Today news

Friday, September 30, 2022

ایران پر استعمار کا ناکام حملہ.

مفتی گلزار احمد نعیمی

اسلامی جمہوریہ ایران آجکل ہنگاموں ، جلوسوں اور احتجاجوں کی زد میں ہے۔یہ مصنوعی ہنگامے امریکہ اور اسکے حواریوں نے اسلامی جمہوریہ ایران پر مسلط کیے ہیں تاکہ انقلاب اسلامی کے نتیجے میں تشکیل پانے والے اسلامی روایات پر مبنی معاشرے کی بنیادوں کو کمزور کیا جا سکے۔ایران میں یہ بحران ایک کرد خاتون کی گرفتاری کے بعد امریکہ اور اسرائیل کی خفیہ ایجنسیوں نے ایک منصوبے کے تحت پیدا کیا۔اس خاتون کو 16 ستمبر 2022کو گرفتار کیا گیا۔پولیس کے مطابق یہ خاتون بہت حد تک غیر اخلاقی اور اسلام مخالف سرگرمیوں میں ملوث تھی۔دوتین دن کے بعد اس خاتون کی پولیس کی ہی زیر حراست موت واقع ہوگئی۔پولیس کہتی ہے کہ اسکی موت فطری ہے۔ کسی بیماری کی وجہ سے اسکی اچانک موت واقع ہوئی ہے۔لیکن استعماری ایجنسیوں کے حمایت یافتہ9 کچھ لوگ اس قتل کو مسلسل ہوا دے رہے ہیں۔انہوں نے عوام کو احتجاج کے لیے سڑکوں پر نکالا اور پولیس کا دعوی مسترد کر دیا۔

یہ حقیقت اظہر من الشمس ہے کہ امریکی سی آئی اے اور اسرائیلی موساد ہمیشہ ایسے موقعوں کی تلاش میں رہتی ہے۔جونہی اس خاتون کی موت واقع ہوئی تو امریکہ نے اس خاص پولیس جو ایران میں اخلاقیات کو کنٹرول کرنے کے لیے بنائی گئی ہے اس پر فورا پابندی لگا دی۔اسے دہشت گرد قرار دے دیا۔ساتھ ہی ایمنسٹی انٹر نیشنل نے آٹھ مزید افراد کے جاں بحق ہونے کی رپورٹ جاری کردی۔یہ سب کچھ ایک خاص منصوبے کے تحت ہوا ہے اور مزید جو کچھ ہورہا ہے اس کے پیچھے بھی امریکہ اور اس کے اتحادیوں کی گھناونی منصوبہ بندی ہے۔یہ کتنی بڑی بد دیانتی ہے کہ ایمنسٹی مظاہرین کی ہلاکت کی رپورٹ جاری کررہی ہے مگر مظاہرین نے ڈیوٹی پر موجود جن پولیس اہلکاروں کو شھید کیا انکا ذکر تک نہیں کیا۔ان بین الاقوامی دہشت گردوں سے میرا سوال ہے کہ اس کرد خاتون کی موت پر تو آپ پوری دنیا میں شور مچا رہے ہیں اور اسے انسانی حقوق کی خلاف ورزی کہہ رہے ہیں ۔جو آپ فلسطینی،عراقی شامی یمنی اور کشمیری مسلمانوں سے کررہے ہیں وہ کیا ہے؟ کیا وہ انسانی حقوق کی پامالی نہیں ہے؟۔اس خون ریزی کا کیا جواز ہے جو تم مسلمانوں کے علاقوں میں کررہے ہو۔؟ تمہاری خفیہ ایجنسیوں نے ایک خاتون کے مرنے پر ایران کے درجنوں شہروں کو بدامنی کی آگ میں جھونک دیا۔یہ کہاں کا انصاف ہے۔

محترم دوستان ذی وقار !

ہمیں اس حقیقت کو سمجھمے کی ضرورت ہے کہ استعمار نے ہمیشہ ہمارے نرم اہداف پر حملہ کر کے انتشار پیدا کیا ہے۔ہماری خواتین کے اندر احساس محرومی پیدا کر کے پھر اس سے سوئے استفادہ کرتا ہے۔ہماری خواتین کو حجاب کے حوالہ سے اکسایا جاتا ہے کہ تمہیں کپڑوں میں لپٹ کر زندگی گزارنے پر مجبور کیا جارہا ہے، تم سے تمہاری آزادی چھین لی گئی ہے ۔تمہیں اپنی آزادی کے لیے اٹھنا ہوگا۔وغیرہ وغیرہ۔استعمار ایران میں ایسی خواتین کی اسلامی روایات کے خلاف اٹھ کھڑے ہونے کے لیے بہت مدد کرتا ہے۔یہ ان اسلام مخالف قوتوں کی ہی سازش ہے کہ کچھ خواتین ان کے دام فریب میں آکر اپنے حجاب جلا رہی ہیں ،اپنے بال کاٹ رہی ہیں ۔وہ ان تمام چیزوں کو اپنی آزادی کے خلاف سمجھ رہی ہیں جو ایک بہت ہی قابل افسوس امر ہے۔وہ امریکہ اور اس کے حواریوں کے اکسانے پر ایرانی حکومت کو ایک ظالم حکومت کے طور پر دیکھ رہی ہیں۔اس لیے وہ اس کے خاتمے کا مطالبہ کررہی ہیں۔لیکن امریکہ اور اسلام مخالف قوتوں کوبخوبی پتہ ہونا چاہیے کہ ایران کسی کے لیے تر نوالہ نہیں ہے۔وہ پہلے بھی کوششیں کر چکے ہیں اور آئندہ بھی کرتے رہیں گے مگر اپنے مذموم مقاصد میں کبھی کامیاب نہیں ہونگے۔ایران میں اسلامی انقلاب زندہ باد ہے اور ہمیشہ زندہ باد رہے گا۔

محترم دوستان ذی احتشام !

ہمیں اصل مسئلہ سمجھنے کی کوشش کرنا ہوگی۔وہ اصل مسئلہ یہ ہے کہ مغرب اپنا تمام تر گند اسلامی ممالک میں پھیکنا چاہتا ہے۔وہ اپنے معاشرے کے تمام قبیح اور قابل نفرت اعمال میں ہم مسلمانوں کو بھی شریک کرنا چاہتا ہے۔مسلم معاشروں کے کچھ سادہ لو عوام یہ سمجھتے ہیں کہ مغرب ہمارے ساتھ خیر خواہی کررہا ہے۔حالنکہ حقیقتا بالکل ایسا نہیں ہے۔فرض کریں اگر اس خاتون سے زیادتی ہوئی بھی ہے تو ایران کے متعدد شہروں میں عوام کو احتجاج پر اکسا کر سرکاری اور عوامی املاک کو تباہ کرنے کا کیا مقصد ہے؟۔اسلامی جمہورہہ ایران کے ہیرو جنرل قاسم سلیمانی کی تصاویر کی بے حرمتی کرنے کا کیا مقصد ہے؟؟ان سب باتوں سے آپ اندازہ لگا سکتے ہیں کہ امریکہ اور اسرائیل کس حد تک ایرانی دشمنی میں حدیں پار کر چکے ہیں۔وہ شدید خواہش رکھتے ہیں کہ ایران کو ختم کر دیں۔لیکن ایران کبھی ختم نہیں ہوگا۔یہ ایک تاریخی ملک ہے ،یہ اسرائیل اور امریکہ کے ناپاک وجود سے پہلے بھی خریطہ عالم پر موجود تھا اور یہ ان دونوں اسلام مخالف ممالک کی تباہی کے بعد بھی منصہ شہود پر موجود رہے گا۔ان شاء اللہ۔

انسانیت کی بدقسمتی ہے کہ روس کے انہدام کے بعد امریکہ دنیا کی واحد سپر پاور بن گیا ہے۔جنوبی ایشیاء کے ممالک جنہوں نے روس کا شیرازہ بکھیرنے میں امریکہ کا ساتھ دیا تھا وہ آج کف افسوس مل رہے ہیں کہ انہیں امریکہ کی معاونت نہیں کرنی چاہیے تھی۔آج امریکہ مسلم ممالک کو اپنی کالونیز سمجھتا ہے اور امت کے وسائل پر قبضہ کرنے کی پھر کوشش میں۔ادھر امت میں قوت مزاحمت ختم ہوچکی ہے اور استعمار نے اسلامی ممالک میں اینے ایجنٹ حکمرانوں کی شکل میں بٹھا دیئے ہیں جو امریکہ کے ایجنڈے کے نفاذ میں مصروف ہیں۔صرف اسلامی جمہوریہ ایران وہ واحد ملک ہے جہاں ہمیں مزاحمت نظر آتی ہے اور وہ امریکہ اور اس کے گماشتوں کے لیے ایک چیلنج بنا ہوا ہے۔ان حالیہ ہنگاموں کے حوالہ سے رہبر معظم انقلاب اسلا۔ی نے دو ٹوک انداز میں اپنے دشمنوں پر واضح کردیا ہے۔انہوں نے کہا ہے کہ اسلامی جمہوریہ ایران بہت مستحکم ہے اور وہ اپنے دشمنوں کو انکی اوقات یاد دلا سکتا ہے۔

ہماری دعاء ہے اللہ تعالی اس عظیم ملک کی عظمت میں اضافہ فرمائے اور اس کے اندر فساد اور نا امنی ہیدا کرنے والوں کو نیست ونابود فرمائے۔

وماتوفیقی الا باللہ

سازشی تھیوریوں کے موجد .....

