خان کا مطالبہ مسترد کردیا

سیاسیات- حکومتی اتحادی جماعتوں نے جلد الیکشن کا مطالبہ مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ ملک میں انتخابات کب ہونے ہیں، اس کا فیصلہ اتحادی جماعتیں کریں گی، کسی جتھے کو طاقت کی بنیاد پر یہ فیصلہ کرنے کی اجازت نہیں دیں گے، قانون ہاتھ میں لینے والوں سے قانون کے مطابق نمٹیں گے۔

ذرائع کے مطابق پیر کو جاری مشترکہ بیان میں اتحادی جماعتوں کی جانب سے سابق صدر آصف علی زرداری، پاکستان مسلم لیگ (ن) کے قائد اور سابق وزیراعظم محمد نواز شریف کے خلاف بیان اور الزامات کی شدید الفاظ میں مذمت کی گئی۔

مشترکہ بیان میں کہا گیا ہے کہ وزیراعظم پاکستان قانون کے مطابق آرمی چیف کی تقرری کا فیصلہ کریں گے، یہ تعیناتی فارن فنڈڈ فتنے کی دھونس، دھمکی اور ڈکٹیشن پر نہیں ہوگی، آرمی چیف، حساس اداروں کی قیادت، افسران، چیف الیکشن کمشنر سمیت دیگر کو نشانہ بنانے کا مقصد ’بلیک میلنگ‘ ہے جو قطعی طور پر سیاسی رویہ نہیں بلکہ سازش کا حصہ ہے جسے کامیاب نہیں ہونے دیا جائے گا، آئین اور قانون میں واضح ہے کہ آرمی چیف سمیت دیگر عہدوں پر تقرری وزیراعظم کا دستوری اختیار ہے۔

بیان میں کہا گیا کہ اقتدار سے محروم شخص قومی اداروں کو ایک سوچے سمجھے ایجنڈے کے تحت نشانہ بنارہا ہے، پاک فوج کے شہداء کے خلاف غلیظ مہم، فوج میں بغاوت کے بیانات اور حوصلہ افزائی جیسے اقدامات ملک دشمنی کے مترادف ہیں جن سے آئین اور قانون کے مطابق نمٹاجائے گا، غنڈہ گردی اور دھونس کی بنیاد پر آئین، جمہوریت اور نظام کوغلام نہیں بننے دیاجائے گا۔

بیان میں یہ بھی واضح کیا گیا ہے کہ ملک کی معیشت اور سیلاب متاثرین کی بحالی اس وقت اولین قومی ترجیح ہے جس پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیاجائے گا، حکومت، اداروں اور عوام کا اتفاق ہے کہ سیاسی عدم استحکام پیدا کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی جبکہ معیشت کو پٹڑی سے اتارنے اور وسائل کی متاثرین سیلاب تک رسائی کے عمل کو کسی صورت متاثر نہیں ہونے دیا جائے گا۔

بیان میں کہا گیا کہ 16 اکتوبر2022ء کو ہونے والے ضمنی انتخابات کے بعد اتحادی حکومت کی قومی اسمبلی میں نشستوں کی تعداد 174 سے بڑھ کر 176 ہوگئی ہے جبکہ فتنے کے تکبر کی وجہ سے قومی اسمبلی میں پی ٹی آئی کی 8 نشستیں کم ہوگئی ہیں۔

Monday, October 17, 2022

ضمنی انتخابات؛ عمران خان 8 میں سے 6 قومی اسمبلی کی نشستوں پر کامیاب

سیاسیات- ملک بھر میں قومی اسمبلی کی 8 انتخابی نشستوں کے نتائج کے مطابق چیئرمین پی ٹی آئی عمران خان 8 سے 6 انتخابی نشستوں پشاور، مردان، چارسدہ، ننکانہ صاحب، فیصل آباد اور کراچی (این اے 239) سے کامیاب ہوگئے ہیں۔ 