قادر خان یوسف زئی

سازشی نظریات جلد کیوں مقبول ہوجاتے ہیں ، اس سوال کا جواب ہمیں با آسانی اس وقت مل جاتا ہے، جب ہم اس امر کے انتظار میں ہوتے ہیں کہ مخالف کے خلاف کوئی ایسی تھیوری آئے جو پسندیدہ ہو۔ گروہوں کے درمیان سازشی تھیوریوں کی اس جنگ میں دو نوں جانب سے سچ ، جھوٹ کا بے دریغ استعما ل کیا جاتا ہے اور بالا ٓخر سوشل میڈیا اور ذرائع ابلاغ کے تمام پلیٹ فارمز کو مینج کرکے با آسانی معاشرے میں پھیلا دیا جاتا ہے۔ ایک تحقیق میں یہ امر سامنے آیا کہ میڈیا اور سوشل میڈیا نیٹ ورک کے ذریعے، سازشی تصورا ت کا انتخاب کرکے، گروہ بندیوں کا فائدہ اٹھا کرسازشی نظریات پھیلا دیئے جاتے ہیں جس پر مطالعہ بھی نہیں کیا جاتا ہے کہ اس کے منفی نتائج کس قدر ہولناک ہوسکتے ہیں۔سازشی تھیوری کو پھیلانے کے لیے میڈیا میں نظریات کے معیار کی درجہ بندی کی جاتی ہے ، جس میں سامعین ، ناظرین کے لیے کوریج ، نشر ہونے کا وقت، پرنٹ صفحہ وغیرہ کا باریکی سے استعمال کئے جانا اہمیت رکھتا ہے۔ ایک ہی موضوع کا بیک وقت مختلف ذرائع سے پھیلانے کے لیے مقبولیت کا تخمینہ اور طاقت کا اشاریہ کہ سامعین ، ناظرین اور قارئین پر کس حد تک اثر انداز ہوا جاسکتا ہے۔ پرائم ٹائم ایک انتہائی طاقت ور بم ہے جس میں سازشی نظریات کو لفظوں کے پُر فریب جال میں پھنسانے کے لیے پوری قوت سے معاشرے پر گرا دیتا جاتا ہے۔ اس طرح کے نظریات کی ترقی کی مقبولیت میں کم ازکم متنازع جذبات کے درجہ حرات میں عدم برداشت اور جذباتیت کو بڑھاوا دینا شامل ہوتاہے ۔
مملکت میں اس وقت متعدد سازشی تھیوریاں زیر گردش ہیں ، ان میں عالمی واقعات ، مظاہر ، اعداد و شمار اور اندرونی نظریات ایک دوسرے سے جڑے نظر آتے ہیں۔لیڈر نام نہاد سازشی نظریات کو عوامی جلسوں میں پھیلا کر پہلے اپنے کارکنان کی برین واشنگ کرتے ہیں ، پھر وہ اپنے علاقوں میں پھیل کر اسے عام افراد کے ساتھ گفتگو کا حصہ بنا لیتے ہیں ، بڑی تعداد حقیقت کی آگاہی کے لیے جب میڈیا کا رخ کرتی ہے تو ان کی درجہ بندیوں میں اپنے نظریات کے موافق چینل کا انتخاب کرتے ہیں، جس میں ان سازشی تھیوریوں کو درست ثابت کرنے کے لیے دلیلیں ، بحث مباحثے اور تنقید و تعریف کے خصوصی سکرپٹ کو عام عوام یا کارکنان میں راسخ کردیا جاتا ہے ، اس عمل کو پختہ کرنے کے لیے پریس کانفرنسیں ، انٹرویو ، ٹاک شوز اور پھر سوشل میڈیا میں خود ساختہ ٹرینڈ، لیڈر سمیت ان کے حواریوں کو بھی بند گلی میں لے جاتے ہیں ، جس سے نکلنے کے لیے ایک نئی سازشی تھیوری تیار کی جاتی ہے اور اس کے بعد ماضی کی طرح سب پرانے ٹرک کی نئی سرخ بتی کے پیچھے دوڑ پڑتے ہیں۔
اگر میڈیا میں سازشی تھیوریوں کی موجودگی بڑھ رہی ہے تو کیا اس کا مطلب یہ ہے کہ معاشرے میں ایسے جذبات بھی پروان چڑھ رہے ہیں۔ سخت الفاظ میں ہم اسے رد نہیں کرسکتے، بلکہ یہ انفرادی میڈیا آؤٹ لیٹس کی سامعین کو اپنی طرف متوجہ کرنے کی خواہش اور سیاست دانوں اور عہدیداروں کے سوچنے کے طریقے، انتخابی مہم میں دوسروں کی خاموںکو نشاندہی کرنے لگ جاتاہے اور یہاں تک کہ متنازع تقاریر اور بیانات کو نمک مرچ لگا کر باقاعدگی سے دوبارہ نشر کرتا رہتا ہے۔ایسے ٹی وی چینلز ہیں جو برسوں سے عالمی سازشی نظریات (غیر ملکی، نفسیات، تاریخ کے راز) پر کما رہے ہیں تاہم ریاستی مالی اعانت سے چلنے والے چینلز سیاسی سازشی تھیوریوں سے نمٹ سکتے ہیں۔ لیکن کتنے قارئین یا ناظرین نے سنجیدگی سے اس بارے میں سوچا کہ کون کس لیے اور کن مقاصد کے لیے سازشی نظریات کو اپنے ایجنڈے میں سر فہرست رکھتا رہتا
تو شاید ہم یہ سوچتے ہی نہیں؟ ’’میڈیالوجیا‘‘ کی درجہ بندی میں یہ سازشی تھیوری کس نمبر پر سامنے آتی اور کتنے ریٹنگ بڑھتی ہے ، بس یہی ایک مقصد رہ گیا ہے (میڈیا اکثر ایسے احتجاجی بیانیہ کو گانے میں ’’تبدیلی‘‘ کومقبولیت کے عروج پر یاد کرتا ہے)۔ عوام بتدریج اس امر پر یقین کرنے لگی ہے کہ وہ ہمیں سچ نہیں بتاتے، جو کچھ وہ نشر کرتے ہیں وہ کسی کے مفادات کا عکاس ہوتا ہے۔ ٹیلی ویژن میں حالات حاضرہ کے پروگراموں پر پاکستانیوں کا عدم اعتماد بھی ایک لحاظ سے سازشی تھیوری ہے، اس لیے سازشی ذہن رکھنے والے عناصر سازشی ٹیلی ویژن کو عدم اعتماد کے ساتھ دیکھتے ہیں، لیکن ٹی وی پر سازشی تھیوری کو ذاتی سازشی تھیوری کی مدد سے ختم نہیں کیا جا سکتا، اور پتا چلتا ہے کہ جنرل میڈیا اور ناظرین کا مزاج ایک جیسا ہے۔ وہ صرف ایک دوسرے کو اکساتے ہیں۔ سنسنی پیدا کرتے ہیں ، پروفیشنل ازم پر فروعی مفادات غالب آجاتے ہیں اور ان سب کا ایک ہی مطمع نظر ہوتا ہے اور وہ سازشی نظریات کا زیادہ سے زیادہ پھیلائو۔
دنیا میں سازشی نظریات کے پھیلاؤ کی وضاحت عالمی اور ملکی دونوں عوامل سے ہوتی ہے جن میں تاریخی، سماجی، سیاسی وغیرہ شامل ہیں۔ ماضی قریب میں لوگوں کی پھانسیاں، جیل میں اذیت و دبائو کو بڑھانا، جلاوطنی اور ملک بدری مکمل طور پر رد انقلابی سازش، غیر ملکی مداخلت، بیرونی و اندرونی ایجنٹ، غداری کے فتوئوں کو ایک تھیوری بنا کرپیش کیا جاتا ہے،لیکن اس کا نقصان ان کا زیادہ ہوتا ہے کہ اگر وہ مکمل طور پر ہر چیز پر منحصر ہوتے ہیں، مثلاً جدید نظریاتی تھیوریاں، تو سازشی خیالات سے ہی جنم لیتے ہیں۔ اگر یہ احساس ہے کہ آپ اپنی زندگی کے مالک ہیں اور آپ کے ارد گرد کیا ہو رہا ہے، تو آپ کو بیرونی قوتوں کا آلہ کار بننے پر کوئی مجبور نہیں کرسکتا، سازشی نظریات ایجاد کرنے کی ضرورت نہیں رہتی کیونکہ پھر سب آپ کے قابو میں ہوتا ہے۔کسی کے ساتھ کیا ہو رہا ہے اس کی وضاحت کرنے کی کلید خود ایک تھیوری میں پوشیدہ ہے۔ملک کے شدید دشمنوں کے نام بدل سکتے ہیں، اور دیگر نظریات آسانی سے بیکار کے احساس کے تحت فٹ ہو جاتے ہیں۔ درحقیقت یہ کسی کی اپنی شرمساری کا اظہار ہے۔اس طرح کی لائی جانے والی سازشی تھیوریوں سے تبدیلی لاکھوں لوگوں کے لیے روحانی میدان میں ایک بہت تکلیف دہ عمل ہوتا ہے، بہت سوں کو ریاست کی ضرورت نہیں تھی،وہ صرف اپنے آپ کی ضرورت کے تابع رہے اور یہ اب زندگی نہیں ہے،ریاست آج بھی بہت سے لوگوںکو محسوس نہیں کرتی کیونکہ ان کی سازشی تھیوریوں کے معاملات نے ریاست کو ناقابل تلافی نقصان پہنچایا ہے۔ دیکھنا ہوگا کہ وہ ریاست سے مخلص ہیں یا پھر ذاتی انا اور خود ساختہ سازشی نظریات  سے

سہ فریقی سیریز؛ پاکستانی ٹیم 2 اکتوبر کو اڑان بھرے گی

 

سیاسیات- پاکستان کرکٹ ٹیم انگلینڈ کے خلاف سیریز کا آخری ٹی20 انٹرنیشنل میچ کھیلنے کے فوری بعد انگلش اسکواڈ کے ہمراہ دبئی پہنچے گی، جہاں انگلش ٹیم کے ورلڈکپ اسکواڈ میں شامل کھلاڑی آسٹریلیا جائیں گے جبکہ قومی ٹیم کرائسٹ چرچ کے لیے روانہ گی۔

تین ملکی سیریز میں پاکستان، میزبان نیوزی لینڈ کے ساتھ تیسری ٹیم بنگلہ دیش ہوگی، پروگرام کے مطابق پاکستانی اور بنگلہ دیش کا میچ 7 اکتوبر کو کھیلا جائے گا جبکہ اگلے روز پاکستان اور نیوزی لینڈ کی ٹیمیں مدمقابل ہوں گی۔

11 اکتوبر کو ایک بار پھر پاکستان کا نیوزی لینڈ سے سامنا ہوگا، 13 اکتوبر کو بنگلہ دیش سے میچ کھیلنے کے بعد پاکستانی ٹیم آسٹریلیا کے شہر برسبین پہنچے گی، جہاں ورلڈکپ کے وارم اپ میچز کھیلے جائیں گے۔

قومی ٹیم اپنا پہلا وارم اَپ میچ 17 اکتوبر کو انگلینڈ سے شیڈول ہے جبکہ 19 اکتوبر کو پاکستان اور افغانستان کی ٹیمیں ایک دوسرےپر غلبہ پانے کی کوشش کریں گی۔

واضح رہے کہ ورلڈکپ میں پاکستان کا پہلا میچ روایتی حریف بھارت کیخلاف 23 اکتوبر کو کھیلا جائے گا۔

جے یو آئی نے بھی ٹرانس جینڈر ایکٹ کو شریعت کورٹ میں چیلنج کردیا

 

سیاسیات- حکومت کی اتحادی جماعت جمیعت علمائے اسلام (جے یو آئی) نے بھی ٹرانس جینڈر ایکٹ کو شریعت کورٹ میں چیلنج کر دیا۔

جے یو آئی نے دائر درخواست میں استدعا کی کہ ٹرانس جینڈر ایکٹ خلاف شریعت قرار دیا جائے، قرآن و سنت کیخلاف ملک میں کوئی قانون نہیں بن سکتا۔

شریعت کورٹ نے جے یو آئی کی درخواست ابتدائی سماعت کیلئے مقرر کر دی۔ وفاقی شرعی عدالت 3 اکتوبر پیر کو جے یو آئی کی درخواست پر ابتدائی سماعت کرے گی۔

واضح رہے کہ 26 ستمبر کو خواجہ سراؤں کے تحفظ سے متعلق ٹرانس جینڈر ایکٹ ترمیمی بل 2022ء پی ٹی آئی سینیٹر فوزیہ ارشد نے ایوان میں پیش کردیا ہے، جسے چئیرمین سینیٹ نے متعلقہ قائمہ کمیٹی کے سپرد کردیا۔

گزشتہ دنوں اسلامی نظریاتی کونسل کے اعلیٰ سطح اجلاس میں بھی کہا گیا کہ ٹرانس جینڈر قانون نت نئے معاشرتی مسائل پیدا کرنے کا سبب بن سکتا ہے اور یہ ایکٹ میں مجموعی طورپر متعدد دفعات شرعی اصولوں کے ساتھ ہم آہنگ نہیں ہیں۔

ٹرانس جینڈر اور گھریلو تشدد کے قانونی مسودے دستور کی روشنی میں پرکھے جائیں، قائد ملت جعفریہ پاکستان

 

سیاسیات- قائد ملت جعفریہ پاکستان علامہ سید ساجد علی نقوی نے کہاکہ معا شرے جائز حقوق کی فراہمی پر نہ صرف قائم رہتے ہیں بلکہ ان میں امن کا قیام بھی اسی بنیادی نکتے کے سبب ہوتاہے۔کیونکہ کسی بھی قانون کے معاشرے پر براہ راست اثرات مرتب ہوتے ہیں ، ٹرانس جینڈر بل کی بعض شقوں پر اعتراضات اٹھائے جارہے ہیں جنہیں نظر انداز نہ کیاجائے ۔ ہم روز اول سے متوجہ کرتے چلے آرہے ہیں کہ آئین کی بالادستی اور قانون کی حکمرانی کے اصول کو نعرے کی بجائے عملی طور پر نافذ کیا جائے ، ٹرانس جینڈر اور گھریلو تشدد بارے متعارف کرائے گئے قوانین دستورپاکستان میں درج مسلمہ اقدار،مروجہ قوانین ۔سینٹ میں پیش کر دہ ترمیمی و قرار داد اور وفاقی شریعت عدالت میں دائر پٹیشن اور اسلامی نظریاتی کونسل کی سفارشات تمام کو ہم آہنگ کرکے مثبت طریقے سے آگے بڑھا یا جائے ۔ان خیالات کا اظہار انہوں نے ٹرانس جینڈر بارے اٹھنے والے تحفظات، احتجاج اور اس کی بعض شقوں پر رد عمل میں کیا۔

قائد ملت جعفریہ پاکستان علامہ سید ساجد علی نقوی نے کہاکہ ہماراواضح اور دوٹوک موقف ہے کہ یہاں تمام قوانین آئین کے رہنما اصولوں کی روشنی میں مرتب کئے جائیں ، 73ءکے متفقہ دستور میں واضح کردیاگیا کہ پا کستان میں کوئی بھی قانون رہنمااصولوں اور بنیادی حقوق سے متصادم نہیں ہوگا۔

ان کا کہنا تھا کہ دستور پاکستان کی مسلمہ اقدار ، مروجہ قوانین ،سینٹ میں پیش کر دہ ترمیمی بل و قرار داد، وفاقی شرعی عدالت میں دائر پٹیشن اور اسلامی نظریاتی کونسل کی سفارشات تمام کو ہم آہنگ کرکے ٹرانس جینڈر بل اور گھریلو تشدد بل کو از سر نو ترتیب دیا جائے ۔

پاکستان نے امن کیلیے عظیم قربانیاں دیں، جنرل ندیم رضا

 

سیاسیات- چیئرمین جوائنٹ چیفس آف اسٹاف کمیٹی جنرل ندیم رضانے کہا ہے کہ پاکستان ایک امن پسند ملک ہے جو باہمی احترام اور پرامن بقائے باہمی کے آئیڈیل پر قائم ہے۔

پاکستانی قوم اور ہماری مسلح افواج نے علاقائی استحکام اور عالمی امن کیلیے عظیم قربانیاں دی ہیں، ہم بدلتی ہوئی علاقائی اور عالمی صورتحال سے پوری طرح باخبر ہیں اور کسی بھی ملک کو غیر مستحکم علاقائی صورتحال کا فائدہ اٹھاتے ہوئے پاکستان

مہمان خصوصی نے فارغ التحصیل ہونے والے کیڈٹس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ اس پیشہ ورانہ زندگی کے آغاز میں یہ یاد رکھیں کہ آپ پاکستان کی فضائی سرحدوں کے دفاع کی ایک بھاری ذمے داری اپنے کندھوں پر اٹھانے جا رہے ہیں  لہٰذا، امن اور جنگ دونوں صورتوں میں یہ آپ کی اولین ترجیح ہونی چاہیے کہ آپ مستقبل کے پیشہ ورانہ چیلنجز کا مقابلہ کرنے کیلیے اپنی بہترین صلاحیتوں کا استعمال کریں۔

ایسا کرنے کے لیے آپ کو ہمارے عظیم پیشروں کی شجاعت کے کارناموں سے اپنے جذبوں کو تحریک دینی ہے اور پاکستان کے پرچم کو ہمیشہ سر بلند رکھنا ہے، اس سے قبل پی اے ایف اکیڈمی اصغر خان، رسالپور میں 146ویں جی ڈی(پی)، 92ویں انجینئرنگ، 102ویں ایئر ڈیفنس، 92، 94ویں رائل سعودی ایئر فورس انجینئرنگ کیڈٹس کے کورسز کی گریجویشن تقریب منعقد ہوئی،چیئرمین جوائنٹ چیفس آف اسٹاف کمیٹی جنرل ندیم رضا اس موقع پر مہمان خصوصی تھے، پاسنگ آٹ پریڈ کی تقریب میں کل 115ایوی ایشن کیڈٹس، 10 جنٹلمین کیڈٹس ، 22رائل سعودی ایئر فورس کیڈٹس گریجویٹ ہوئے۔

مہمان خصوصی نے فارغ التحصیل ہونے والے کیڈٹس کو برانچ انسگنیا اور نمایاں کارکردگی دکھانے والے گریجویٹس کو ٹرافیوں سے نوازا، جنرل سروس ٹریننگ میں بہترین کارکردگی پر چیئرمین جوائنٹ چیفس آف اسٹاف کمیٹی کی ٹرافی ایوی ایشن کیڈٹ اکیڈمی انڈر آفیسر صبیح الدین نے اپنے نام کی جبکہ انجینئرنگ ڈسپلن میں بہترین کارکردگی پر چیف آف دی ائیر سٹاف ٹرافی ایوی ایشن کیڈٹ سکواڈرن انڈر آفیسر محمد ثاقب شیر کو دی گئی۔

فلائنگ ٹریننگ میں شاندار کارکردگی پر چیف آف دی ائیر اسٹاف بہترین پائلٹ ٹرافی ایوی ایشن کیڈٹ احسن علی خٹک نے اپنے نام کی، 92ویں رائل سعودی ائیر فورس کیڈٹس کورس کی بہترین الائیڈ کیڈٹ ٹرافی رائل سعودی ائیر فورس کے کیڈٹ فہد مبارک الجوہانی نے جیتی جبکہ 94ویں رائل سعودی ائیر فورس کیڈٹس کورس کی بہترین الائیڈ کیڈٹ ٹرافی رائل سعودی ائیر فورس کے کیڈٹ ولید خالد عبداللہ الترکی کو دی گئی، کالج آف ایروناٹیکل انجینئرنگ میں مجموعی طور پر بہترین کارکردگی کی اعزازی تلوار ایوی ایشن کیڈٹ اسکواڈرن انڈر آفیسر محمد ثاقب شیر نے حاصل کی جبکہ کالج آف فلائنگ ٹریننگ میں مجموعی طور پر بہترین کارکردگی پر ایوی ایشن کیڈٹ محمد سعد بنگش کو اعزازی تلوار سے نوازا گیا۔

افغانستان میں شیعہ تعلیمی ادارے کے باہر خودکش دھماکا؛ ۳۰ افراد شہید متعدد زخمی

 

سیاسیات- افغان دارالحکومت ایک مرتبہ پھر خوفناک دھماکے سے لرز اٹھا، شیعہ تعلیمی ادارے کے باہر خودکش دھماکے کے نتیجے میں ۳۰ افراد شہید جب کہ متعدد زخمی ہوگئے۔

غیر ملکی میڈیا کے مطابق خودکش دھماکا افغانستان کے دارالحکومت کابل کے ہزارہ اکثریتی علاقے دشت برچی میں تعلیمی ادارے کے باہر ہوا جہاں داخلہ ٹیسٹ جاری تھے۔

کابل پولیس کے ترجمان کا کہنا ہے کہ دھماکے کی زد میں آکر اب تک ۳۰ افراد جاں بحق ہوچکے ہیں جب کہ کئی زخمی ہیں جنہیں اسپتال منتقل کردیا گیا ہے۔

پولیس ترجمان کا کہنا ہے کہ تاحال کسی بھی دہشت گرد گروپ نے خودکش دھماکے کی ذمہ داری قبول نہیں کی ہے تاہم ماضی میں ہزارہ برادی پر ہونے والے اکثر حملوں کی ذمہ داری داعش اور دیگر دہشت گرد تنظیموں نے قبول کی تھی۔

واضح رہے کہ 2021 میں طالبان نے اقتدار سنبھالنے کے بعد افغان عوام کی حفاظت یقینی بنانے کے عزم کا اظہار کیا تھا تاہم گزشتہ کچھ مہینوں میں تواتر سے مساجد اور شہری علاقوں میں دھماکے ہوئے ہیں۔

عمران خان معافی مانگنے خاتون جج کے پاس گئے لیکن ملاقات نہ ہوسکی


 سیاسیات- چئیرمین تحریک انصاف ( پی ٹی آئی)  جج زیبا چوہدری سے معذرت کرنے کے لیے عدالت پہنچے تاہم ان کی عدم موجودگی کے باعث واپس روانہ ہوگئے۔

پی ٹی آئی کے چئیرمین عمران خان اپنے وکیل کے ہمراہ ایڈیشنل سیشن جج زیبا چوہدری کی عدالت پہنچے تاہم  معزز جج عدالت میں موجود نہیں تھیں۔

عمران خان نے ریڈر سے کہا کہ  میڈم زیبا کو بتانا کہ عمران خان آیا تھا۔ان  سے معذرت کرنا چاہتا تھا اگر میرے الفاظ سے ان کی دل آزاری ہوئی ہوتو۔ جج زیبا چوہدری کی عدم موجودگی کے باعث عمران خان واپس روانہ ہوگئے۔

اس قبل عمران خان  ایڈیشنل  سیشن جج ظفر اقبال کی عدالت میں پیش ہوئے۔ عدالت نے دفعہ 144 کی خلاف ورزی کے مقدمے میں عمران خان کی ضمانت منظور کرلی۔

جج ظفر اقبال نے استفسار کیا کہ کیا عمران خان پرالزام صرف ایما کا ہے۔ پراسیکیوشن نے ایماء کی حد تک شواہد پیش کرنے ہیں۔کیا ایماء کی حد تک آپ کے پاس کوئی شواہد ہیں؟ عمران خان کے وکیل کا کہنا تھا کہ کہا کہ لفظ ایما صرف لفظ کی حد تک ہے۔