دوسری جانب قومی اسمبلی کی نشست این اے 157 ملتان اور این اے 237 کراچی سے پیپلز پارٹی کامیاب ہوئی ہے۔ علاوہ ازیں پنجاب اسمبلی کی 3 نشستوں پر ضمنی انتخابات کے نتائج موصول ہوچکے ہیں جس کے مطابق پی ٹی آئی نے 2 جبکہ مسلم لیگ (ن) نے ایک نشست حاصل کی۔

واضح رہے کہ پاکستان تحریک انصاف کے اراکین قومی اسمبلی کے استعفے منظور ہونے کے بعد خالی ہونے والی خیبرپختونخوا کی 3، پنجاب کی 3 اور سندھ کی 2 نشستوں پر ضمنی انتخابات ہوئے۔
تینوں صوبوں میں پی ڈی ایم اور حکومت کی اتحادی جماعتوں کا پی ٹی آئی سے سخت مقابلہ ہوا جن میں سے 7 نشستوں پر خود عمران خان بطور امیدوار حصہ لیا جبکہ ایک نشست پر شاہ محمود قریشی کی صاحبزادی مہر بانو پی ٹی آئی کے ٹکٹ سے بلے کے نشان پر الیکشن لڑا۔

خیبرپختونخوا کی 3 قومی اسمبلی نشستوں کے نتائج   

این اے 22 مردان: پی ٹی آئی کامیاب 

این اے 22 مردان کے تمام 330 پولنگ اسٹیشنز کے نتائج الیکشن کمیشن کو موصول ہوگئے جس کے مطابق عمران خان 76 ہزار 681 ووٹ لے کر کامیاب ہوگئے ہیں جبکہ جے یو آئی (ف) محمد قاسم 68 ہزار 181 ووٹ لے کر دوسرے نمبر پر رہے۔

الیکشن کمیشن کے مطابق این اے 22 مردان میں ووٹرز کا ٹرن اوور 32.94 فیصد رہا۔

این اے 31 پشاور: پی ٹی آئی کامیاب 

الیکشن کمیشن نے این اے 31 پشاور کا فارم 47 جاری کردیا۔ تفصیلات کے مطابق عمران خان 57818 ووٹ حاصل کرکے کامیاب ہوگئے ہیں۔ اے این پی کے غلام بلور کے 32 ہزار 252  ووٹ لے سکے۔

جماعت اسلامی کے محمد اسلم 3 ہزار 817 ووٹ لیکر تیسرے نمبر پر رہے۔ این اے 31 پشاور میں ووٹرز ٹرن آؤٹ 20.28 فیصد رہا۔

این اے 24 چارسدہ: پی ٹی آئی کامیاب 

این اے 24 چارسدہ سے تمام 384 پولنگ اسٹیشنز کے نتائج کے مطابق عمران خان 78589 ووٹ لے کر کامیاب ہوگئے ہیں جبکہ ایمل خان ولی کے 68356 کے ساتھ دوسرے نمبر پر ہیں۔

این اے 24 چارسدہ میں ووٹرز کا ٹرن آؤٹ 29.02 فیصد رہا۔

پنجاب کی 3 قومی اسمبلی نشستوں کے نتائج

این اے 108 فیصل آباد: پی ٹی آئی کامیاب    

این اے 108 کے 354 پولنگ اسٹیشنز کے نتائج الیکشن کمیشن کو موصول ہوگئے ہیں جس کے مطابق پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان 99602 ووٹ لے کر کامیاب ہوگئے ہیں۔

نتائج کے مطابق مسلم لیگ (ن) کے عابد شیر علی 75131 ووٹ حاصل کرسکے۔ انتخابی حلقے میں ووٹرز کا ٹرن آؤٹ 36.49 فیصد رہا۔

این اے 118 ننکانہ صاحب: پی ٹی آئی کامیاب

حلقہ این اے 118 کے تمام 319 پولنگ اسٹیشنز کے نتائج الیکشن کمیشن کو موصول ہوگئے جس کے مطابق پی ٹی آٸی امیدوار عمران خان 90180 ووٹ لے کر کامیاب ہوگئے۔