Thursday, September 29, 2022

گلگت بلتستان، معاشی امکانات

 ڈاکٹر عشرت حسین

زیر نظر مضمون اُن صوبوں اور علاقوں کے اقتصادی حالات اور امکانات کے بارے میں عمومی آگاہی پیدا کرنے کی کوشش کا حصہ ہے جنھیں ملک کے دیگر ترقی یافتہ حصوں جیسے فوائد حاصل نہیں ۔ اس سلسلے کا پہلا مضمون بلوچستان کی ترقی کی بابت چند ماہ پہلے شائع ہوا تھا۔ یہ مضمون گلگت بلتستان کے معاشی اور اقتصادی حالات کا جائزہ لیتا ہے ۔

ملک کے شمالی حصے میں واقع گلگت بلتستان دنیا کے چار بلند ترین پہاڑی سلسلوں میں گھرا ہوا ہے ۔ یہ خطہ قدرتی حسن سے مالا مال ہے ۔ یہاں دنیا کے تین بلند ترین پہاڑی سلسلے ، ہمالیہ ، ہندوکش اور قراقرم آپس میں ملتے ہیں ۔ قراقرم کی بلندترین چوٹیاں زیادہ تر اسی صوبے میں واقع ہیں ۔گلگت بلتستان کا 90 فیصد علاقہ پہاڑوں پر مشتمل ہے ۔ چار فیصد رقبے پر جنگلات ہیں جبکہ 4.2فیصد رقبے پر خودرو نباتات ۔ کل رقبے کے تقریبا 1.2فیصد حصے پر کاشت کاری ہوتی ہے ۔کاشت کاری کے قابل اس علاقے پر بیس لاکھ کے قریب آبادی کی گزر بسر ہے ۔ یہ آبادی شمال میں چین کی سرحد سے لیکر جنوب میں خیبرپختونخوا تک مختلف مقامات پر دس اضلاع میں بکھری ہوئی ہے ۔ آبادی کا ارتکاز بہت کم ہے جو 24 افراد فی مربع کلومیٹر ہے ۔ اسلئے انسانی آبادیوں کے درمیان طویل فاصلہ ہے ۔ شدید اور طویل موسم سرما کے دوران یہاں عملی طور پر تمام سرگرمیاں معطل ہوکر رہ جاتی ہیں ۔ اس دوران کچھ مقامی آبادی کی پاکستان کے دیگر علاقوں کی طرف ہجرت دیکھنے میں آتی ہے۔

گلگت بلتستان پاکستان کی شہ رگ کا بھی درجہ رکھتا ہے کیوں کہ دریائے سندھ کا 70فیصد پانی اسکے گلیشیروں سے بہہ کر آتا ہے ، جب کہ اسکے جنگلات دریاکے بہائو کو کنٹرول کرتے ہیں ۔ گلیشیروں کے تیزی سے پگھلنے کا عمل پاکستان میں خوراک اور توانائی کی پیداوار اور پانی کے استعمال کے امکانات کیلئے خطرناک ہے ۔ حالیہ دنوں میں نہ صرف گلگت بلتستان اور خیبرپختونخوا بلکہ سندھ اور بلوچستان (کوہ سلیمان کے پہاڑی سلسلے تک ) پر جو شدید موسلادھار بارشیں ہوئیں، ماضی میں ان کی کوئی نظیر نہیں ملتی ۔ ہزاروں انسانی جانوں کا نقصان،33 ملین افراد کی نقل مکانی، وسیع پیمانے پر فصلوں اور مویشیوں کی تباہی نے گلوبل وارمنگ کے بڑھتے ہوئے خطرے کی بھی تصدیق کردی ہے ۔ جس سے نمٹنے کیلئے موثر اقدامات درکار ہونگے۔

سرکاری پالیسی کے تحت ہونیوالی دو اہم سرگرمیوں نے گلگت بلتستان کے عام شہریوں کی زندگیوں کو بہت متاثر کیا ہے۔ یہ قراقرم ہائی وےکی تعمیر اور رورل سپورٹ پروگرام ہیں۔ معاشی مواقع کی عدم دستیابی کی وجہ سے آبادی نہ صرف جغرافیائی بلکہ نسلی اور فرقہ وارانہ سطح پر بھی تقسیم ہے۔ تین اہم برادریاں اپنے عقیدے کی بنیاد پر ایک دوسرے پر بھروسا نہیں کرتیں ۔ ان کے درمیان تعاون کی فضا مکدر رہتی تھی لیکن ترقیاتی پروگرام سماجی فضا پر بھی اثر انداز ہورہے ہیں۔ گلگت بلتستان کی پہاڑی وادیاں جو گاڑیوں کی آمدورفت کے لیے ناقابل رسائی تھیں قراقرم ہائی وے کی تعمیر کے بعد کھول دی گئی ہیں ۔ اس نے مقامی معیشت کا بڑی قومی مارکیٹ کے ساتھ رابطہ قائم کرکے زبردست تبدیلی برپا کی ہے۔قراقرم ہائی وے اس خطے کو جدید خیالات، طرز زندگی، پیداوار کی تکنیک سے متعارف کرانے کے علاوہ اس کاملک کے دیگر حصوں سے رابطہ بہتر اور آسان بناتی ہے۔ یہ سڑک درحقیقت انسانی ذہانت کا ایک غیر معمولی کارنامہ ہے ۔ درہ خنجراب ہائی وے کا ٹرمینل پوائنٹ دنیا کی سب سے بلند بین الاقوامی سرحدی گزرگاہ ، اورقراقرم ہائی وے پر سب سے اونچا مقام ہے۔ آخر کار، بہت سی انسانی جانوں کے ضیاع کے بعد قراقرم ہائی وے صوبے کو باقی ملک کے علاوہ چین سے بھی جوڑنے میں کامیاب ہو گئی۔ اب یہ دیکھنے میں آیا ہے کہ ہر نسلی اور مذہبی گروہ کو تعمیر اور ترقیاتی پروگراموں سے فائدہ ہواہے ۔اس سے کشیدگی کم ہوئی ہے ،گرچہ مکمل طور پر ختم نہیں ہوئی۔ غربت میں کمی آئی ہے اور یہ بعض اضلاع، خانہ بدوش اور غیر مقامی آبادی تک محدود ہے۔ اس انضمام کے مکمل ہونے میں اب بھی بہت سی رکاوٹیں اور مشکلات حائل ہیں۔ مثال کے طور پر، اسکردو اور گلگت سے ہوائی رابطے قائم ہو چکے ہیں اور نجی ہوا باز کمپنیوں کو چارٹر پروازوں کی اجازت مل گئی ہے لیکن ہوائی اڈے کی سہولیات کو اپ گریڈ کرنا باقی ہے۔ قراقرم ہائی وے نے نہ صرف دنیا کے کونے کونے سے آنیوالے ٹریکروں، ہائیکرز، کوہ پیماؤں کو اجازت دی ہے بلکہ پاکستان کے دوسرے حصوں سے بھی سیاحوں کو اپنی طرف متوجہ کیا ہے۔ قراقرم ہائی وے کے تھاکوٹ سے رائے کوٹ تک کے حصے کی تعمیر نو کیلئے موجودہ سی پیک منصوبے سے لگنے والے وقت میں مزید کمی آئے گی اور دو بڑے دیامر بھاشا اور داسو ڈیموں کی تعمیر میں بھی مدد ملے گی جو تعمیر شدہ سڑک کے 279 کلومیٹر کے دائرے میں آتے ہیں۔ حسن ابدال سے تھاکوٹ تک فور لین ہزارہ موٹروے پہلے ہی وقت کی بچت کیساتھ ساتھ محفوظ ڈرائیونگ کی سہولت فراہم کرتی ہے ۔ ثقافتی ورثے کو محفوظ بنانے کیلئے اقدامات کیے گئے ۔ ہنزہ وادی میں سات سوسال پرانے بالیت قلعے ، نو سوسال پرانے علیت قلعے اور شیگار قلعے کی بحالی اور خپلو محل کے تحفظ سے گلگت بلتستان کی کشش میں مزید اضافہ ہوگیا ہے ۔

اس خطے کی بہتری کے لیے کی جانے والی ابتدائی سرگرمی 1982 ء میں سماجی اورفلاحی ترقیاتی کاوش کی صورت دیکھنے میں آئی تھی جو آغاخان رورل سپورٹ پروگرام کے تحت کی گئی ۔ اُس وقت یہ ایک دور افتادہ اور سفر اور قیام کے لیے بہت مشکل علاقہ تھا۔ زیادہ تر آبادی غربت کی لکیر سے نیچے تھی ۔ آغا خان رورل سپورٹ پروگرام نے تعلیم، صحت اور زراعت کی بہتری پر توجہ مرکوز کی ۔ اس نے مقامی انفراسٹرکچر ، جیسا کہ آبی گزرگاہیں تعمیر کیں۔ اس پروگرام کی کوششوں سے مقامی افراد کی آمدنی میں اضافہ اور غربت میں کمی ہونے لگی ۔ اس کاوش کو ملکی اورغیر ملکی ایجنسیوں ، جیسا کہ عالمی بینک تک نے تسلیم کیا۔ اس سپورٹ پروگرام کے مثبت تجربے نے حکومت کو بھی گلگت بلتستان رورل سپورٹ پروگرام قائم کرنے کی تحریک دی۔ اس کی کاوشوں کے خدوخال وہی تھے جو آغا خان رورل سپورٹ پروگرام طے کرچکا تھا۔ جس کے تحت چھ سو دیہی تنظیمیں پورے علاقے میں قائم کی گئیں ۔ یہ تنظیمیں مقامی وسائل کو متحرک کرنے میں بہت فعال ہیں۔ وسائل جمع کرنے کے لیے بچت کی اسکیمیں متعارف کرائی گئیں۔ ایسی سرگرمیاں شروع کی گئیں جو مقامی آبادیوں کی ضروریات سے عین مطابقت رکھتی تھیں۔ کاشت کاروں کو چھوٹے قرضے دیے گئے تاکہ زرعی پیداوار میں اضافہ ہو اور چھوٹے پیمانے پر کاروبار کرنے والے اپنے کاروبار کو وسیع کرسکیں ۔ لوکل سپورٹ آرگنائزیشنز نے مقامی آبادی کو ٹیکنکل معاونت فراہم کی۔

ایران میں حالیہ فسادات کے پس پردہ عوامل (حصہ دوم)

علی احمدی

2)۔ یوکرین جنگ اور ورلڈ آرڈر میں تبدیلی


بین الاقوامی تعلقات عامہ کی سوجھ بوجھ رکھنے والا ایسا کوئی شخص نہیں ہوگا، جس نے معروف امریکی تھیوریشن جان مرشمائر کے نظریات کا مطالعہ نہ کیا ہو۔ وہ یوکرین اور روس سے متعلق امریکہ اور اس کے اتحادیوں کی جانب سے اختیار کی گئی پالیسیوں کے اصلی ترین مخالفین میں شمار ہوتے ہیں۔ انہوں نے کئی سال پہلے ان حالات کی پیشگوئی کر دی تھی، جن کا مشاہدہ آج ہم مشرقی یورپ میں کر رہے ہیں۔ سیاسی امور کا ماہر شخص بہت اچھی طرح اس بات سے واقف ہے کہ روس اور یوکرین کے درمیان جنگ کا مسئلہ صرف اس حد تک محدود نہیں کہ روس نے دس کلومیٹر پیشقدمی کر لی ہے یا دو کلومیٹر پیچھے ہٹ گیا ہے۔ یہ مسئلہ حتی یوکرین کے بعض علاقوں کے علیحدگی اختیار کرکے روس سے ملحق ہو جانے سے بھی ماوراء ہے۔
ایڈولف ہٹلر کی شکست اور دوسری عالمی جنگ کے خاتمے کے بعد دنیا میں امریکہ کی مرکزیت میں ورلڈ آرڈر تشکیل پا گیا۔ سابق سوویت یونین کی تحلیل کے بعد اس آرڈر کو مزید تقویت حاصل ہوئی۔ اس ورلڈ آرڈر میں حکمفرما قوانین سرمایہ دارانہ نظام پر استوار تھے، جو شمالی امریکہ اور مغربی یورپ میں رائج تھا۔ لیکن 24 فروری 2022ء کے دن روس نے جس فوجی کارروائی کا آغاز کیا، اس کا نشانہ یوکرین کی فوجی تنصیبات سے زیادہ مذکورہ بالا ورلڈ آرڈر تھا۔ روس کی جانب سے چلنے والے میزائلوں اور گرجتے سوخو جنگی طیاروں میں بہت آسانی سے موجودہ ورلڈ آرڈر میں تبدیلی کا مشاہدہ کیا جا سکتا ہے۔ روسی حکمران اس نتیجے پر پہنچ چکے تھے کہ اگر وہ نیٹو کی توسیع پر مزید خاموشی اختیار کریں گے تو مغربی طاقتوں کے سامنے بے بس ہو کر رہ جائیں گے۔ لہذا انہوں نے انتہائی اقدام کا فیصلہ کر لیا۔
امریکہ اور اس کے اتحادیوں نے روس کا مقابلہ کرنے کیلئے فوجی طریقہ کار کی بجائے اقتصادی پابندیوں کا انتخاب کیا۔ یہ وہ ہتھکنڈہ تھا جسے وہ گذشتہ چالیس برس سے ایران کے خلاف استعمال کرتے آئے تھے۔ لیکن امریکہ سمیت دیگر مغربی طاقتیں جس حقیقت سے غافل تھیں، وہ روس کے پڑوس میں ایسے ملک کا وجود تھا، جو گذشتہ طویل عرصے سے امریکہ کا حریف چلا آرہا تھا اور اس کا نام چین ہے۔ دوسری طرف ایران گذشتہ چالیس برس سے امریکہ اور مغربی طاقتوں کی جانب سے شدید اقتصادی جنگ اور پابندیوں کا کامیابی سے سامنا کر رہا ہے اور اس میدان میں اسے بہت زیادہ تجربہ اور مہارت حاصل ہوچکی ہے۔ اسی طرح ایران خود کو خطے میں فوجی اور اقتصادی طاقت کے طور پر منوا چکا ہے۔ لہذا امریکہ اور اس کے اتحادیوں کے خلاف جنگ میں ایران، روس اور چین کا اتحاد ایک بڑی طاقت کے طور پر ابھر کر سامنے آیا ہے۔
ایسے حالات میں امریکہ، برطانیہ اور اسرائیل کی انٹیلی جنس ایجنسیز نے ایران میں بدامنی اور عدم استحکام پھیلانے کا فیصلہ کیا، تاکہ ایک تیر سے کئی نشانے لگا سکیں۔ ایک تو ایران میں حکمفرما دیرینہ دشمن یعنی اسلامی جمہوری نظام پر کاری ضرب لگا سکیں۔ دوسرا اسلامی جمہوریہ ایران کو اندرونی بحران کا شکار کرکے اسے علاقائی اور بین الاقوامی سیاست سے دور کرسکیں۔ تیسرا اپنے مطلوبہ ورلڈ آرڈر کیلئے خطرہ بن جانے والے روس، چین اور ایران کے درمیان مضبوط اتحاد میں دراڑ ڈال سکیں۔ چوتھا خطے میں جاری اسلامی مزاحمتی تحریک کو کمزور کرسکیں، جس نے اسرائیل کی غاصب صہیونی رژیم کا گلا دبا رکھا ہے اور اس کے خلاف ایجاد کردہ گھیرا روز بروز تنگ کرتی جا رہی ہے۔ ایران میں فسادات اور ہنگاموں کا سہارا لینے سے امریکہ اور اس کی اتحادی قوتوں کی بے بسی اور لاچاری ظاہر ہوتی ہے۔
3)۔ ویانا مذاکرات اور ایران کا شجاعانہ موقف
امریکی صدر جو بائیڈن نے اپنی صدارتی الیکشن مہم کے دوران اعلان کیا تھا کہ وہ ایران کے ساتھ جوہری مذاکرات بحال کرکے جوہری معاہدے میں واپس جائیں گے۔ دوسری طرف ایران میں حجت الاسلام والمسلمین سید ابراہیم رئیسی کی سربراہی میں تشکیل پانے والی نئی حکومت نے بھی مذاکرات جاری رکھنے کا اعلان کیا تھا اور اس بات پر زور دیا تھا کہ جب تک امریکہ گذشتہ غلطیوں اور وعدہ خلافیوں کا ازالہ نہیں کرتا اور آئندہ معاہدے سے یکطرفہ طور پر دستبردار نہ ہونے کی مضبوط ضمانت فراہم نہیں کرتا، نہ تو بورجام میں اس کی واپسی قبول کی جائے گی اور نہ ہی کوئی نیا معاہدہ انجام دیا جائے گا۔ کچھ ماہ پہلے ویانا میں یورپی یونین اور ایران میں بورجام کی بحالی کیلئے مذاکرات کا آغاز ہوا، لیکن اب تک امریکہ کی ضد کی وجہ سے کوئی خاطرخواہ پیشرفت حاصل نہیں ہوسکی۔
امریکہ اپنی فطرت کے مطابق ہمیشہ کی طرح ایران پر دھونس جمانے کی کوشش کر رہا ہے، لیکن موجودہ ایرانی حکومت جو "انقلابی حکومت" کے طور پر معروف ہوچکی ہے، اس کے سامنے سختی سے ڈٹی ہوئی ہے۔ اب تک امریکہ کئی بار دھمکی اور لالچ کے ذریعے ایران کو جوہری معاہدہ بحال کرنے پر مجبور کرنے کی کوشش کرچکا ہے، لیکن اسے بری طرح ناکامی کا سامنا کرنا پڑا ہے۔ ایران میں حالیہ فسادات اور ہنگاموں کی ایک بڑی وجہ امریکہ کی جانب سے ایران کو جوہری معاہدہ بحال کرنے کیلئے بلیک میل کرنا ہے۔ امریکہ کو جب سفارتکاری کے میدان میں بری طرح ذلت آمیز شکست کا سامنا کرنا پڑا ہے تو وہ ان اوچھے اور پست ہتھکنڈوں پر اتر آیا ہے اور دہشت گرد عناصر کی مدد سے ایران میں بدامنی پھیلا کر ایرانی حکومت کو اپنے ناجائز مطالبات ماننے پر مجبور کرنا چاہتا ہے، لیکن تاریخ کا جائزہ لینے سے یہی ظاہر ہوتا ہے کہ اسے ان پست ہتھکنڈوں کا کوئی فائدہ حاصل نہیں ہوگا۔