انتخابی نتائج کے مطابق مسلم لیگ (ن) کی امیدوار ڈاکٹر شذرہ منصب علی کھرل 78024 جبکہ  ٹی ایل پی کے پیر افضال حسین شاہ 24630 ووٹ لے سکے۔  این اے 118 ننکانہ صاحب میں ووٹرز کا ٹرن آؤٹ44.1 فیصد رہا۔

این اے 157 ملتان: پیپلز پارٹی کامیاب 

ملتان کے حلقہ این اے 157 کے تمام 264 پولنگ اسٹیشنز کے نتائج الیکشن کمیشن کو موصول ہوگئے جس کے مطابق پیپلز پارٹی کے علی موسی گیلانی 107327 ووٹ کے ساتھ کامیاب ہوگئے جبکہ ٹی آئی کی امیدوار مہربانو 82142 ووٹ لے سکیں۔

این اے 157 ملتان میں ووٹرز کا ٹرن آوٹ 44.22 فیصد رہا۔

سندھ کی 2 قومی اسمبلی نشستوں کے نتائج 

این اے 237 کراچی: پیپلز پارٹی کامیاب 

این اے 237 ملیر کے تمام 194 پولنگ اسٹیشنز کے نتائج الیکشن کمیشن کو موصول ہوگئےجس کے مطابق پیپلز پارٹی کے عبدالحکیم بلوچ 32567 ووٹ لے کر کامیاب ہوگئے ہیں۔

انتخابی نتائج کے مطابق پی ٹی آئی کے عمران خان 22493 ووٹ لے سکے۔ انتخابی حلقے میں ووٹرز کا ٹرن آؤٹ 20.33 فیصد رہا۔

این اے 239 کراچی: پی ٹی آئی کامیاب

این اے 239 کورنگی کے 330 پولنگ اسٹیشن کے نتائج الیکشن کمیشن کو موصول ہوگئے ہیں جس کے مطابق عمران خان 50014 ووٹ لے کر کامیاب ہوگئے ہیں۔

انتخابی نتائج کے مطابق ایم کیو ایم کے سید نیئر رضا 18116 ووٹ لے سکے۔ حلقے میں ووٹرز کا ٹرن آؤٹ 14.88 فیصد رہا۔

پنجاب کی 3 صوبائی نشستوں کے نتائج  

پی پی 241 بہاولنگر: پی ٹی آئی کامیاب

پی پی 241 کے تمام 168 پولنگ اسٹیشنز کے نتائج الیکشن کمیشن کو موصول ہوگئے جس کے مطابق تحریک انصاف کے امیدوار ملک مظفر خان59957  ووٹ لے کر کامیاب ہوگئے جبکہ مسلم لیگ (ن) کے امان اللہ ستار باجوہ 48147 ووٹ لے کر دوسرے نمبر پر رہے۔

پی پی 241 بہاولنگر میں ووٹرز کا ٹرن آوٹ 48.83 فیصدرہا۔

پی پی 209 خانیوال: پی ٹی آئی کامیاب 

پی پی 209 خانیوال کے تمام پولنگ اسٹیشنز کے نتائج الیکشن کمیشن کو موصول ہوگئے جبکہ الیکشن کمیشن نے پی پی 209 خانیوال کا فارم 47 بھی جاری کردیا جس کے مطابق پی ٹی آئی کے فیصل خان نیازی 71 ہزار 156 ووٹ لے کر کامیاب ہوگئے۔

فارم 47 کے مطابق مسلم لیگ (ن) کے چوہدری ضیا الرحمن 57 ہزار 603 ووٹ حاصل کرسکے۔ پی پی 209 خانیوال میں ووٹرز کا ٹرن آؤٹ 53.32 فیصد رہا۔

پی پی 139 شیخوپورہ: ن لیگ کامیاب 

پی پی 139 کے تمام 153 پولنگ اسٹیشنز کے نتائج الیکشن کمیشن کو موصول ہوگئے۔  الیکشن کمیشن کی جانب سے پی پی 139 شیخوپورہ کا فارم 47 جاری کردیا گیا ہے۔