بدترین جنسی استحصال کی کرب ناک مثالیں

قادر خان یوسف زئی

کمسن بچوں اور بچیوں سے جنسی استحصال کی خبریں دل دہلانے والی ہوتی ہیں، ایسے واقعات سے انسانیت کا سر شرم سے جھک جاتا ہے۔ کسی بھی معاشرے کی تہذیب و روایات کے ساتھ سماجی اقداروں کا موازنہ کرکے شرمناک واقعات کے اسباب و سدباب پر غور کرنا ناگزیر ہوگیاہے۔ سخت سزاؤں کا خوف دلانے کے لئے قانون سازی و جرم ثابت کرنے کے لئے تفتیشی عمل ایک دقت طلب مرحلہ ہے۔ کسی بھی ایسے واقعے کو ثابت کرنے میں تاخیر سے متاثرہ بچے سنگین نفسیاتی الجھنوں کا شکار بن جاتے ہیں۔ آئے روز کسی نہ کسی علاقے میں جنسی زیادتیوں کے واقعات نے معاشرتی انحطاط پزیری کے اصل اسباب کو جاننے کی ضرورت کو اجاگر کیا ہے تاہم بااثر شخصیت اور سماجی و اخلاقی تقاضوں کے نام پر زبان بندی ایک ایسا مرض بن جاتا ہے جس میں مجرم بے خوف و متاثرہ فرد سنگین مسائل میں اپنی زندگی کو بوجھ سمجھنے لگتے ہیں۔  بچوں سے جنسی استحصال پر مخصوص ذہن رکھنے والے اپنی سیاسی پوائنٹ اسکورنگ اور ریٹنگ بڑھانے کے لئے بھی متنازع معالات میں مخالف طبقات کے خلاف منفی پراپیگنڈا شروع کردیتے ہیں، کسی کے غلط فعل کو کسی مذہب یا قومیت سے جوڑنے کا عمل کبھی بھی اچھا نہیں سمجھا جاتا تاہم جہاں مذہب کے نام پر ایسے واقعات سامنے آئیں تو پھر معاشرتی بگاڑ کی درستگی کے لئے یہ سمجھنا انتہائی ضروری ہوتا ہے کہ غیر جانب دار اور تعصب سے بالاتر ہو کر بغیر کسی صنفی امتیاز،نگ نسل اورمذہب اس قسم کے واقعات کی روک تھام کے لئے آگاہی کی ضرورت  کو اپنایاجائے۔
پاکستان میں مخصوص مذہب بیزار طبقہ جنسی استحصال کے واقعات میں مذہبی شخصیات کے ساتھ ساتھ اُس کے ادارے، نظام اور درس و تدریس کو نشانہ بناکر یہ ظاہر کرنے کی کوشش کرتے رہتے ہیں کہ تعلیمی ادارے و درسگاہیں مبینہ فحاشی و جنسی استحصال کی گڑھ ہیں۔ یہ ایک قابل مذمت سوچ و نظریہ ہے جس کومخصوص مفادات کے استعمال کرنے کی حوصلہ شکنی تمام طبقات کی یکساں ذمے داری بنتی ہے فرانسیسی مذہبی رہنماؤں کے ہاتھوں لاکھوں بچوں کے ساتھ جنسی استحصال کی رپورٹس نے انسانیت کو ہلاکر رکھ دیا۔ فرانس اپنے مذہبی آزاد پسند نظریات کی وجہ سے دیگر مذہبی اکائیوں کے لئے متنازع ملک کی حیثیت رکھتا ہے۔ اس ملک کے مقرر کردہ ایک کمیشن کی رپورٹ میں انکشاف کیا گیا کہ فرانسیسی پادریوں نے گذشتہ 70 برسوں میں دو لاکھ زائد ایسے بچوں کا جنسی استحصال کیا جن کی عمریں 10سے13برس کے درمیان تھیں۔بچوں سے جنسی استحصال کے واقعات کا کسی بھی مذہبی ادارے کے رہنماؤں اور سرپرستوں کے ساتھ وابستگی ان گنت لوگوں کے اعتماد کو ناقابل تلافی نقصان پہنچانے کا سبب بن جاتا ہے۔
فرانس کے علاوہ مشرقی یورپ کے ملک پولینڈ میں بھی سیاسی اثر رسوخ رکھنے والے کلیسائی اداروں میں بچوں کے ساتھ جنسی زیادتیوں کے بڑی تعداد میں واقعات سامنے آئے۔ بچوں سے جنسی زیادتی کے واقعات پر تحقیق کرنے والے Jesuit پادری ایڈم ذاک کا کہنا تھا کہ 2018سے لے کر گذشتہ برس کے آخر تک پولینڈ کے صرف ایک چرچ میں 368جنسی استحصال کے واقعات رپورٹ ہوئے جبکہ کلیسائی اہلکاروں کی طرف سے جنسی زیادتی کے واقعات میں بچے اور بچیوں کی بڑی تعداد بتائی گئی ہے کہ ایک عشرے سے بھی زیادہ عرصے تک جنسی استحصال کیا جاتا رہا ہے۔ ایک رپورٹ کے مطابق آسٹریا میں 2010تک800جنسی استحصال کے واقعات رپورٹ ہوئے جب کہ آئرلینڈ میں 14500، جرمنی میں 3677، فلپائین میں 200، آسٹریلیا میں 15000اور امریکہ میں ایک اندازے کے مطابق ایک لاکھ بچوں کو جنسی استحصال کا نشانہ بنایا گیا۔انگلینڈ اور ویلز میں سرگرم کئی مذہبی تنظیموں پر بچوں کے جنسی استحصال میں ملوث ہونے کا الزام عائد کیا گیا.ایک آزاد تحقیقاتی رپورٹ میں بھی ان الزامات کا ذکر ہے۔رپورٹ کے مطابق انگلینڈ اور ویلز میں بچوں کے جنسی استحصال میں ملوث کل38 تنظیمیں شامل ہیں.اس انکوائری میں  2015 سے لے کر 2020 کے دوران متعدد مذہبی تنظیموں کی چھتری تلے رونما ہونے والی سرگرمیوں اور کارروائیوں کا تفصیل سے جائزہ لیا گیا۔ اس دوران یہ واضح ہوا کہ بچوں کے ساتھ اس استحصالی عمل میں ملوث افراد یا تو مذہبی تنظیموں کے ملازم تھے یا پھر ان سے وابستہ افراد تھے اور جنسی استحصال کے تمام واقعات کو رپورٹ بھی نہیں کیا گیا۔تفتیش کاروں نے اپنی رپورٹ میں بیان کیا کہ مذہبی تنظیموں سے وابستہ افراد کی یہ استحصالی سرگرمیاں یقینی طور پر طاقت و اختیار کا غلط استعمال تھا۔ ایسے افراد کو مذہبی اکابرین کی سرپرستی اور کسی حد تک حمایت بھی حاصل تھی۔
نوبل امن انعام یافتہ کیلاش ستیارتھی کی ' کیلاش ستیارتھی چلڈرن فاؤنڈیشن‘ (کے ایس سی ایف)  کی تحقیقاتی رپورٹ کے مطابق پولیس ہر سال بچوں کے خلاف جنسی استحصال کے درج تین ہزار شکایات کے بارے میں کوئی ثبوت اکٹھا کرنے میں ناکام رہتی ہے اور یہ معاملات عدالت پہنچنے سے پہلے ہی بند کر دیے جاتے ہیں۔یہ تحقیقاتی رپورٹ بھارتی حکومت کے جرائم کا اعدادوشمار رکھنے والے ادارے نیشنل کرائم ریکارڈز بیورو(این سی آر بی) کی طرف سے 2017 سے  2019 کے درمیان حاصل کردہ ڈیٹا پر مبنی ہے۔ بھارت میں پربھوداسی نامی مبینہ روایت ساتویں صدی کے درمیان پروان چڑھی۔ مذہب کے نام غریب اور معصوم بچیوں کا بدترین جنسی استحصال کرنا شروع کیا جاتا ہے۔ انڈین نیشنل ہیومن رائٹس آف کمیشن کے مطابق 2013 میں دیو داسیوں کی تعداد 4 لاکھ 50 ہزار تھی جو 2017 میں پچاس فیصد بڑھی۔ زیادہ تر پربھوداسیاں آندھراپردیش، کرناٹکا اور مہاراشٹر میں ہیں، ان دیوداسیوں کی عمر 11 سے 15 برس کے درمیان ہوتی ہے۔ خیال رہے بھارت اور اریکہ کا شمار ان ملکوں میں ہوتا ہے جہاں خواتین، بچیوں اور لڑکیوں کے ساتھ سب سے زیادہ جنسی استحصال کیا جاتا ہے۔
 سال 2020 میں پاکستان کے چاروں صوبوں، اسلام آباد، آزاد کشمیر اور گلگت بلتستان میں بچوں پر جنسی تشدد کے مجموعی طور 2960 واقعات رپورٹ ہوئے۔یر سرکاری تنظیم ساحل کی جانب سے جاری رپورٹ کے مطابق پچھلے سال کی نسبت اس سال ان واقعات میں 4 فیصد اضافہ ہوا۔ساحل کی رپورٹ کے مطابق ان واقعات سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ اس سال روزانہ 8 سے زائد بچے جنسی تشدد کا شکار ہوئے۔ اس سال بھی پچھلے سال کی طرح لڑکیوں کے ساتھ جنسی تشدد کی شرح لڑکوں کی نسبت زیادہ رہی-جاری اعدادو شمار کے مطابق سال 2020 میں 1510 لڑکیاں اور 1450 لڑکوں کو جنسی تشدد کا نشانہ بنایا گیا۔ایسوسی ایٹڈ پریس کے مطابق مذہبی اسکولوں اور مدرسوں مں بچوں کے ساتھ جنسی استحصال کا رجحان انتہائی حد تک بڑھا ہوا ہے۔ تاہم اس طرح کے زیادہ تر واقعات منظر عام پر نہیں آتے۔ اے پی کے مطابق اس کی دو بڑی وجوہات میں ایک تو یہ کہ پاکستان جیسے ملک میں مذہبی مبلغ یا مدرسے کے اساتذہ بہت زیادہ با اثر ہیں اور دوسرا یہ کہ جنسی استحصال یا زیادتی کے معاملے پر بات کرنے کو شجر ممنوعہ سمجھا جاتا ہے۔ اسی وجہ سے نہ تو معاشرے میں ان موضوعات پر زیادہ تر بات کی جاتی ہے اور نہ ہی عوام سطح پر اسے تسلیم کیا جاتا ہے۔
جنسی استحصال و کم عمر بچوں، بچیوں سے لے کر لڑکیوں اورخواتین کے ساتھ زیادتی کے واقعات کا اباافراط ہونا ایک انسانی المیہ ہے۔ مذہب کی آڑ میں ایسے شرم ناک جرائم کرنے والے اپنی جنسی خواہشات کے غلام تو قرار دیئے جاسکتے ہیں لیکن انہیں کسی بھی مذہبی اقدار سے نہیں جوڑا جانا چاہے۔ کوئی بھی مذہب اس قسم کے غلیظ و شرم ناک حرکات کی اجازت نہیں دیتا لیکن جنسی مریض جو کسی بھی لبادے میں ہوں، وہ جنسی استحصال میں مذہب، رشتہ اور انسانی و اخلاقی اقدار کو روند ڈالنے پر یقین رکھتے ہیں۔ اس مرحلے پر سب اہم و قابل توجہ ذمے داری والدین پر عائد ہوتی ہے کہ اپنے بچوں اور بچیوں کے تحفظ کے لئے اُ ن اقدامات پر توجہ مبذول کریں اور احتیاطی تدابیر اختیار کریں جو وقتاََ فوقتاََ سماجی مسائل کے حل سے منسلک تنظیمیں، ادارے یا حکومت جاری کرتے رہتے ہیں،انہیں جنسی استحصال کے سدباب کے لئے اُن اسباب کی حوصلہ شکنی کرنا ہوگی جس کے سبب مذہبی و انسانی اقداروں کو برباد کردیا جاتا ہے۔ بالا سطور میں درج اعداد و شمار اُن کمیشن کی رپورٹ سے اخذ کئے گئے جنہوں نے جنسی استحصال کے بڑھتے واقعات پر ذمے داروں کا تعین کیا۔ جنسی استحصال اور زیادتی کے واقعات سے بچاؤ کے لئے ہر سطح پر آگاہی، دنیا کے تمام ممالک کو یکساں دعوت فکر دیتی ہے کہ وہ ایسا مربوط نظام اپنائیں جس میں سنگین جرائم کا ارتکاب کم سے کم ہو

امریکہ کا نام نہیں لینا، بس صرف کھیلنا ہے، عمران خان کی آڈیو لیک سامنے آگئی

سیاسیات- امریکی سائفر سے متعلق پی ٹی آئی ک سربراہ، سابق وزیرِاعظم عمران خان اور اعظم خان کی آڈیو لیک سامنے آگئی۔ اس آڈیو کلپ میں عمران خان کو کہتے سنا جا سکتا ہے کہ اب ہم نے صرف کھیلنا ہے، امریکا کا نام نہیں لینا، بس صرف یہ کھیلنا ہے کہ اس کے اوپر کہ یہ ڈیٹ پہلے سے تھی۔ اس پر اعظم خان نے جواب دیا کہ میں یہ سوچ رہا تھا کہ اس سائفر کے اوپر ایک میٹنگ کر لیتے ہیں، آپ کو یاد ہے تو آخر میں ایمبیسڈر نے لکھا تھا کہ ڈیمارچ کریں۔ اعظم خان نے مزید کہا کہ اگر ڈیمارچ نہیں بھی دینا تو میں نے سوچا ہے کہ اس کو کور کیسے کرنا ہے۔؟ آڈیو میں اعظم خان نے اپنی تجویز بتاتے ہوئے آگے کہا کہ ایک میٹنگ کریں، شاہ محمود قریشی اور فارن سیکریٹری کی، جس میں شاہ محمود لیٹر پڑھ کر سنائیں گے اور وہ جو بھی پڑھ کر سنائیں گے، اس کو کاپی میں بدل دیں گے، وہ میں منٹس میں کر دوں گا، فارن سیکریٹری نے یہ چیز بنا دی ہے۔ یاد رہے کہ اعظم خان سابق وزیرِاعظم عمران خان کے پرنسپل سیکریٹری رہ چکے ہیں۔
واضح رہے کہ کچھ روز قبل وزیرِاعظم ہاؤس میں ہونے والے اہم اجلاس کی آڈیوز بھی لیک ہوئی تھیں۔ یہ آڈیوز لیک ہونے پر وزیرِاعظم شہباز شریف نے تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے قومی سلامتی کمیٹی کا اجلاس طلب کر رکھا ہے۔ آڈیو لیکس پر وزیرِ اعظم کی زیرِ صدارت قومی سلامتی کمیٹی کا اجلاس آج سہ پہر ہوگا۔ اجلاس میں حساس اداروں کے سربراہان خفیہ ریکارڈنگز کے معاملے پر کمیٹی کو بریف کریں گے۔ اجلاس میں وزیرِاعظم آفس کی سکیورٹی کے معاملات کا ازسرِنو جائزہ بھی لیا جائے گا۔