جس کے مطابق مسلم لیگ (ن) کے افتخار احمد بھنگو 40829 ووٹ لے کر کامیاب ہوگئے جبکہ پی ٹی آئی کے محمد ابو بکر 37712 لے کر دوسرے نمبر پرہیں۔ پی پی 139 میں ووٹرز کا ٹرن آؤٹ 41.86 فیصد رہا۔

Sunday, October 16, 2022

جوبائیڈن کا بیان مضحکہ خیز اور سامراجی سوچ کا عکاس ہے، قائد ملت جعفریہ پاکستان

سیاسیات ۔ قائد ملت جعفریہ پاکستان علامہ سید ساجد علی نقوی نے امریکی صدر جوبائیڈن کے بیان کو مضحکہ خیز قرار دیتے ہوئے کہا کہ جوبائیڈن کا بیان اس ادراک اور احساس کا عکاس ہے کہ جوہری پاکستان واقعی استعماری قوتوں اور ان کے حاشیہ برداروں کے مذموم عزائم کے لئے خطرناک اور دنیا میں امن کے لئے تقویت کا باعث ہے۔ امریکی صدر کے بیان پر تبصرے کرتے ہوئے علامہ سید ساجد علی نقوی نے کہا کہ جوبائیڈن کے اس بیان نے ایک بار پھر اس امریکی سامراجی ذہنیت اور روش کو ظاہر کیا ہے کہ امریکہ دنیا کا ٹھیکیدار بن کر ماضی کی طرح اب بھی ہر ملک میں مداخلت سے باز نہیں آیا۔ انہوں کہا کہ افسوس ہے امریکہ نے اب تک ماضی کی شکستوں سے سبق نہیں سیکھا اور ایک بار پھر اپنی اسی روش کو دوہراتے ہوئے وہ دنیا کو نئے قضیہ کی جانب بڑھا کر فساد فی الارض کا مرتکب ہونا چاہتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ سامراجی اور جارح قوتوں کو ان کے مذموم عزائم سے باز رکھنے کے لئے جوہری پاکستان کو خطرناک سمجھنا دنیا کے لئے امن ناگزیر ہے کیونکہ سامراجی و جارح قوتوں کے مذموم عزائم سے انسانی زندگیوں کا تحفظ دراصل خطے اور دنیا کے امن سے مربوط ہے۔

قائد ملت جعفریہ پاکستان  نے کہا کہ جس طرح امریکہ سمیت ہر ملک کو اپنے دفاع کا حق حاصل ہے، اسی طرح وطن عزیز پاکستان کا بھی یہ حق ہے کہ وہ اپنے دفاع کو مضبوط سے مضبوط تر بنائے۔ انہوں نے واضح کیا کہ جوبائیڈن نے پاکستانی جوہری ہتھیاروں کو بے ترتیب کہہ کر بھی اپنی ناقص معلومات کی تصدیق کی ہے کیونکہ پاکستان کا جوہری سسٹم کنٹرول اور مضبوط ہے اور ایک ذمہ دار ملک کی طرح جوہری پاکستان نے آج تک دنیا کے امن میں جو کردار ادا کیا ہے دنیا اس کی قائل رہی ہے۔ تاہم انہوں نے تاریخی حقیقت کی جانب توجہ مبذول کراتے ہوئے کہا کہ جاپان میں پون صدی گزر جانے کے باوجود نسل در نسل چلے آنے والے انسانی معذوری کے آثار دنیا کے امن کے لئے جوہری امریکہ کے خطرناک ہونے کا آج بھی اشتہار پیش کر رہے ہیں۔ انہوں نے امریکی صدر کو مشورہ دیا کہ اب امریکہ کو دنیا میں ٹھیکیدارانہ مداخلت کی روش ترک کرکے برابری کی بنیاد پر تمام ممالک کے ساتھ تعلقات استوار کرنے چاہیئے تاکہ دنیا کے معاشروں میں ہم آہنگی اور انسانی دوستی کی کاوشیں پنپ سکیں اور دنیا امن کا گہوارہ بن سکے۔