Wednesday, September 28, 2022

مجازی حقیقت میں گہری ڈبکی

 قادر خان یوسف زئی
​​


ہمارے ملک کے مسائل تجزیہ کاروں اور ماہرین پر بے شمار سوالات اٹھاتے ہیں کہ ان کی اصل ترجیحات کیا ہیں۔ حکمت عملی کے انتخاب کے لیے کیا معیار مختص کیا جاتا ہے، اس سے شاید صرف وہی ہی نہیں بلکہ ہم بھی لاعلم ہیں۔ آج کے دور میں بڑے پیمانے پر ہدف کا تعین کرنا مشکل ہے۔ خاص طور پر اس کے نتائج کا مرتب ہوکر کسی بھی طرح کے منصوبے کو مجسم کرنا اور بھی مشکل ہوجاتا ہے۔ سیاستدان زور دیتے ہیں کہ موجودہ غیر یقینی حالات کی ذمے داری ان پر عائد کرنا یکطرفہ عمل ہے ، اگر پالیسیاں ناکام ہو رہی ہیں تو اس کے مثبت نتیجے کو حاصل کرنا ان کے لیے آسان نہیں۔ قومی ایشوز کو موجودہ کردار پر قابو پانے کے لیے ’’جنٹل مین سیٹ ‘‘کا حصہ بنا کر اس کی اصلاح کرنا ضروری ہو گا۔ حقیقی مسائل کو حل کرنے کے لیے ایک ذریعہ کے طور پر تحقیقی عمل کی طرف ترقی یافتہ ممالک کی تاریخ سے مدد لی جاسکتی ہے۔
مؤخر الذکر پر غور کرتے ہوئے، یہ یاد رکھنا چاہیے کہ موجودہ حالات کا ایک ٹھوس پس منظر ہے، جس کا مطلب اس خیال کا واضح طریقہ کار کی سمت متعین ہونا ہے کہ کس ادارے یا شخص کو کیا کرنے کی ضرورت ہے اور تھی، نیز اسے مقبول بنانے والوں کے لیے نئے بیانیہ یا کوشش کیا قابل رسائی تھی۔ ہم مقبولیت کی انتہا پر پہنچنے کے طریقہ کار کے بارے میں بات کرسکتے ہیں کہ پیچیدہ نظاموں میں مقبولیت کا عروج حاصل کرکے اسے سنبھالنا اور اس کا درست استعمال کس طرح کیا جاسکتا تھا۔ خیال رہے کہ مقبولیت ایک عام جملہ نہیں، بلکہ پیچیدہ بیانیہ کو عوام تک پہنچانے کا ایک طریقہ بھی ہے۔ دریں اثنا، سیاسی ہم آہنگی کے اصولوں کو پیش کرنا ایک بہت مشکل کام ہے۔مقبولیت میں خطرات کی حد تک آزادی فراہم کرنا کا ایک وہم ہے اور وہ کئی بار ایک دوسرے کو جوڑ سکتے اور مضبوط کر سکتے ہیں۔ ایک نظام اس خطرے سے مکمل طور پر محفوظ ہو سکتا ہے، لیکن ان کے امتزاج سے بے دفاع ہے۔سب سے پہلے بیشتر سیاست دانوں او ر عملیات میں بعض اداروں کا ہمارے ملک میں فطرت، انسانی ساختہ اور سماجی شعبوں میں خطرناک مظاہر اور نگرانی کے لیے ایک قومی نظام بنانے کی فوری ضرورت کی طرف توجہ مبذول کرنے میںترجیحات کو جانچنا ضروری ہے ۔ ان کے بغیر، پیشن گوئی کا اُفق یقینی طور پر بہت کم واضح ہے۔
خطرے کے معاشرے کو خوابوں اور ذمہ داریوں کے معاشرے سے بدلنا چاہیے، جس میں معاشرہ رجحان’’فضول کی تہذیب‘‘ سے بدل جائے گا۔فروعی مقاصد کے لیے کسی کو پکڑ کر آگے نکل جانے کی تھیوری غلط ثابت ہوچکی ۔ یہ تمام تعمیرات ملک کے سیاسی اور تکنیکی مستقبل کے بارے میں طریقہ کار کے ماہرین کی عکاسی کے خاکے میں باضابطہ طور پر فٹ ہیں۔کئی دہائیوں قبل ہمارا ملک عالمی سطح پر ایک خصوصی طاقتور وجود رکھتا تھا اسے بعض عناصر انتہائی متنازع قرار دے سکتے ہیں تاہم نامعلوم وجوہات کی بناء پر، انا پرستی اور اقتدار حاصل کرنے کے لیے منصوبہ بندیوں پر بہت زیادہ توجہ منفی پر دی گئی۔ راقم کی رائے میں، تنقید اپنے آپ میں کبھی ختم نہیں ہو سکتی اور اس کے برعکس، ہمیشہ تعمیری تبدیلیوں کے خیالات پر مشتمل ہونا چاہیے۔ خاص طور پر جب بات پیشین گوئی کی ہو۔
ملک کے مستقبل کے بارے میں جو کچھ سوچا جا رہا ہے ، بادی النظر لگتا ہے کہ اس پر غور وخوص کرنا ہم سب نے چھوڑ دیا ہے ، بیشتر ادارے وہ کام نہیں کررہے جو ان کے فرائض میں شامل میں ہیں، مقبولیت کی بلندی تک پہنچنے والوں کی سوئی ایک مقام پر اٹک چکی ، تاویلیں اور گھما پھیرا کر بیانیہ بنانے والوں نے بالآخر اپنا مدعا ظاہر کردیا کہ ان کے نزدیک کون ، کیوں اور کتنا ضروری ہے اور اس کے مقاصد کیا ہیں۔پچھلی دو دہائیوں نے ’’پاکستان کے مستقبل پربریک تھرو اسٹریٹجی ‘‘ کے تجزیہ کے لیے بہت سے نئے تجربات کئے جاچکے ہیں ، تاہم اسے مکمل طور پر استعمال کرنے میں کامیاب نہیں ہو سکے لیکن ان کے پاس اب بھی بہت کچھ ہے۔
عوام جو وقت کے سلگتےہوئے سوالات کے جوابات کے لیے قابل احترام طریقہ کار کے ماہرین تلاش کر رہے تھے، اب ان میں بھی دلچسپی کم ہوتی جا رہی ہے اور یہ سب ماضی کے مقابلے میں بالکل مختلف نظر آتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ مستقبل قریب میں ہمارے ملک کی سیاسی اور تکنیکی ترقی کی حکمت عملی کے بارے میں کوئی جامع تجزیاتی جواب نہیں مل رہا۔ اس کی وجہ ارباب اختیار کا انتہائی پراناوطیرہ اور ساتھ ہی ساتھ مملکت کی ترقی میں مثبت پہلوؤں کو دیکھنے کے لیے ان کی عدم دلچسپی ہے۔بظاہر بنیادی طور پر تسلیم شدہ عناصر کے ساتھ پورے اختراعی دور کے بارے میں بات کرنی چاہیے جیسے بنیادی ڈھانچے کا معیار، مختلف قسم کے وسائل کی دستیابی اور لاگت، قانونی ماحول کا ہموار کام کرنا، سیاسی و غیر سیاسی عدم استحکام کو ختم کرنا وغیرہ۔
تاریخ، بلاشبہ، ضمنی مزاج کو نہیں جانتی، وہ اپنے آپ کو مکمل طور پر نہیں دہرا سکتی۔ تاہم، ایک طویل وقت کے لیے ماضی کو قبول حد تک متاثر کر سکتے ہیں۔حقیقی سیاسی فیصلوں میں طاقت کا انحصار ایک بار پھر تیار شدہ طریقوں کی سوچ اور ضرورت پر، ان کا دفاع کرنے کی خواہش پر ہے۔ مزید یہ کہ بہت کچھ بہت آہستہ آہستہ بدل رہا ہے۔ مملکت تاریخ کے اس نازک دوراہے پر ہے جس کا اندازہ نہ تو ارباب اختیار لگانا چاہتے ہیں اور سیاسی جماعتوںکو شاید اس کا ادارک نہیں ، ان کے فروعی مفادات ، اجتماعی ضروریات پر حاوی ہو رہے ہیں ، ادارے مقبولیت کے پیمانے پر شخصیت کے انتخاب پر فیصلے اور سوچ بچار کررہے ہیں ، اس امر سے لاتعلق ہوکر کہ ان میں صلاحیت کا وہ معیار موجود بھی ہے یانہیں ، جس سے منجدھار میں پھنسی کشتی کو باہر نکالا جاسکے ۔ تجربہ کار اور ناتجربہ کار ایک ہی صف میں کھڑے نظر آرہے ۔ ان میں محمود ایاز جیسی خصوصیات ، صرف سیاسی مقاصد کے حصول کے لیے نظر آتی ہے۔ سمجھنا ہوگا کہ سب اچھا نہیں ہے ۔ آگہی کا وہ معیار ناپید ہے جو ہمارا خاصہ ہوا کرتا تھا ۔ صرف ایسے بیانیہ کا زور و شور ہے جو خود ساختہ ذرائع سے پیدا کردہ ہے ۔ اسے عوام کی وہ مقبولیت حاصل نہیں جس کا مقابلہ بعض شخصیات سے کیا جاسکے۔

Tuesday, September 27, 2022

اسحاق ڈار وزیراعظم شہباز شریف کے ہمراہ پاکستان پہنچ گئے

 

سیاسیات- امریکا اور برطانیہ کے بھرپور دورے کے بعد وزیراعظم شہباز شریف وطن واپس پہنچ گئے۔ 5 سال سے خود ساختہ جلا وطن لیگی رہنما سابق وزیر خزانہ اسحاق ڈار بھی وزیراعظم کے ہمراہ پہنچے ۔

وفاقی وزیر خزانہ مفتاح اسماعیل اور وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات مریم اورنگزیب بھی وطن واپس پہنچ گئے ہیں۔

وزیراعظم شہباز شریف اور ان کا وفد خصوصی طیارے میں لندن سے براہ راست اسلام آباد پہنچا ۔

ایوی ایشن ذرائع کے مطابق وزیراعظم اور ان کے وفد کو لانے والے طیارے نے نور خان ائیر بیس پر لینڈ کیا۔

وطن واپس پہنچنے پر اسحاق ڈار نے اپنے بیان میں کہا کہ اللہ کے فضل وکرم سے اپنے وطن واپس آگیا ہوں ، پوری کوشش کروں گا کہ پاکستان جس بھنور میں پھنسا ہے اس سے نکالیں۔