امریکا کون ہوتا ہے ہمارے ایٹمی اثاثوں پر بات کرنیوالا، بائیڈن کے بیان پر فضل الرحمان کا ردعمل

سیاسیات- جمعیت علمائے اسلام (جے یو آئی)  ف کے سربراہ  مولانا فضل الرحمان نے امریکی صدر جوبائیڈن کے پاکستان کے ایٹمی اثاثوں سے متعلق بیان پر  شدید ردعمل کا اظہار کیا ہے۔

اسلام آباد میں مفتی محمود کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے مولانا فضل الرحمان کا کہنا تھا کہ امریکا کون ہوتا ہے ہمارے ایٹمی اثاثوں پر بات کرنے والا اور ہمیں روکنے والا، ہم نے ایٹمی قوت پاکستان کی ریاست کے دفاع کے لیے حاصل کی ہے، کسی پر جارحیت کے لیے نہیں۔

 چیئرمین پاکستان تحریک انصاف کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے مولانا فضل الرحمان کا کہنا تھا سیاست اقتدار تک رسائی کے لیے چالاکیوں کا نام نہیں ہے،سیاست ایک مقدس فریضہ ہے۔

یاد رہے کہ امریکی صدر نے ڈیموکریٹک کانگریشنل کیمپین کمیٹی میں خطاب کیا جس میں انہوں نے روس، چین کا حوالہ دیتے پاکستان کو بھی لپیٹ میں لے لیا تھا۔

امریکی صدر نے الزام عائد کیا کہ میراخیال ہے پاکستان خطرناک ترین ممالک میں سے ایک ہے اور پاکستان کا ایٹمی پروگرام بے قاعدہ ہے، اس بات کا خدشہ ہےکہ اسے کوئی بھی استعمال کر سکتا ہے۔

وزیراعظم شہباز شریف اور وزیر خارجہ بلاول بھٹو زرداری نے امریکی صدر کے بیان کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ ہمارے ایٹمی اثاثے بالکل محفوظ اور عالمی قوانین کے مطابق ہیں۔ پاکستان کی جانب سے امریکی سفیر ڈونلڈ بلوم کو طلب کر کے احتجاج ریکارڈ کرایا گیا اور انہیں ڈی مارش بھی کیا گیا۔

قومی اسمبلی کی 8 نشستوں پر ضمنی انتخابات کیلیے پولنگ شروع

ملک کے تین صوبوں میں قومی اسمبلی کی 8 نشستوں پر ضمنی انتخابات کیلیے پولنگ شروع ہو گئی۔

پاکستان تحریک انصاف کے اراکین قومی اسمبلی کے استعفے منظور ہونے کے بعد خالی ہونے والی خیبرپختونخوا کی دو، پنجاب کی چار اور سندھ کی دو نشتوں پر ضمنی انتخابات آج ہو رہے ہیں ۔

تینوں صوبوں میں پی ڈی ایم اور حکومت کی اتحادی جماعتوں کا پی ٹی آئی سے سخت مقابلہ ہوگا، جن میں سے 7 نشستوں پر خود عمران خان بطور امیدوار ہیں جبکہ ایک نشست پر شاہ محمود قریشی کی صاحبزادی مہر بانو پی ٹی آئی کے ٹکٹ سے بلے کے نشان پر الیکشن لڑ رہی ہیں۔

خیبرپختونخوا کے حلقے این اے 22 مردان میں جمیعت علما اسلام کی جانب سے مولانا قاسم جبکہ چارسدہ حلقہ این اے 24 سے عوامی نیشنل پارٹی کے صوبائی صدر ایمل خان ولی کو ٹکٹ دیا گیا ہے، ان دونوں امیدواروں کی حکومت میں شامل تمام اتحادی جماعتوں نے حمایت کا اعلان کردیا ہے۔ پی ڈی ایم امیدواروں کا مقابلہ پی ٹی آئی کے چیئرمین عمران خان سے ہوگا۔