اسحاق ڈار نے کہا کہ پاکستان کو معاشی بھنور سے نکالنے کی پوری کوشش کریں گے، قائد نواز شریف اور وزیراعظم نے وزیرخزانہ کی ذمہ داری دی ہے، 98 اور  2013 میں بھی ملک کو معاشی بھنور سے نکالا تھا۔

پاکستان روانگی سے قبل میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے اسحاق ڈار کا کہنا تھا کہ پاکستان چار سال سے جس بھنور سے گزرا ہے وہ کسی سے ڈھکا چھپا نہیں ہے۔

ان کا کہنا تھا اللہ کا خاص کرم ہے کہ جس دفتر سے نکل کر اپنے میڈیکل کے لیے لندن آیا تھا، آج اسی دفتر میں اللہ نے واپس بلوایا ہے۔

اسحاق ڈار کا کہنا تھا نواز شریف کی قیادت میں 2023 سے 2017 تک میں ہم دنیا کی 18ویں معیشت بننے جا رہےتھے، کم ترین شرح سود تھی اور گروتھ ریٹ بھی بلند تھی، دیگر مائیکرو انڈیکیٹرز بہترین اور بلند سطح پر تھے اور زرمبادلہ کے ذخائر بلند ترین سطح پر تھے، پاکستانی روپیہ بھی مستحکم تھا۔

انہوں نے کہا کہ کوشش ہو گی گرتی ہوئی ملکی معیشت کو روکیں اور اس کی سمت درست کریں۔

اسحاق ڈار کا کہنا تھا میرے خلاف 20 سال کے ٹیکس ریٹرنز جمع نہ کرانےکا جعلی کیس تھا، مین نے کبھی ٹیکس ریٹرن جمع کرانے میں تاخیر نہیں کی۔

بلوچستان کے 4 اضلاع میں ضمنی بلدیاتی انتخابات کیلئے پولنگ جاری

 

سیاسیات- بلوچستان کے4 اضلاع میں ضمنی بلدیاتی انتخابات کے لیے پولنگ جاری ہے۔

 موسی خیل،مستونگ،دکی اور لورالائی کی 11یونین کونسلز کے57 وارڈز میں پولنگ ہو رہی ہے۔

موسیٰ خیل کی 4 یوسیز کے 28 وارڈز، مستونگ کی 4 یوسیز کے 22 وارڈز ، دکی کی 2 یونین کونسلز کے 6 وارڈز اور لورالائی کی 1یوسی کے 1 وارڈ میں پولنگ ہو رہی ہے۔ 

پولنگ کا عمل شام 5 بجے تک بغیر  وقفے کے جاری رہےگا، ضمنی بلدیاتی انتخابات کے حوالے سے تمام پولنگ اسٹیشنزحساس قرار دیےگئے ہیں۔

تمام وارڈز میں انتخابات کے لیے 223 امیدوار میدان میں ہیں، تمام 57 وارڈز میں مجموعی طور پر 34 ہزار 919 ووٹرز ووٹ کاسٹ کریں گے۔

خیال رہےکہ  بلوچستان کےان وارڈز میں پولنگ بارش اور سیلاب کی وجہ سے مؤخرکی گئی تھی۔

اسمارٹ فونز کی وجہ سے آپ کو ہر وقت جاسوسی کا خطرہ رہتا ہے

 

سیاسیات- جاسوسی کے لیے آوازیں سننے والی کچھ ڈیوائسز استعمال کی جاتی ہیں لیکن ہمیں سب سے زیادہ جس چیز سے خطرہ ہے وہ ہمارے اپنے ہی سمارٹ فونز ہیں جنہیں بنا چھوئے ہی ہیک کیا جا سکتا ہے اور انہیں بطور ریکارڈنگ ڈیوائس استعمال کیا جا سکتا ہے، حتیٰ کہ واٹس ایپ جیسی محفوظ ایپس کے معاملے میں بھی۔

وزیراعظم ہاؤس سے لیک ہونے والی آڈیو ٹیپس کے اسکینڈل کی وجہ سے کئی لوگ بشمول انٹیلی جنس ایجنسیاں بھی حیران ہیں۔ ایجنسیاں اس وقت یہ پتہ لگا رہی ہیں کہ وزیراعظم ہاؤس میں جاسوسی کے آلات کیسے نصب کیے گئے۔ وزیراعظم ہاؤس اور وزیراعظم آفس کی باقاعدگی کے ساتھ تلاشی لی جاتی ہے کہ کہیں کوئی جاسوس ڈیوائس تو نصب نہیں کی گئی لیکن وزیراعظم، وزیراعظم آفس کے اسٹاف اور دیگر کے موبائل فونز کو جاسوس ڈیوائسز سے پاک کرنے کے حوالے سے کوئی طریقہ کار وضع نہیں کیا گیا۔

انٹیلی جنس ایجنسیوں کے ذرائع نے میڈیا کو جاسوسی کے مختلف طریقوں سے آگاہ کیا لیکن آج کے دور میں سب سے خطرناک صورتحال سمارٹ فونز کی وجہ سے پیدا ہو رہی ہے جو تقریباً سب ہی کے ہاتھ میں ہوتا ہے اور ہماری روزمرہ کی زندگی کا حصہ بن چکا ہے۔

غیر محسوس انداز سے ہمارے سمارٹ فونز، ٹیبلیٹس حتیٰ کہ لیپ ٹاپس کو ریکارڈنگ ڈیوائس میں تبدیل کیا جاسکتا ہے چاہے یہ ڈیوائسز بند ہی کیوں نہ ہوں، یا پھر یہ انٹرنیٹ سے جڑی ہوئی کیوں نہ ہوں۔ عام فون کالز یا موبائل کالز کو محفوظ نہیں سمجھا جاتا لیکن جو بات چونکا دینے والی ہے وہ یہ ہے کہ اب واٹس ایپ جیسی ایپلی کیشنز بھی ریکارڈنگ کیلئے استعمال کی جا سکتی ہیں جس کیلئے سمارٹ فون میں ایک فائل کے ذریعے خفیہ سافٹ ویئر انسٹال کرنا ہوتا ہے اور یہ کام اکثر موبائل فون صارف کے علم میں لائے بغیر ہی ہو جاتا ہے۔

ان ذرائع کا کہنا ہے کہ تقریباً پانچ طرح کی جاسوس ڈیوائس (لسننگ ڈیوائس) دنیا میں موجود ہیں۔ چھپائے جانے والے ٹرانسمیٹرز مخصوص کمرے میں نصب کر دیے جاتے ہیں جس کے بعد بات چیت کی نگرانی کی جاتی ہے۔ خفیہ جاسوسی کیلئے، یہ ٹرانسمیٹرز کسی چیز جیسا کہ گھڑی، کیلکیولیٹر، ایش ٹرے، میز کے نیچے وغیرہ نصب کیے جاتے ہیں۔

یہ ٹرانسمیٹرز ریمورٹ سے بھی چل سکتے ہیں، ان میں ریکارڈنگ کے فیچرز بھی ہوتے ہیں اور انکرپشن بھی۔ ایسی لسننگ ڈیوائسز بھی ہوتی ہیں جو پاور لائنز کے ذریعے پاور حاصل کرکے مستقل جاسوسی کیلئے استعمال کی جاتی ہیں۔ انہیں ایسی جگہوں پر استعمال کیا جاتا ہے جہاں تک رسائی مشکل ہو۔ ایک اور جاسوسی کا نظام ہے جسے فکسڈ آپریشن کہا جاتا ہے جو دشمن اہداف کیخلاف مستقل بنیادوں پر استعمال کیا جاتا ہے۔

یہ ڈیوائس کسی مخصوص جگہ پر نصب کر دی جاتی ہے۔ ایک اور لیزر ٹیکنالوجی بھی ہے جسے جاسوسی کیلئے استعمال کیا جاتا ہے۔ جس کمرے کی جاسوسی کرنا ہو وہاں شیشے کی کھڑکی کے ذریعے لیزر ٹیکنالوجی کے ذریعے آوازیں سنی جاتی ہیں۔ لیکن پردے وغیرہ کی رکاوٹ سے یہ سسٹم ناکارہ ہو جاتا ہے۔ انٹرنیٹ پر دستیاب معلومات کے مطابق سمارٹ فونز کو اس انداز سے پروگرام کیا جا سکتا ہے کہ یہ وائبریٹ نہ کریں، ان کی گھنٹی نہ بجے یا پھر کوئی علامت ظاہر نہ ہو جس سے یہ پتہ لگے کہ ان پر کال کی جا رہی ہے۔

اس کے بعد انہیں خود کار انداز سے کال اٹینڈ کرنے کیلئے پروگرام کیا جاتا ہے تاکہ کمرے میں ہونے والی بات چیت سنی جا سکے۔ بات چیت سننے کیلئے کوئی سازشی شخص فون کو کسی مخصوص جگہ پر چھوڑ سکتا ہے یا پھر کسی کو غیر قانونی طور پر ٹیکسٹ کے ساتھ ای میل بھیج سکتا ہے جو کھولے جانے کی صورت میں ٹارگٹ فون پر ضروری سافٹ ویئر ڈاؤن لوڈ کر دے گا۔ اس کے بعد ہیکر دنیا کے کسی بھی حصے سے اس فون کو کنٹرول کرکے کسی دوسرے فون سے کمرے میں ہونے والی بات چیت سن سکتا ہے۔

اس کے علاوہ، کمپیوٹر ورلڈ کی ایک رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ نئی سمارٹ فون ایپس آپ کے فون کا مائیکرو فون اور کیمرا استعمال کرکے آپ کا ڈیٹا حاصل کر رہی ہیں۔ یہ ایپس آپ کے فون کا مائیکرو فون استعمال کرکے بات چیت سننے کا کام کر رہی ہیں۔ احتیاطاً، کہا جاتا ہے کہ سمارٹ فون صارفین ڈاؤن لوڈنگ کرتے وقت دھیان رکھا کریں۔

وائی فائی کنکشن کے معاملے میں بھی احتیاط کا مظاہرہ کرنا چاہئے۔ غیر محفوظ نیٹ ورکس سے کنیکٹ ہونے کی وجہ سے کوئی اور یہ دیکھ پائے گا کہ ہم اپنے فون پر کیا کر رہے ہیں۔ کہا جاتا ہے کہ جب سمارٹ فون پر جی ایس ایم فیچر غیر فعال ہوتا ہے تو اس کے باوجود فون میں موجود کیمرے کو جاسوسی کیلئے استعمال کیا جا سکتا ہے۔

سمارٹ فونز کو ویڈیو ریکارڈ کرنے اور فوٹوز کھینچنے کیلئے استعمال کیا جا سکتا ہے اور باتیں سننے کیلئے بھی۔ چونکہ ایسا ممکن نہیں کہ بغیر کیمرے والی موبائل فون ڈیوائس خریدی جائے، اس لیے ایسا خطرہ ہر وقت موجود ہے جسے نظر انداز کرنا نہیں چاہیے۔