پنجاب کی تین نشستوں حلقہ این اے 108 فیصل آباد، ننکانہ صاحب این اے 118 سے مسلم لیگ ن نے بالترتیب عابد شیر علی اور ڈاکٹر شذرہ منصب علی کو ٹکٹ دیا ہے، جن کو پی ڈی ایم کی حمایت بھی حاصل ہے۔ ان دونوں حلقوں پر بھی لیگی امیدواروں کے مدمقابل عمران خان ہوں گے۔

ملتان این اے 157 کی نشست پر شاہ محمود قریشی کی صاحبزادی مہر بانو قریشی پی ٹی آئی کے ٹکٹ پر الیکشن لڑیں گی جن کا مقابلہ یوسف رضا گیلانی کے بیٹے اور پی پی کے امیدوار علی موسیٰ گیلانی سے ہوگا۔

علاوی ازیں کراچی کے حلقہ این اے 237 اور 239 میں عمران خان کے مدمقابل پی ڈی ایم نے بالترتیب عبدالحکیم بلوچ اور ایم کیو ایم کے نیئر رضا کو مشترکہ امیدوار نامزد کیا ہے۔ حلقہ این سے 237 میں مجموعی طور پر گیارہ جبکہ حلقہ این اے 239 میں مجموعی طور پر 22 امیدوار مد مقابل ہیں۔

قومی اسمبلی کے 8 حلقوں کے علاوہ پنجاب اسمبلی کے تین حلقوں پی پی 139شیخوپورہ، پی پی 209خانیوال اور پی پی241 بہاولنگر میں بھی ضمنی انتخاب ہوگا۔

 الیکشن میں امن و امان کو یقینی بنانے کے لیے سیکیورٹی کے فول پروف انتظامات کیے گئے ہیں جبکہ انتخابی سامان ریٹرننگ افسران کی زیر نگرانی پولنگ اسٹیشن منتقل کردیا گیا ہے۔

الیکشن کمیشن نے کراچی کے دونوں این اے 237 اور 239 کے تمام پولنگ اسٹیشنز کو حساس یا انتہائی حساس قرار دیا گیا ہے۔

تمام حلقوں میں پولنگ صبح 8 بجے سے شام پانچ بجے تک بغیر کسی وقفے کے جاری رہے گی۔ الیکشن کمیشن نے رینجرز، ایف سی اور پاک فوج کی تعیناتی کا نوٹیفکیشن جاری کردیا گیا۔

اُدھر ریٹرننگ افسر نے فیصل آباد کے حلقہ این اے 108 میں امیدوار کی جانب سے ووٹ خریدنے کی خبر کا نوٹس لیتے ہوئے سٹی پولیس افسر سے رپورٹ طلب کرلی۔

Saturday, October 15, 2022

ایٹمی پروگرام سے متعلق امریکی صدر کا بیان حقائق کے برعکس اور گمراہ کن ہے، وزیراعظم

سیاسیات- وزیراعظم شہباز شریف نے امریکی صدر سے منسوب بیان حقائق کے برعکس اور گمراہ کن قرار دیتے ہوئے مسترد کرتے ہوئے کہا کہ گزشتہ دہائیاں ثبوت ہیں کہ پاکستان انتہائی ذمہ دار جوہری ریاست ہے.

وزیر اعظم شہباز شریف نے امریکی صدر کے بیان پر کہا کہ جوہری پروگرام موثر تکنیکی اور فول پروف کمانڈ اینڈ کنٹرول سسٹم کے زیر انتظام ہے، جوہری ہتھیاروں کی صلاحیت سے متعلق پاکستان نے ہمیشہ نہایت ذمہ دارانہ کردار کا مظاہرہ کیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان نے عدم پھیلاؤ، سلامتی وتحفظ پر عالمی ایٹمی توانائی ایجنسی (آئی۔اے۔ای۔اے) سمیت عالمی معیارات کے اپنے پختہ عہد کو پورا کیا ہے، عالمی امن کو اصل خطرہ عالمی مروجہ اقدار کو پامال کرنے والی بعض ریاستوں، انتہا پسند قومیت پسندی، غیرقانونی قبضوں کے خلاف جدوجہد کرنے والوں کے انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں سے ہے۔

شہباز شریف نے کہا کہ دنیا کے امن کو اصل خطرہ سرفہرست جوہری ممالک کے درمیان اسلحہ کی دوڑ سے ہے، دنیا کے امن کو اصل خطرہ ان ممالک سے ہے جہاں جوہری سلامتی سے متعلق باربار حادثات ہوئے.

انہوں نے کہا کہ دنیا کے امن کو اصل خطرہ سلامتی کے ان اتحادوں سے ہے جن کی تشکیل سے علاقائی توازن متاثر ہو رہا ہے۔ وزیر اعظم شہباز شریف نے کہا کہ پاکستان اور امریکہ کے درمیان دوستی اور باہمی مفاد پر مبنی تعاون کی ایک طویل تاریخ ہے۔

وزیراعظم شہباز شریف نے کہا کہ دنیا جب بڑے بڑے مسائل اور مشکلات سے دوچار ہے، ایسے میں پاکستان اور امریکہ کے درمیان تعلقات کی حقیقی صلاحیت کو پہچاننے کے لئے خالص اور پائیدار کوششیں نہایت ناگزیر ہیں اس مقصد کے لئے غیرضروری بیانات سے پرہیز کیا جائے.

حکومت کا اکتوبر کے بلوں میں عوام کو بڑا ریلیف

 سیاسیات- وزیراعظم شہباز شریف نے اکتوبر کے بلوں میں عوام کو بڑا ریلیف دیتے ہوئے بجلی کے نرخ میں سوا چار روپے فی یونٹ کی کمی کردی۔

اسی ضمن میں وزیر اطلاعات و نشریات مریم اورنگزیب نے کہا ہے کہ وزیراعظم شہباز شریف نے عوام کو بڑا ریلیف دیتے ہوئے بجلی کے نرخ میں سوا 4 روپے کی کمی کردی ہے، یہ کمی اکتوبر کے مہینے کے لیے فیول چارجز ایڈجسٹمنٹ کی مد میں کی گئی ہے، ستمبر کے بجلی کے بلوں میں لگنے والی سہ ماہی ایڈجسٹمنٹ ہی جاری رکھنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔

وزیر اطلاعات کے مطابق عوام پر بوجھ کو دیکھتے ہوئے صارفین کے بجلی کے ریٹ نہ بڑھانے کا فیصلہ کیا گیا۔

صدر جوبائیڈن کا بیان: امریکی سفیر دفتر خارجہ طلب

سیاسیات- پاکستان نے امریکی سفیر ڈونلڈ بلوم کو دفتر خارجہ طلب کرلیا۔

سفارتی ذرائع کے مطابق امریکی صدر جوبائیڈن کے بیان پرامریکی سفیر ڈونلڈ بلوم سے وضاحت طلب کی گئی ہے اور پاکستان کی جانب سے احتجاجی مراسلہ بھی امریکی سفیر کے حوالے کیا جائے گا۔

ذرائع کا کہنا ہےکہ دفترخارجہ حکام نے امریکی صدر کے بیان پر شدید تحفظات کا اظہار کیا اور  اجلاس  میں امریکی سفیر  کی  طلبی کا فیصلہ کیا گیا۔

واضح رہے کہ امریکی صدر نے ڈیموکریٹک کانگریشنل کیمپین کمیٹی میں خطاب کیا اور روس، چین کا حوالہ دیتے پاکستان کو لپیٹ میں لیا۔

امریکی صدر نے الزام عائد کیا کہ میراخیال ہے پاکستان خطرناک ترین ممالک میں سے ایک ہے اور پاکستان کا ایٹمی پروگرام بے قاعدہ ہے، اس بات کا خدشہ ہےکہ اسے کوئی بھی استعمال کرسکتا ہے۔